زاہد نوید کی عزائی شاعری

1
1117

نوحہ
اوڑھ کر خاک مری جاں مرے اصغر سو جا
ماں کی أغوش کہاں اے مرے دلبر سوجا

اپنے ہی خون میں تر ہونے لگی سوکھی زباں
حلق میں أکے لگا تیر ستمگر سوجا

کوزۀاب لیے ھاتھ میں روتے روتے
ڈوھنڈتی ہے تجھے بن میں تری خواہر سوجا

تری خوشبو سے جدا ہو گیا جھولا تیرا
کربلا کی ہے زمیں تجھ سے معطر سو جا

اوڑھ کر خاک مری جاں مرے اصغر سو جا
ماں کی أغوش کہاں اے مرے دلبر سوجا

نوحہ خواں
زاہد نوید

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

منقبت

وہ جن کی انکھ کاسرمہ ہے خاک پاک نجف
زمانہ ان۔کی بصیرت کا لاۓ کوئ جواب

مجاوران در بو تراب ہیں جو فقیر
نہ حد ہے حلم کی ان کے نہ علم کا ہے حساب
علی ہیں وصئ نبی مظہر العجائب ہیں
حریم دل میں ہیں ظاہر نظر سے غائب ہیں
متاع زیست اگر ہے تو ہے ولاۓ علی
ہے راہ حق تو وہی جس طرف کو جاۓ علی
یہ خواب گاہ نہیں بستر رسول ہے یہ
یہاں پہ سوۓ بھلا کون ماسواۓ علی
اگر نہ معرکے میں ہو رہی ہو فتح وصول
تو ڈھونڈتی ہے علی کو ہی پھر نگاہ رسول

مدح خواں
  زاہد نوید

SHARE

1 COMMENT

  1. I am grateful to Safdar Hamadani, who advised me strongly to think on creating a complete ghazal. He edited my verses with technical reference. Regards. Khalid Asghar.

LEAVE A REPLY