پاکستان ریلویز
تحریر.. ملک اسلم اعوان۔ نمائندہ عالمی اخبار اسلام آباد – پاکستان۔
پاکستان ریلویز کا اہم ترین سب ڈویژن راولپنڈی ہے۔راولپنڈی سب ڈویژن کا اہم ترین جنکشن ملکوال ہے۔ جس کی اپنی ایک تاریخی حثیت ہے۔اج سے دو عشرے قبل اس جنکشن کو راولپنڈی ڈویژن کا کمائو پت کہا جاتاتھا۔ قیام پاکستان سے قبل ملکوال کو تاریخی لحاظ بڑی اہمیت حاصل تھی۔ چونکہ اس زمانے میں کوئلے سے چلنے والے انجن استعمال ہوتے تھے۔ کوئلے کے انجن میں فائر پروف برکس استعمال کی جاتی تھیں۔ ان فائز پروف برکس کا کارخانہ ملکوال میں لگایا گیا تھا۔ ان فائر پروف برکس میں استعمال ہونے والی مٹی خاصیت کے لحاظ موزوں ترین تھی یہی وجہ ہے کہ اس مقام کا انتخاب کیا گیا۔ ملکوال کے قریب کھیوڑہ کا مقام ہے جو کہ نمک کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چنانچہ 1885 میں انگریز نے اس ٹریک کو بچھانے کے کام کا آغاز کیا۔ ذرائع نقل و حمل محدود ہونے کے سبب انگریز بہادر نے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے اہم مقاصد یہ تھے۔ پورے ہندوستان تک نمک کی ترسیل، فائر پروف برکس کی ترسیل اور دفاعی مقاصد کے لیے ریل گاڑی کا استعمال۔ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ملکوال کو ایک اور تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ جو کہ ریلوے یارڈ یعنی ریلوے کراسنگ کے حوالے سے ہے۔ ریلوے لائنوں کا کراسنگ اس قسم کا ہے جسے ایکس
(یعنی انگریزی کا X) اس طرح لائنیں آپس میں کراس کرتی ہیں۔
اس ریلوے کراسنگ کو ڈائمنڈ کراس بھی کہتے ہیں۔
اس ریلوے ٹریک کی خاص بات یہ کہ اس میں نظر آنے والا کراس جس میں ایک لائن دوسری لائن کو مکمل کراس کر رہی ہے یہ پورے ایشیا میں صرف تین مقامات پر ہیں۔ ایک ملکوال جنکشن دوسرا روہڑی جنکشن اور تیسرا ناگ پور بھارت میں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ نے جب ملکوال سے کھیوڑہ کا ریلوے ٹریک بنوایا تب ہی اس ڈائمنڈ کراس کو بنایا گیا تھا اس لئے اس کا نام ڈائمنڈ کراس رکھا گیا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کے تاج میں جو ہیرا تھا اس ہیرے کی طرز پر یہ ڈائمنڈ کراس بنایا گیا۔
ملکوال پاکستان کا سب سے بڑا جنکشن ہے جہاں سے ( پانچ ) لائنیں نکلتی ہیں
(1) سرگودھا
(2) لالہ موسیٰ
(3) بھیرا
(4) خوشاب
(5) کھیوڑہ
(6) غریب وال
حکومتی بے حسی اور انتظامی نا اہلی کی وجہ یہ قیمتی اثاثہ ماضی کا قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ ملکوال-غریب وال، ملکوال-بیھرہ، ملکوال-کھیوڑہ سیکشن عملی طور پر متروک ہو چکے ہیں۔ ارباب اختیار سے درخواست ہے خدا را اس قومی ورثے کو محفوظ کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔













