عازمین ِ حج کے نام ۔ مدینے کی گلی سے تُم ، اُٹھا کرخاک لے آنا سید عارف معین بلے

0
1334

میسر جو نہیں مجھ کو یہاں اِملاک لے آنا
مدینے کی گلی سے تُم،اُٹھا کرخاک لے آنا

مِری تسبیح بن جائےگی ، موتی کام آئیں گے
بچا لینا کچھ آنسو ، دیدہء نم ناک لے آنا

لگایا تھا نبی نے جو کبھی ، خود اپنے ہاتھوں سے
جو ممکن ہوتو ، تم اس پیڑ کی مسواک لے آنا

مجھے بھی اِن اندھیروں میں اُجالوں کی ضرورت ہے
تجلیات ِ دربار ِ رسول ِ پاک لے آنا
سنو ، میرے لئے بھی واپسی پر شہر ِ حکمت سے
شعور ِ زندگی تھوڑا سا ، کچھ اِدراک لے آنا

ہمارا شہر تاریکی میں ہے ڈوبا ہوا، ، کہنا
تُم انوار ِ مزار ِ سید ِ لولاک لے آنا

جو جلوے بھی نظر آئیں ، بسا لینا تم آنکھوں میں
غذا میرے بدن کی ، روح کی خوراک لے آنا

نئی تعمیر کے نیچے ہے ،اُن کے لمس کی خوشبو
جو ممکن ہو ، زمیں کا سینہ کرکے چاک لے آنا

لپٹ کر اِس سے جو بھی مانگناہے ، مانگ لوں گا میں
حرم کے جسم سے اُترے گی جو پوشاک لے آنا

دکھوں کا کون کہتا ہے ؟ مداوا ہو نہیں سکتا
وہاں مِل جائے گا ، تُم زہر کا تریاک لے آنا

عازمین ِ حج کے نام ۔ مدینے کی گلی سے تُم ، اُٹھا کرخاک لے آنا
سید عارف معین بَلّے

SHARE

LEAVE A REPLY