عزاداری امام حسین ع کے تقاضے

0
711

عزاداری امام حسین ع کے تقاضے اور ھماری ذ مہ داری۔از۔ڈاکٹر سید نیاز محمد ھمدانی

ماہ محرم ماہ شہادت امام حسین علیہ السلام ھے ۔ اس مہینے میں رسول اور آل رسول سے محبت رکھنے والے سب مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے ھو، اپنے اپنے انداز میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی یاد مناتے ھیں۔ شیعیان اھل بیت کا اپنا انداز ھے۔ وہ مجالس عزا برپا کرتے ھیں، جلوس برآمد کرتے ھیں، جن میں نوحہ خوانی، سینہ زنی اور زنجیر زنی کی جاتی ھے۔ مجالس سے ذاکرین و مقررین خطاب کرتے ھیں، شعراء شہدائے کربلا، بالخصوص حضرت سید الشہداء علیہ السلام کو منظوم خراج عقیدت پیش کرتے ھیں۔انہی مجالس عزا اور جلوس ھائے عزاداری کا اثر ھے کہ یزید پلید کا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے آشکار ھے اور سب اس ملعون پر لعنت بھیجتے ھیں۔ ورنہ تو بنی امیہ کی پروپیگنڈہ مشینری کب کا یزید کو بھی رضی اللہ بنا چکی ھوتی۔

عزا داری امام حسین علیہ السلام بلا شبہ عبادت ھے ۔ عبادت کے لئے ضروری ھے کہ وہ معرفت کے ساتھ ھو ۔
بعض روایات میں اس بات کی نشاندھی کی گئی ھے کہ معرفت کے ساتھ ادا کی گئی دو رکعت نماز بغیر معرفت کے ادا کی گئی ھزار رکعت سے افضل ھے ۔ ھم رکعتوں کو وقت کے پیمانے پر پرکھتے ھیں۔ اگر ایک رکعت نماز پر ایک منٹ صرف ھوتا ھو تو ھزار رکعت پر ایک ھزار منٹ صرف ھوں گے جو 6۔16 گھنٹے بنتے ھیں ۔ پس معرفت کے ساتھ دورکعت نماز کا معرفت کے بغیر ھزار رکعت سے افضل ھونے سے ھم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ھوں گے کہ معرفت کے ساتھ دو منٹ کی عبادت معرفت کے بغیر ھزار منٹ (6۔ 16 گھنٹوں) کی عبادت سے افضل ھے ۔ اسی اصول کی رو سے دو منٹ معرفت کے ساتھ ذکر حسین ،معرفت کے بغیر ھزار منٹ ذکر حسین سے افضل ھو گا۔
مجالس امام حسین علیہ السلام کا مقصد ، جہاد امام حسین علیہ السلام کے مقاصد اور سیرت حضرت سید الشہداء کے بارے میں آگاھی پیدا کرنا ھے۔
واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین علیہ السلام کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا جو اچانک رونما ھو گیا۔ بنی امیہ کا اقتدار مضبوط ھوجانے کے بعد یزید کے باپ کے دور سے ھی ایسی اقدامات ھونا شروع ھو گئے تھے جن کا مقصد اسلام کوختم کردینا تھا ۔ لیکن وہ انتہائی زیرکی کے ساتھ، شاطرانہ انداز میں یہ کام کر رھا تھا۔ امام حسین علیہ السلام بھی اسی دور سے مسلمان عوام کو ان کے ان مذموم مقاصد سے آگاہ کرنے والے فریضہ پر عمل کر رھے تھے۔ اس بات کی دلیل امام حسین علیہ السلام کا وہ خطبہ ھے جو آپ نے 59 ھجری میں ایام حج میں منیٰ میں، عالم اسلام کے گوشہ و کنار سے آنے والے سات سو سے زائد علمائے دین کو دیا اور انہیں اس بات پر سرزنش کی کی وہ خاموش کیوں ھیں اور حق کا ساتھ کیوں نہیں دے رھے۔لیکن ان علماء نے امام حسین علیہ السلام کے خطبے سے کوئی اثر نہیں لیا

( یہ بات بھی قابل ذکر ھے کہ ان سات سو سےزائد علماء میں سے ایک بھی کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لئے موجود نہ تھا)
جب اقتدار یزید لعین کے ھاتھ میں آیا تو اسلام کی بیخ کنی کا عمل جو سست روی اور زیرکی کے ساتھ کیا جارھا تھا، اب وہ تیز تراور آشکار تر ھوتا دکھائی دینے لگا۔ امام حسین علیہ السلام کو جیسے ھی امیر شام کی موت اور یزید کے بر سر اقتدار آنے کی خبر موصول ھوئی آپ نے فرمایا

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وعلی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید
ترجمہ: ” انا للہ و انا الیہ راجعون ۔جب یزید جیسا حکمران ایک آزمائش بن کر امت پر مسلط ھو گیا ھے تو اسلام کا خداحافظ ۔”
امام حسین علیہ السلام کا اس موقع پر انا للہ پڑھنا امیر شام کی وفات پر اظہار افسوس کے لئے نہیں تھا بلکہ یزید کے اقتدار کی شکل میں جو مصیبت عالم اسلام پر مسلط ھو گئی تھی اس پر اظھار افسوس کے لئے تھا۔ یہ جملہ واضح طور پر بتا رھا ھے کہ امام حسین علیہ السلام اسلام کو بچانے کے لئے یز ید کے خلاف اٹھ کھڑے ھونے کا عزم کر چکے تھے ۔
اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام اپنی وصیت میں امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
انی لم اخرج اشرا ولابطرا ولا مفسدا ولا ظالما، انما خرجب لطلب الاصلاح فی امت جدی و
ارید ان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر و اسیر سیرۃ جدی و ابی
ترجمہ: ” میں کسی شر پسندی، خود نمائی اور ظلم و فساد کے ارادے سے خروج نہیں کررھا، میرے خروج کامقصد تو صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح ھے، میں امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنا چاھتا ھوں اور اپنے نانا اور اپنے والد کی سیرت پر عمل کر نا چاھتاھوں “۔

امام حسین علیہ السلام نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

اما ترون ان الحق لایعمل بہ، ان البالطل لا یتناھی عنہ، لیرغب المومن فی لقائ ربہ ۔
ترجمہ: ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ حق پر عمل نہی کیا جا رھا اور باطل سے اجتناب نہیں کیا جا رھا، ایسے حالات میں مومن کے سامنے ایک ھی راستہ باقی رہ جاتا ھے کہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے لئے تیار ھوجائے ”
امام عالی مقام کے ان ارشادات سے واضح ھوجاتا ھے کہ آپ کے جہاد کا مقصد اسلام کو بچانا تھا، جس کے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ھو چکا تھا، آپ کا مقصد معروف کو رائج کرنا اور منکر کو مٹانا اور اپنے نانا اور والد کی سیرت کو زندہ کرنا تھا، آپ کا مقصد اس معاشرے میں جہاں حق پر عمل نہیں ھو رھا تھا اور باطل سے اجتناب نہیں ھورھا تھا، حق کی بالا دستی اور باطل کی سر شکستگی کا سامان پیدا کرنا تھا ۔ ۔ آپ نے اپنی شہادت سے یہ سارے مقاصد حاصل کر لئے ۔
شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد اھل بیت کو اسیر کر کے بازاروں اور درباروں میں لے جایا گیا۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے بازاروں اور درباروں میں اپنے خطبوں کے ذریعے امام حسین علیہ السلام اور ان کے جہاد کے مقاصد کو بیان کیا اور بنی امیہ کے ظلم کو بے نقاب کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ھوا کہ یزید بظاھر جیتی ھوئی بازی ھار گیا۔ اگر حضرت زینت سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نہ ھوتے تو شہادت امام حسین علیہ السلام کے مقاصد پر پردہ ڈال دیا جاتا ۔

مجالس کا اصل مقصد در حقیقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح آنے والی نسلوں کو امام حسین علیہ السلام کے جہاد اور ان کی شہادت کے مقصد سے آگاہ کرنا ھے۔ ھم زیارت عاشورا اور زیارت وارث میں کہتے ھیں : یا لیتنا کنا معکم فنفوز فوزا عظیما ترجمہ: ” کاش ھم آپ کے ساتھ ھوتے اور آپ کی نصرت کرتے ھوئے وہ عظیم کامیابی حاصل کر تے جو آپ کو نصیب ھوئی” ۔ ۔ ۔ مجالس عزا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی سیرت و کردار اور اخلاق و خصوصیات کو بیان انتہائی اھمیت کا حامل ھے تاکہ ھر دور کے عزاداران امام حسین علیہ السلام ، ان کی اور ان کے اصحاب کی سیرت کے آئینے میں اپنے سیرت و کردار کا جائزہ لے کر اپنے اندر اصحاب امام حسین علیہ السلام کی سیرت و کردار کا پر تو پیدا کرسکیں ۔ ۔ ۔

اس مقصد کے لئے ضروری ھے کہ مجالس عزا سے خطاب کرنے والے خطیب اور ذاکر ایسے ھوں جو واقعہ کربلا کے سیاسی، عقیدتی، اخلاقی پہلوئوں سے اچھی طرح باخبر ھوں ۔ اگر کسی ذاکر یا خطیب میں یہ صلاحیت موجود ھو تو اسی کو مجالس عزا کے منبر پر بٹھانا چاھیئے خواہ اس کی آواز سریلی ھو یا نہ ھو، خواہ اس کو سر تال کی مہارت حاصل ھو یا نہ ھو۔ خواہ وہ فن خطابت پر دسترس رکھتا ھو یا نہ رکھتا ھو۔اس کے بر عکس اگر کوئی خطیب یا ذاکر، جس کی آواز سریلی ھو، سرتال سے بھی واقفیت رکھتا ھو، فن خطابت میں بھی مہارت رکھتا ھولیکن شہادت امام حسین علیہ السلام کے مقاصد سے آگاھی نہ رکھتا ھو، امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے سیرت و کردار کا پرچار نہ کر سکتا ھو تو اسے ھر گز مجلس عزا کے منبر پر نہیں بٹھانا چاھیئے۔

ایک بار ایک پسماندہ علاقے کا ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ھمارے گاءوں میں مومنین کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہیں ھے اور مالی وسائل بھی میسر نہیں ھیں اور محرم کی مجالس بھی کرانی ھیں۔ ایسے میں کوئی اچھا ذاکر یا خطیب دستیاب نہیں ھوتا۔ میں نے اسے کہا کہ ابھی محرم میں پانچ ماہ باقی ھیں ۔( یہ ماہ رجب کی بات تھی) آپ اپنے گاءوں کے پانچ پڑھے لکھے افراد کو تیار کریں کہ وہ ابھی سے اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کردیں۔ ان میں سے ھر ایک دو لیکچر یاتقریریں تیار کرے ، محرم کے دس دنوں میں ان میں سے ھر ایک دو دن مجلس سے خطاب کرے تو آپ کا مسئلہ بخوبی حل ھو جائے گا ۔ لیکن بد قسمتی سے اس تجویز پر جزوی طور پر ھی عمل ھو سکا۔
یہاں ایک اھم نکتہ کی طرف توجہ کی دعوت دوں گا کہ اگر قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے سارے عرصے  کو دو برابر حصوں میں تقسیم کریں اور ان کا موازنہ کریں تو یہ صورتحال سامنے آتی ھے کہ پہلے 33 برسوں میں مجالس عزا اتنے وسیع پیمانے پر نہیں ھوتی تھیں جس وسیع پیمانے پر آج ھو رھی ھیں ۔ پہلے عشرے کی مجالس ھوتی تھیں، پھر سوم اور چہلم کی مجلس۔ درمیان میں متفرق مجالس بھی ھوتی رھتی تھیں۔ آج کی طرح عشرہ ثانی اور عشرہ ثالث اور ماہ صفر کے عشرے اور خمسے نہیں ھوتے تھے ۔ لیکن اس دور میں مجالس کے نتیجہ میں دوسرے مسلمانوں میں سے بہت سے لوگ شیعہ ھو جاتے تھے ، مومنین کی دینداری کا معیار بہت اچھا تھا۔ اس لئے کہ اس دور میں منبر پر زیادہ تر علم و عمل اور اخلاص سے آراستہ افراد آیا کرتے تھے ۔ دوسرے 33 سالہ دور میں دیکھیں تو مجالس عزا بہت زیادہ وسیع پیمانے پر ھونے لگی ھیں۔ عشرہ ثانی، عشرہ ثالث اور ماہ صفر کے عشرے اور خمسے ھو رھے ہیں۔ لیکن اگر دوسرے دور میں مجالس کے نتیجہ میں شیعہ ھونے والے افراد کا موازنہ پہلے دور میں شیعہ ھونے والے افراد سے کریں تو اس کا تناسب انتہائی کم ھے ۔ بلکہ شاید ھے ھی نہیں ۔ سو واٹ کا ایک بلب جل رھا ھو تو وہ اپنی مخصوص روشی دیتا ھے ۔ اگر ایسا ایک اور بلب روشن کردیا جائے تو روشنی دو گنا ھو جاتی ھے۔ تین بلب روشن ھو جائیں تو روشنی تین گنا ھو جاتی ھے ۔ لیکن اگر بلبوں کی تعداد میں اضافہ ھوتا جائے مگر روشنی کم ھوتی جائے توپھر ضرور سوچنا چاھیئے کہ خرابی کہاں پر ھے ۔ جب مجالس کم تھیں تو روشنی زیادہ تھی، آج مجالس ماضی کی نسبت بہت زیادہ ھیں مگر روشنی بہت کم ھو گئی ھے ۔مجالس جتنی زیادہ ھو گئی ھیں جہاد امام حسین علیہ السلا م کے مقاصد اور مکتب اھل بیت سے آگاھی اتنی ھی کم ھو گئی ھے ۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

SHARE

LEAVE A REPLY