٭24 جنوری 1990ء کو لوک فن کار محمد جمن نے کراچی میں وفات پائی۔

0
1754

ارشاد احمد حقانی کی وفات

٭ 24 جنوری 2010ء کو نامور صحافی، تجزیہ نگار اور سابق نگراں وزیر فروغ ذرائع ابلاغ ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔
ارشاد احمد حقانی 28 اپریل 1929ء کو قصور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور تاریخ میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ 1941ء میں وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے اور نہ صرف جماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے منصب پر فائز ہوئے بلکہ جماعت اسلامی کے ترجمان تسنیم کے مدیر بھی رہے۔
1957ء میں ماچھی گوٹھ میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں بعض دیگر اکابر کے ہمراہ وہ جماعت سے علیحدہ ہوگئے اور تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ وہ قصور کے اسلامیہ کالج کے پرنسپل بھی رہے۔انہوں نے تدریس کے شغل کے ساتھ صحافت سے بھی اپناتعلق برقرار رکھا اور مختلف اخبارات میں اداریہ نویسی کرتے رہے جن میں وفاق اور نوائے وقت کے نام سرفہرست تھے۔
1981ء میں جب روزنامہ جنگ نے لاہور سے اپنی اشاعت کا آغاز کیا تو وہ پہلے ہی دن سے اس اخبار سے وابستہ ہوگئے اور اس اخبار میں شائع ہونے والا ان کا کالم حرف تمنا اخبار کا مقبول ترین کالم بن گیا۔اس کالم کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب وضاحت، قطعیت، بے باکی اور حقیقت پسندی کے ساتھ واقعات و حقائق کا تجزیہ کیا جانا تھا۔ ان کے تجزیوں کو قارئین ہی نہیں ملک کے مقتدر طبقے بھی بڑی توجہ سے پڑھتے تھے۔
ارشاد احمد حقانی خاصے طویل عرصہ تک روزنامہ جنگ لاہور کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ نومبر1996ء میں جب ملک معراج خالد ملک کے نگران وزیراعظم بنے تو ارشاد احمد حقانی نے ان کی کابینہ میں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلم دان سنبھالا اور اس وزارت کا نام بدل کر وزارت فروغ ذرائع ابلاغ رکھ دیا۔ ارشاد احمد حقانی نے کئی کتابیں بھی تحریر کی تھیں جن میں ان کی غیر مطبوعہ سوانح عمری پون صدی کا قصہ کا نام سرفہرست ہے۔وہ قصور میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————————————————————————————————

غزالہ رفیق کا انتقال

٭24 جنوری 1977ء کو پاکستان کی معروف فن کارہ غزالہ رفیق خالق حقیقی سے جاملیں۔
غزالہ رفیق کا اصل نام بلقیس انصاری تھا۔ وہ 1939ء میں قمبر علی خان میں پیدا ہوئی تھیں۔ گھر کے علمی ماحول کے باعث انہیں ابتدا ہی سے لکھنے لکھانے اور گلوکاری کا شوق تھا۔ 1957ء میں انہوں نے زیڈ اے بخاری کی فرمائش پر ریڈیو پاکستان کراچی کے لئے گانے ریکارڈ کروائے اور امرائو بندوخاں اور ماسٹر محمد ابراہیم سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ ریڈیو پاکستان سے انہوں نے کئی اردو پروگرامز کی کمپیئرنگ بھی کی جن میں صبحدم دروازہ خاور کھلا، سامعین میں بہت مقبول ہوا۔ اسی دوران انہوں نے کئی ڈراموں میں بھی صداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے ایک سندھی فلم رت جا رشتا میں بھی کام کیا۔
کراچی ٹیلی وژن کے قیام کے بعد انہوں نے عبدالکریم بلوچ کی ہدایات میں تیار ہونے والے پہلے سندھی سیریل زینت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اردو ڈراموں میں بھی کام کرتی رہیں۔ ان کے یادگار ڈراموں میں گڑیا گھر، پت جھڑ کے بعد، میں کون ہوں اے ہم نفسو، آخری موم بتی اور مرزا غالب کے نام سرفہرست تھے۔ جبکہ ان کے سندھی ڈراموں مں عمر ماروی، سسی پنوں، نوری جام تماچی اور لیلا چنیسر شامل تھے۔
————————————————————————————————————-

محمد جمن کی وفات

٭24 جنوری 1990ء کو پاکستان کے نامور لوک فن کار محمد جمن نے کراچی میں وفات پائی۔
محمد جمن 10 اکتوبر 1935ء کو بلوچستان میں سوڑھ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد زمیندار تھے مگر موسیقی سے شغف رکھتے تھے۔ محمد جمن کے نانا بھی سارندہ اور طنبورہ بجانے پر دسترس رکھتے تھے۔ اس ماحول میں محمد جمن کا بھی موسیقی سے شغف ہونا فطری تھا چنانچہ وہ یہ ساز بھی بجانے لگے اور گانے بھی لگے۔
قیام پاکستان کے بعد محمد جمن ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر حیدرآباد اسٹیشن سے اپنی گائیکی کا جادو جگانے لگے۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستگی کے زمانے میں انہیں موسیقی ترتیب دینے کا بھی موقع ملا۔
محمد جمن کے شاگردوں میں روبینہ قریشی، زیب النسا، زرینہ بلوچ اور محمد یوسف کے نام سرفہرست ہیں۔
حکومت پاکستان نے محمد جمن کو 1980ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔محمد جمن کراچی میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY