جنازہ اٹھ چکا ہے
فضا میں سوگواری ہے
عجب وحشت سی طاری ہے
ہوائیں بین کرتی ہیں
فضائیں بین کرتی ہیں
اور ایسا بین کے کوفے کی دیواریں لرزتی ہیں
وہی کوفہ کی خون آلود دیواریں
دغا جن پر لکھی ہے تا قیامت
ابھی تو ابتدا ہے
کہ پہلا خوں ناحق بہہ چکا ہے
ابھی تو سلسلہ یہ کربلا تک آن پہنچے گا
علی کا آخری سجدہ……
فزت برب ِ الکعبہ……
حسین ابن علی کا آخری سجدہ….
یا ایھا النفس المطمئینہ……….
اک تسلسل ہے
عہد کی پاسداری کا
مکمل جانثاری کا
ابھی کوفے کی دیواریں…..
کسی تزئین سے..آرائش سے یکسر ہی خالی ہیں
حقیر ِ شام کی نظریں سوالی ہیں
ابھی کوٹھوں پہ مجمع بھی نہیں ہے
ابھی آئینہ بندی کا سماں بھی ہو نہیں سکتا
جنازے پر کوئ تیر و تبر ..پتھر نہیں آیا
کوئ لینے کسی مستور کی چادر نہیں آیا
جنازے کے اٹھانے کو
ابھی حسنین زندہ ہیں
ابھی عباس باقی ہیں
علی کی بیٹیاں مستور بھی ہیں
اگر گھر سے نکلنا ہو تو پھر شب کو نکلتی ہیں
حکم ہوتا ہے کوفے کے دیئے گل کر دئیے جائیں
مگر ہو وائے اے کوفہ…
مری نظروں میں کیسا وہ لہو آشام منظر ہے
جو آنکھیں نوچ لینے پر مجھے مجبور کرتا ہے
جنازے تو کہاں اٹھتے….
سروں کو نوکِ نیزہ پر گھماتے کوفی و شامی
تماشہ ڈھول تاشے اور شہر کی آئنہ بندی
تیرے کوٹھوں پہ دیواروں میناروں پر سجا مجمع
صدا دیتے حقیرِ شام کے ناجائز بیٹے کے حواری
کہ ہٹ جاؤ
سواری آرہی ہے باغیوں کی…..
اور جو ناقہ پر برہنہ سر رسن بستہ ضعیفہ ہے
ردا ہےنہ کسی چادر کا سایہ ہے
مگر چہرے کو بالوں سے چھپایا ہے
یہ باغی کی بہن ہے
مگر ہو وائے اے کوفہ…..
جو کل تھی شاہزادی…
آج باغی کی بہن ہے….
عجب رنج و محن ہے….
فضا میں سوگواری ہے
عجب وحشت سی طاری ہے
ہوائیں بین کرتی ہیں
فضائیں بین کرتی ہیں
اور ایسا بین کہ کوفے کی دیواریں لرزتی ہیں
ڈاکٹر ثروت رضوی













