سلیم یوسف کی پیدائش

پاکستان کے معروف کرکٹر سلیم یوسف کی تاریخ پیدائش 7 / دسمبر 1959ء ہے۔

سلیم یوسف کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز5 / مارچ 1982ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے کیا۔ سلیم یوسف پاکستانی کرکٹ ٹیم میں وکٹ کیپر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 32ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے 91 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 13 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔ انہوں نے 86 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 81 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 22 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔ وہ کراچی میں مقیم ہیں۔
———————————————————————————————————————————
علی عباس جلال پوری کی وفات

فلسفہ کے ممتاز استاد، مؤرخ، نقاد، دانشور اور مترجم پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو وفات پاگئے۔

علی عباس جلال پوری 1914ء میں جلال پور شریف ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اردو، فلسفہ اور فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں طلائی تمغوں کے ساتھ حاصل کیں اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔
علی عباس جلال پوری کا شمار پاکستان کے ان اکابر اہل فلسفہ اور فارسی میں ہوتا تھا جو قدیم و جدید، فلسفے پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی معروف تصانیف میں روح عصر، روایات فلسفہ، مقامات وارث شاہ، عام فکری مغالطے، وحدت الوجودتے پنجابی شاعری، تاریخ کا نیا موڑ، کائنات اور انسان، روایات تمدن قدیم، خردنامہ جلال پوری، مقالات جلال پوری، جنسیاتی مطالعے، رسوم اقوام اور اقبال کا علم کلام کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ جلال پور شریف ضلع جہلم میں آسودۂ خاک ہیں۔
———————————————————————————————————————————-
پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد

بالغ رائے دہی کی بنیاد پرپاکستان کے پہلے عام انتخابات 7 / دسمبر 1970ء کو منعقد ہوئے ان انتخابات میں ملک کی 24 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ انتخابات کے اس محاذ پر 1499 امیدوار تھے۔ 300 نشستیں تھیں جن کا فیصلہ پاکستان کے ساڑھے پانچ کروڑ رائے دہندگان کو کرنا تھا۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتے تھے کہ ان کے لیے تاریخ کی طویل ترین انتخابی مہم چلائی گئی تھی اور بلوچستان کے عوام نے پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابات کے نتائج نے پاکستان میں ایک بالکل نئی صورتحال کو جنم دیا۔ مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے عوامی لیگ نے 2 کے سوا باقی تمام نشستیں جیت لیں۔ (ان دو نشستوں پر نور الامین اور راجہ تری دیورائے کامیاب ہوئے)۔ مغربی پاکستان میں 138 نشستوں میں 81 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی جب کہ مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے 9‘ کونسل مسلم لیگ کے 7‘ جمعیت علمائے اسلام کے 7‘ جمعیت علمائے پاکستان کے 7‘ نیپ (ولی خان گروپ) کے 6‘ جماعت اسلامی کے 4‘ کنونشن مسلم لیگ کے 2 اور پاکستان جمہوری پارٹی کا فقط ایک امیدوار کامیاب ہوا۔

17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو ملک کے دونوں حصوں میں دوبارہ اسی قسم کے نتائج سامنے آئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ ان انتخابات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں صوبوں کی سیاست میں جو بعد المشرقین موجود تھا وہ مستحکم ہوگیا اور ملک کی قسمت تین افراد صدر محمد یحییٰ خان‘ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں آگئی۔
——————————————————————————————————————————-
سارک تنظیم کا قیام عمل میں آیا

جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی تنظیم سارک یا سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔

سارک کے قیام کی تجویز سب سے پہلے بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1980ء میں پیش کی تھی۔ انہوں نے جن شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی تھی ان میں اقتصادی،فنی، سائنسی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی شعبے شامل تھے۔ اس کے بعد اپریل 1981ء سے اگست 1984ء تک کولمبو، کٹھمنڈو، اسلام آباد، ڈھاکہ اور نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر سال بہ سال مذاکرات منعقد ہوتے رہے جس میں اس تنظیم کے خدوخال متعین ہوئے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں 7 / دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا افتتاح بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد نے کیا۔ اس کانفرنس میں جن سربراہان ممالک نے شرکت کی ان میں بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر جے وردھنے، نیپال کے شاہ مہندرا، بھوٹان کے شاہ جگمی وانگچوک اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شامل تھے۔اگلے روز یعنی 8 / دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے ممالک کی اس تنظیم کے منشور کا اعلان کردیا گیا اور یوں اس تنظیم کا قیام عمل میں آگیا۔16 / جنوری 1987ء کو نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں اس تنظیم کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY