نوحہ
اوڑھ کر خاک مری جاں مرے اصغر سو جا
ماں کی أغوش کہاں اے مرے دلبر سوجا
اپنے ہی خون میں تر ہونے لگی سوکھی زباں
حلق میں أکے لگا تیر ستمگر سوجا
کوزۀاب لیے ھاتھ میں روتے روتے
ڈوھنڈتی ہے تجھے بن میں تری خواہر سوجا
تری خوشبو سے جدا ہو گیا جھولا تیرا
کربلا کی ہے زمیں تجھ سے معطر سو جا
اوڑھ کر خاک مری جاں مرے اصغر سو جا
ماں کی أغوش کہاں اے مرے دلبر سوجا
نوحہ خواں
زاہد نوید
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
منقبت
وہ جن کی انکھ کاسرمہ ہے خاک پاک نجف
زمانہ ان۔کی بصیرت کا لاۓ کوئ جواب
مجاوران در بو تراب ہیں جو فقیر
نہ حد ہے حلم کی ان کے نہ علم کا ہے حساب
علی ہیں وصئ نبی مظہر العجائب ہیں
حریم دل میں ہیں ظاہر نظر سے غائب ہیں
متاع زیست اگر ہے تو ہے ولاۓ علی
ہے راہ حق تو وہی جس طرف کو جاۓ علی
یہ خواب گاہ نہیں بستر رسول ہے یہ
یہاں پہ سوۓ بھلا کون ماسواۓ علی
اگر نہ معرکے میں ہو رہی ہو فتح وصول
تو ڈھونڈتی ہے علی کو ہی پھر نگاہ رسول
مدح خواں
زاہد نوید














I am grateful to Safdar Hamadani, who advised me strongly to think on creating a complete ghazal. He edited my verses with technical reference. Regards. Khalid Asghar.