وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس کے دوران شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص فاٹا کے عوام کے لیے قومی اسمبلی سے بل کی منظوری تاریخی کارنامہ ہے، فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ ادغام کا معاملہ مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ اور منشور کا حصہ رہا ہے جبکہ فاٹا اور دیگر علاقوں کے عوام کی بھی یہ دیرینہ خواہش تھی، قومی اسمبلی میں یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور ہوا ہے اور 229 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرتاج عزیز کی قیادت میں فاٹا اصلاحات کمیٹی قائم کی تھی جس کے بعد وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا، آرمی چیف اور دیگر فریقین پر مشتمل عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی گئی، تفصیلی غور و خوض کے بعد تمام فریقین نے پرانے قبائلی قوانین کو باضابطہ قوانین میں تبدیل کرنے اور علاقہ کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے پر اتفاق رائے پیدا کیا۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ اس بل کے مطابق صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک سال کے عرصہ میں ہوں گے کیونکہ حلقہ بندی اور سیاسی نظام ابھی استوار کرنا باقی ہے، مردم شماری کے مطابق تو فاٹا میں قومی اسمبلی کی 6 نشستیں بنتی ہیں لیکن ابھی فاٹا کی 12 نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں اور سینیٹ کی نشستوں کو تحفظ دیا گیا ہے،2021 میں 4 اور 2024 میں 4 سینیٹ کی نشستیں خالی ہوجائیں گی اور ان پر انتخاب نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 246 اور 247 میں ترمیم کی گئی ہے، پہلے مرحلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا گیا، پولیس نظام، عدالتوں کی تشکیل، فزیکل انفراسٹرکچر، پورا حکومتی نظام بنانا پڑے گا، ایف سی آر کا قانون بھی ختم کریں گے اور کلیکٹو سزائیں بھی ختم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات فاٹا میں اسی سال منعقد کیے جائیں گے، فاٹا میں ترقی کے لیے 10 سال کے لیے 100 ارب سالانہ خرچ کیے جائیں گے، تاکہ اس علاقہ کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جاسکے۔
مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی کے فاٹا کے انضمام پر تحفظات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’اس معاملے پر طویل غور و خوض اور بحث ہوئی ہے، فاٹا معاملے پر تمام جماعتوں نے کھل کر اظہار رائے کیا، اکثریت کی رائے یہی تھی کہ فاٹا کو پاکستان جیسی تمام سہولیات ملنی چاہئیں۔‘
آئینی ترمیم کے لیے بڑی تعداد میں ارکان کے پارلیمنٹ نہ آنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں کچھ اراکین نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اجلاس میں نہیں آئے، جبکہ بعض بیرون ملک ہیں یا بیمار ہیں لیکن کچھ دوسری پارٹیوں میں چلے گئے اور کچھ استعفیٰ دے چکے ہیں، اس کے باوجود بھی بل کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوئی۔‘












