قومی اسمبلی: فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل منظور

0
70

قومی اسمبلی میں فاٹا کوخیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا بل منظور کر لیا گیا،وزیرقانون محمودبشیرورک نے بل ایوان میں پیش کیا ،بل کے حق میں 229 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ11 نے مخالفت کی۔

ا سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی خصوصی طور پر شریک ہو ئے۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم بل پیش کیا۔

جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے اجلاس کابائیکاٹ کیا، کم تعداد ہونے کی وجہ سے ایوان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ سب کا بل ہے، ڈیڑھ سو سال کی تاریخ بدلنی ہے، کچھ دیر انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تو ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں،فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

بل کی منظوری سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائےقانونی اموربیرسٹرظفر اللہ نے کہا کہ تمام جماعتیں فاٹا اصلاحات پرمتفق ہوگئی ہیں، فاٹا اصلاحات کاآئینی بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ علاقہ غیر آج اپنا ہوگیا ہے۔

ذرائع کےمطابق فاٹااصلاحات کےحوالےسے پارلیمانی رہنماؤں کا پانچواں اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں بیرسٹر ظفر اللہ نے فاٹا اصلاحات کا آئینی مسودہ پیش کیا تاہم حکومتی اتحادیوں نے فاٹا اصلاحات کےحوالےسے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اتحادیوں کاکہناتھا کہ ہماری قومی اسمبلی کی 12 سیٹیں قائم رکھی جائیں اور ایک قومی اسمبلی کی نشست کےساتھ2 صوبائی اسمبلی کی نشستیں دی جائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY