ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی گزشتہ روز قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے انکی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہرین کراچی کی امام بارگاہ میں ادا کی جائے گی جسکے بعد انکی تدفین عمل میں آئے گی
گزشتہ شب پوست مارٹم کے بعد انکی لاش کو امامبارگاہ پہنچایا گیا جہاں غسل کفن کے بعد سرد خانے میں منتقل کر دیا گیا
پولیس کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان غازی میں پیش آیا۔
ایس ایس پی جنوبی کے مطابق علی رضا عابدی جیسے ہی اپنے گھر کے قریب پہنچے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ علی رضا عابدی پر فائرنگ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے کی یا پھر ملزمان گاڑی میں تھے تاہم عینی شاہدین کے مطابق علی رضا عابدی پر فائرنگ ایک موٹرسائیکل پر موجود دو ملزمان نے کی۔
فائرنگ کی زد میں آ کر علی رضا عابدی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
علی رضا عابدی کے والد اخلاق عابدی کے مطابق ان کے بیٹے کو پیٹ میں ایک گولی لگی جب کہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی کو دو گولیاں سینے اور ایک گولی گردن میں لگی۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرکے شواہد اکٹھے کیے۔
ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹی گیشن طارق دھاریجو کا علی رضا عابدی کی رہائشگاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ واقعہ حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی کڑی ہے۔
طارق دھاریجو کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے مختلف اقسام کے خول ملے ہیں جس کی فارنزک لیبارٹیر سے جانچ کرائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں کون سا اسلحہ استعمال ہوا اس کا فارنزک جانچ سے ہی پتہ چلے گا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں کوئی اور زخمی بھی نہیں ہوا.
سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کا پوسٹمارٹم جناح اسپتال میں کیا گیا، اسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ علی رضا کو 4 گولیاں لگیں۔
رپورٹ کے مطابق علی رضا کو گولیاں گردن، بازو اور سینے میں لگیں۔













