اپوزیشن نے صدر کی تنخواہ میں اضافے کا بل غیر ضروری قرار دیدیا

0
72

قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے صدر کی تنخواہ میں 530 فیصد کے ہوش ربا اضافے کا بل اپوزیشن کے شدید احتجاج کی نذر ہوگیا۔

مذکورہ بل کابینہ سیکریٹریٹ کے قائم مقام وزیر شیخ آفتاب احمد نے پیش کیا تو اپوزیش نے حکومتی فیصلے کو بلاجواز اور غیر ضروری قرار دے کر بل مسترد کردیا۔

واضح رہے اس سے قبل توجہ دلاؤ نوٹس میں وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز جاری کیےجانے کے باوجود 3 ماہ سے اسلام آباد ماڈل کالج اور اسکولوں کے عارضی اساتذہ کو تنخواہیں نہ ملنے کا معاملہ پیش کیا گیا تو آفتاب شیخ کوئی واضح جواب دے کر ارکان اسمبلی کو مطمئن نہ کرسکے۔

اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ ہم صدارتی عہدے کا احترام کرتے ہیں ، لیکن اربوں روپے پہلے ہی صدارت کے منصب پر خرچ کررہے ہیں اس کے باوجود انہیں تنخواہ میں اضافے کی کیا ضرورت ہے؟

اس حوالے سے رشید گوڈیل نے حکومت کی جانب سے صدر کی تنخواہ ایک لاکھ 33 ہزار 3 سو 33 روپے سے بڑھاکر 8 لاکھ 46 ہزار 5 سو 50 روپے مقرر کرنے کا بل پیش کیے جانے پرتنفید کی۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ایک جانب تو متعلقہ وزیراساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی وعدہ کرنے سے قاصرہیں، دوسری جانب وہ صدر کی تنخواہ میں اضافہ کا بل پیش کرنے کے لیے عجلت دکھارہے ہیں۔

رشید گوڈیل کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تنخواہیں بھی صدر کو دے دیں، انہوں نے تجویز دی کہ صدر کی تنخواہ گریڈ 22 کو افسر کے مساوی طے ہونی چاہیے۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب کہ اساتذہ تنخواہوں کی عدم فراہمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت کی جانب سے صدر کی تنخواہ میں اضافے کا مسودہ پیش کیا جانا ’شرمناک فعل‘ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کا کام کیا ہے؟ انہیں کون سے اختیارات حاصل ہیں ؟ ہمیں اس کی مذمت کرنی چاہیے۔

شیریں مزاری نے حکومت سے بل واپس لینےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک ایسی حکومت جس کی مدت صرف 3 دن رہ گئی اس کی جانب سے یہ بل پیش کیا جانا حکومت کے چہرے پر بدنما داغ کی طرح ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی بل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔

یاد رہے کہ صدر کی تنخواہ میں آخری بار2004 میں اضافہ کیا گیا تھا، اور 80 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 3 سو 33 روپے کردی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کے سربراہ ہونے کی وجہ سے صدر کی تنخواہ میں اضافہ کیا جاننا چاہیے اور نمائشی طور پر ان کی تنخواہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے ایک روپے زیادہ ہونی چاہیے۔

اس موقع پر حکومت کی جانب سے گزشتہ برس ہونے والی مردم شماری کے نتائج کا باضابطہ اعلان کیے انتخابات منعقد کرانے کے فیصلے پر ایم کیو ایم اراکین نے واک آؤٹ کر کے احتجاج درج کرایا۔

بعدازاں جب پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے نقطہ اعتراض پر بات کرنی چاہی تو اسپیکر کی جانب سے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ملتوی کردیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY