ترکیہ کی دہلی دھماکے میں ملوث ہونے کے بھارتی میڈیا کے دعوؤں کی تردید

0
770

ترکیہ نے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انقرہ کا اس ہفتے دہلی میں ہونے والے کار بم دھماکے سے کوئی تعلق ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق ترکیہ کے سینٹر فار کمبیٹنگ ڈس انفارمیشن (ڈی ایم ایم) نے ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوشیال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا کے بعض اداروں میں جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی رپورٹس غلط ہیں۔

بھارتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ کا بھارت میں دہشت گرد کارروائیوں سے تعلق ہے اور وہ دہشت گرد گروہوں کو لاجسٹک، سفارتی اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل بھارتی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ دہلی کار بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے ہوئے تھے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دھماکے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کے دو اداروں کی سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انقرہ بھارت کے خلاف سلیپر سیلز کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر میں تمام دہشت گرد گروپوں کو لاجسٹک، سفارتی اور مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی میڈیا کے بعض اداروں میں جان بوجھ کر شائع کی جانے والی یہ خبریں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے چلائی جانے والی بدنیتی پر مبنی غلط معلوماتی مہم کا حصہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دعویٰ کہ ترکیہ بھارت یا کسی دوسرے ملک کو ہدف بنا کر ’انتہا پسندی کی سرگرمیوں‘ میں ملوث ہے، سراسر گمراہ کن ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

مزید کہا گیا کہ ترکیہ کو نشانہ بنانے والی ایسی بے بنیاد اور گمراہ کن رپورٹس دراصل بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہمارے ملک کی کاوشوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، عوام الناس سے گزارش ہے کہ ایسی غلط معلوماتی خبروں پر یقین نہ کریں۔

دوسری جانب، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جب کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے حکام کو ہدایت دی کہ اس واقعے کے ہر مجرم کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کیا جائے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے گزشتہ روز نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کو حکمران جماعت بی جے پی کا انتخابی فالس فلیگ آپریشن قرار دیدیا۔

سفاک مودی سرکار کی نئی دہلی دھماکے کو لیکر فالس فلیگ پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔

بھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا کہ جب بھی بی جےپی بحران میں آتی ہے نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، دہشتگردی یا دھماکے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست بہار میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ جاری ہے اور بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی سرکار کڑے امتحان سے کم نہیں ہیں۔

صحافی روی نیر نے لکھا بہار الیکشن میں بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید دھماکوں کی توقع ہے جبکہ آسام سے کانگریس سے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی نے کہا یہ بہار انتخابات سے پہلےکا متوقع سیاسی اقدام تھا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ سابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیربحث ہے۔

بھارتی صحافی نے کہا کہ احتجاج کے لیے بی جے پی حکومت کا نئی دہلی میں شہریوں پر بم گرانا دہشتگردی ہے۔

دی ٹریبیون انڈیا نے لکھا ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر کے مطابق ابتدائی شواہد اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ گاڑی میں ہونے والا حملہ کوئی خودکش حملہ تھا۔

اخبار نے لکھا نئی دہلی پولیس نے مقبوضہ کشمیر اور فرید آباد برآمد اسلحے سے جوڑنے سے گریز کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY