قبائے امن ہے بے شک سنو قبائے حسن
خدا نے نام یہ رکھا تھا خود برائے حسن
اک امتحان ہے یہ بھی مری مودت کا
قلم کے نور سے لکھتا رہوں ولائے حسن
شفا اُسے نہیں ملتی ہے آب زم زم سے
نصیب میں نہیں جس کے اگرشفائے حسن
بقائے دین کا محور بنی تھی صلحِ امام
حسن کو فخر سے تکتا رہا خدائے حسن
یہ منقبت بھی درعلم کی عنایت ہے
ہر ایک شعر سے آتی سنو صدائے حسن
حسن ہیں نازِمحمد حسن ہیں نازِ علی
بمثلِ چادرَ تطہیر ہے ردائے حسن
نبی کے حُکم سے صفدر ملا ہے یہ اعزاز
حصار ناد علی میں لکھی ثنائے حسن
صفدر ھمدانی













