لاہور کی مقبول سوز خوان طلعت نایاب زیدی سے روما رضوی کی روایتی سوز خوانی پر گفتگو”۔۔
دلی جو غالب کا شہر کہلاتا ہے لکھنو و امروہہ کی طرح اپنے روایتی علم دوست اور وضع دار باسیوں کی رواداری کے باعث ایک شہرت رکھتا ہے۔۔
وہ دلی والے جو خاک نشینی میں بھی شاہی کیا کرتے تھے یا تو اس جگہ سے سدھار گئے یا بٹوارے کی افرا تفری میں دیس چھوڑ بدیس جا بسے۔
بہترین ادب و شاعری کا ذوق رکھنے والے یہ خاندانی افراد تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے مگر اپنی آبائی روایات کو ہمیشہ اپنا طرہ امتياز بنا کر رکھا ۔
میر متین کے خانوادے سے تعلق رکھنے والی محترمہ شمس الزہراء زیدی خاتون نے اپنی دختران کی پرورش بھی اسی روایتی انداز میں کی جسکی وہ پروردہ تھیں ۔۔
فراش خانے کے خاندانوں میں اب بھی تہوار محرم کی مجالس کی نشستیں کسی ایک بزرگ کے گھر منعقد کی جاتی ہیں ۔۔
تقسیم سے پہلے جب اور آسانی کا دور تھا تو ایام عزا کے دس دن سب قریبی عزیز ایک ہی گھر میں گزارتے اور اپنی اپنی منتیں بڑھاتے تھے ایسے میں گھر کے بچے بھی ذوق و شوق سے ہر روایت کا حصہ بنتے تھے سقائی مہندی، عاشور ، شام غریباں ، اور سوگ بڑھائی تک کی مجالس گھر کی عورتیں خود ہی پڑھا کرتی تھیں ۔۔ اس دوران مجالس کے لیے تیاریاں بھی مل کر ہی کی جاتیں تھیں ۔۔گھر میں تبرک نذر و نیاز کی پکوائی۔۔ فرش بچھانے سے لے کر نوحہ و مرثیہ پڑھنے کی تیاری بھی شامل ہوتی تھی ۔۔ بہترین کلام منتخب کئے جاتے بینیہ طرزوں میں سادہ سی بندشیں باندھی جاتیں تھیں ۔۔
میر متین کے گھرانے میں بھی اسی طرز پر مجالس ہوتی تھیں۔۔ اسی لئے ان کے کلام میں تاریخ وار نوحے شہرت رکھتے ہیں اور آج تک مخصوصیوں پر پڑھے جاتے ہیں ۔۔
محترمہ شمس الزہراء میر متین کی پوتی تھیں اور انہی کی بیٹی محترمہ طلعت نایاب زیدی نے علم و ادب اور فن سوز خوانی کے اس ورثے کو محفوظ کیا جو ان کی والدہ کی طرف سے انہیں ودعيت ہوا ہے۔
سیدہ شمس الزہرامرحومہ
یہاں میر متین کے بارے میں بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ میرے سسرالی گھرانے کے جد امجد میر سید اسد علی متین کی بیاض سے مقبول نوحہ سوز و سلام کو آج تک پڑھا جاتا ہے۔۔ ۔۔میر متین کی بیاض محترمہ سعیدہ بانو اور شمسہ بانو نے بہت تگ و دو کے بعد دوبارہ سن دوہزار چھ میں چھپوائی
میر متین کے پوتے سید اصغر عباس کی صاحبزادی محترمہ شمس الزہراء بھی لاہور میں اپنی پرسوز آواز اور روایتی سوز خوانی کے انداز کی وجہ سے مقبول ذاکرین میں شمار ہوتی رہی ہیں اب ان کی صاحبزادی طلعت زیدی صاحبہ اور خواہران زرین حبیب، فوزیہ زیدی، ماہ پارہ صفدر،گلناز ابراہیم اور ڈاکٹر نیلوفر سلیم اسی بستے سے مجالس میں پیش خوانی کرتی ہیں۔۔گھر میں مجالس برپا کرنے کا سلسلہ جس قدر قدیم ہے اتنی ہی پیش خوانی کی روایت برسہا برس پرانی ہے۔
طلعت نایاب زیدی صاحبہ پیشے کے اعتبار سے نصاب اردو اور اردو ادب کی پروفیسر ہیں انہوں نے کم و بیش چار دہائیوں میں مختلف کالجز کی ہزاروں طالبات کو زیور علم سے آراستہ کیا ہے۔۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز کی سند لی ۔۔ بیشمار موضوعات پر مضامین لکھے ۔۔اپنے تعلیمی اداروں کی ادبی سرگرمیوں کی سربراہی کی۔۔کئی رسالوں کی ادارت کی اور اسی طرح سےیونیورسٹی اور کالج کی ڈرامہ سوسائٹیوں کی ممبر اور سربراہ رہیں ۔۔ پی ایچ ڈی کے طلبا کے تھیسس میں رہنمائی بھی کرتی رہیں
فن سوز خوانی کا جو انداز انکے خاندان میں انکی والدہ کے باعث مقبول تھا اب انکی بدولت شہرِ لاہور میں اسی روایتی انداز سے جاری ہے ۔۔
بلکہ اپنے گھرانے کینوعمر بچیوں کو بھی ساتھ ساتھ تربیت کر رہی ہیں. میری بھی خوش نصیبی ہے کہ میں بطور ساتھی سوز خوان انکے ساتھ پڑھتی ہوں. میری ساس مرحومہ بھی اکثر مجالس میں شمس الزہرا کا بازو بنتی تھیں اب مجھے طلعت زیدی کی حوصلہ افزائی کے باعث بہت سیکھنے کا موقع ملا ہے
یہ ان کی فراغ دلی ہے کہ اپنے نو عمر پڑھنے والوں کی خوش دلی سے رہنمائی کرتی ہیں اور خود پڑھنے سے پہلے انہیں پڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔۔ نئے سیکھنے والوں کو ہمیشہ بہترین صلاح اور مشورہ دیتی ہیں.۔۔
آج عالمی اخبار کی نشست میں ہم انہیں بطور مہمان خوش آمدید کہتے ہوئے سوالات کا آغاز کرتے ہیں ۔
سوال 1-
آپ نے نوعمری میں ہی سوز پڑھنے کا آغاز کیا ۔۔سوز سلام و مرثیہ یہ اصناف ادب میں بہت مقبول نہیں ہوئیں ۔۔ ان کو کن خاص علاقوں میں زیادہ سمجھا گیا ؟ اور عام سننے والا ان میں کیسے فرق کرسکتا ہے ان کے خاص اجزاء کیا ہیں؟
جواب –
سوز اپنی ہیئت کے اعتبار سے مختلف ہے تاہم مرثیہ عموماً ایک مسدس نظم کی شکل ہوتی ہے. جس کے پہلے چار مصرعوں کے بعد باقی دو مصرعے بیت کہلاتے ہیں ۔۔ نظم کی اس شکل کو لکھنوء میں بہت ہموار زمین ملی. کیونکہ یہ شہر اہلِ تشیع کا مرکز رہا تھا. یہاں کے لوگ شہدائے کربلا کا سوگ منانے اور ان کے قصیدے پڑھنا اپنا مذہبی فریضہ خیال کرتے تھے. بہر کیف مرثیہ ہیئت کے اعتبار سے ایک طویل نظم ہوتی ہے تمہید ،گریز ،مدح سرائی ، منظر نگاری واقعہ نگاری، مکالمہ نگاری، شہادت، دعائیہ اختتامیہ وغیرہ سبھی کا اس میں اندراج ہوتا ہے.۔
جب کہ سوز ایک ایسی نظمیہ صنف ہے جس میں امام حسین اور ان کے اہل و عیال و دیگر صحابہ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی گئی ہو. اور اب بھی لکھی جا رہی ہے۔ گویا یہ ایک ُپر سوز ساز ہے جس کا انداز بہت نرالا ہوتا ہے. ۔گر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ انداز کم ہوتا جارہا ہے بلکہ جو آج کل کے سوز خوانوں میں نظر نہیں آتا.۔
سوال 2_
ان روایتی مجالس کا موجودہ طریقہ کار کب سے رائج ہوا؟ جس میں سوز خوانی, پیش خوانی مرثیہ خوانی پھر خطابت ۔۔اور آخر میں نوحہ بصورت ماتم پڑھا جانے لگا.؟
جواب _اس ذکر کے طریقہ کار میں یہ روایت یوں تو بہت پرانی ہے کیونکہ امام عالی مقام کی ہمشیرہ معظمہ نے مرثیہ عربی زبان میں کہا تھا اور مجالس کا آغاز بھی واقعہ کربلا کے بعد ہی ہوا ہے. جب اہل بیت اطہار امام زین العابدین یعنی چوتھے امام کے ہمراہ قید خانے سے چھوٹے اور واپس مدینے جانے لگے تھے تو چوتھے امام علیہ السلام نے پہلی مجلس شہر شام میں ہی برپا کی تھی
لیکن اردو میں مرثیہ ریاست حیدرآباد دکن میں موجود صوفیاء کرام و شعرا کی سرپرستی میں پروان چڑھا. چنانچہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دکن میں ابتدائی عہد کے تقریبا ہر قابل ذکر شاعر نے مرثیہ لکھا.. انیسویں صدی کا آغاز مرثیے کا دور تعبیر کہا جاتا ہے. یہ وہ زمانہ ہے کہ جب فیض آباد اپنے شبات کے ساتھ لکھنو کو حیات نو دے رہا تھا.
امام باڑے عزا خانے سجائے جا رہے تھے اور اپنے دورِ آغاز سے ہی لکھنو کی فضا میں یا حسین کی آواز گونجنے لگی تھیں. اس دور کو ڈاکٹر مسیح الزمان نے دور تعمیر سے تعبیر کیا ہے. لکھنوء میں اس صنف کو مزید ترقی ملی میرانیس اور مرزا دبیر نے مرثیہ کو کمال پر پہنچا دیا۔۔
دوسری طرف سوز اور نوحہ بھی دراصل مرثیے کے ہی اجزاء ہیں.
سوز کا مطلب ہے آگ کی تپش اور نوحے کا مطلب یعنی گریہ ؤ زاری یا ماتم کرنا.
لکھنو میں واجد علی شاہ کا زمانہ تھا. جب باقاعدہ سوزوسلام اور مرثیہ خوانی کا رواج ہوا. مجالس منعقد کی جانے لگیں جن میں میراثی سوزو مرثیہ پڑھا کرتے تھے. ڈھول کی تھاپ پر ماتم اور نوحہ ہوتا تھا ایران اور عراق میں تو اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے البتہ ہم نے اس روایت کو بدل دیا ہے. اب خطابت میں تحت اللفظ اور حدیث خوانی کے بجائے تقریر کو دے دی گئی ہے۔
. گویا ایک مقرر بیک وقت ایک مؤرخ مصلح اور ناصح کے فرائض انجام دیتا ہے جو نئی نسل کے لئے بہت ضروری بھی تھا . اور مجالس کا یہ انداز فی زمانہ فائدہ مند بھی ہے. اور اپنے عہد کے تقاضوں کو پورا بھی کرتا ہے اور یہی امام عالی مقام امام حسین علیہ سلام کا مشن بھی تھا
سوال 3_
آپ کے خیال سے کیا سوز خوان خواتین و حضرات کا فن موسیقی سے آگاہ ہونا یا سنگیت و راگ سے شناسائی رکھنا ضروری ہے؟
جواب _ ذاتی طور پہ میں پیشہ ورانہ گائیکی کے حق میں نہیں ہوں اور نہ ہی ہر ایک کو باقاعدہ سیکھنے کا موقع مل بھی پاتا ہے لیکن کم از کم الفاظ کی درست ادائیگی اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہونا لازم ہے. اور اسی کے لیے ساری ریاضت درکار ہے.
سوال 4_ آپ نے خود بھی کافی سوز خوانوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ کو موجودہ پڑھنے والوں میں پچھلوں کی نسبت کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟
جواب _ فی زمانہ مرثیہ پڑھنے والے تو بہت ہیں. لیکن اچھے سوز خوان نہیں ہیں۔۔
کیونکہ سوز پڑھنا آسان کام نہیں ہے۔۔. اس کے لیے بڑی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ کئی جگہ خواتین عام طور سے گانوں کی طرز میں فضائل کی نظمیں یا قصیدے پڑھ کر مرثیہ پڑھ دیتی ہیں. مردانی مجالس میں تو خیر سوز خوانی اور مرثیہ خوانی کا کوئی باقاعدہ سلسلہ نہیں رہ گیا. اکثر منقبت کے بعد ہی ذاکر مولانا صاحب کو بٹھا دیا جاتا ہے
سوال 5_
آپ کے مطابق میں سوز خوانی آسان فن نہیں ہے تو کیا اسے ہر سننے والا سمجھ سکتا ہے یا یہ محض ایک مخصوص طبقے کا ہی ذوق رہ گیا ہے؟
جواب_ یہ بات درست ہے کہ سوزخوانی اور خصوصا” مرثیہ خوانی کا رواج اب ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے. کیونکہ مکمل سوز خوانی کی جگہ بس اب ایک سلام یا نوحے نے لے لی ہے ۔۔
جبکہ مرثیہ اپنی ہئیت کے اعتبار سے ایک مشکل اور طویل نظم ہے جسے عام لوگ سمجھ بھی نہیں پاتے طوالت سے بے چین بھی ہونا شروع ہو جاتے ہیں.
سوال 6_
آپ نے کن بستوں یا شائع شدہ بیازوں سے یا اساتذہ کے کلام سے سوز خوانی کا آغاز کیا؟
ہم نے میر انیس، مرزا دبیر ، قیصر بارہوی، شاہد نقوی صاحب اور وحید الحسن ہاشمی اور صفدر ہمدانی جو میرے بہنوئی بھی ہیں. اور حسن عباس زیدی جو میرے والد ہیں۔۔ ڈاکٹر یاور عباس جو میرے دادا ہیں اور سجاد احمد رزمی خالو ہیں انکے کلام بہت پڑے ہیں۔۔
طلعت نایاب زیدی،سوزخوان۔۔۔کلام،،صفدر ھمٰدانی
والدہ کے کچھ اپنے منتخب کردہ سوز و سلام اور مرثیے ہیں جو ہم بہنیں پڑھا کرتے ہیں تو وہی بستے ہیں جو نسل در نسل سے پڑھے جارہے ہیں اور کچھ موجودہ شعراء کے بہترین کلام میں سے منتخب کیے ہوئے سوزو سلام اور مرثیے ہیں جو ہم پڑھا کرتے ہیں.

والدہ شمس الزہرا کے اپنے ہاتھ کے لکھے سوز کا عکس
سوال 7
آپ نے سوزخوانی کی باقاعدہ تعلیم و ریاض بھی کیا ہوگا تو وہ کن اساتذہ کی زیر نگرانی کیا ؟
جواب _میری استاد میری والدہ شمس الزہرہ تھیں جو میرمتین کی پوتی تھیں اور دوسری تفسیر فاطمہ میری سہیلی تھیں جو ہر قدم پر بہت حوصلہ افزائی کیا کرتی تھیں۔۔ تفسیر فاطمہ قد آور مرثیہ نگار حضرت قیصر بارہوی کی عزیزہ تھیں۔
اب ہمیں نہیں معلوم کہ جن گھرانوں میں عزاداری ہوتی ہے کہ وہاں باقاعدہ تربیت کیسے لی جاتی ہے ہم نے تو اپنی والدہ کے ساتھ اور بزرگوں کے ساتھ پڑھوا کر انکی صحبت میں بیٹھ کر پڑھنا سیکھا ۔۔
سوال 8
مجالس کہاں زیادہ پڑھیں؟
جواب _ زیادہ تر مجالس ہم اپنے گھروں میں ہی پڑھتے ہیں یا کچھ قریبی عزیزوں اور دوستوں کے گھر سالانہ مجالس پڑھتے ہیں ۔۔
پیشہ ورانہ انداز سے گھر گھر جا کے مجلس پڑھنا ذاتی طور پر ہمیں پسند نہیں ہے ۔۔
سوال 9_ ان حالات میں جبکہ پڑھنے والے انداز تبدیل کر بیٹھے ہیں آپ سوزخوانی کا مستقبل کیسا دیکھتی ہیں؟
جواب _ بھئی وہ جو شاعر نے کہا ہے نا کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی.
تو انشاءاللہ بہتر ہوگا ۔۔۔بہتر کے معنی یہ ہیں کہ ایک نیا انداز جنم لے رہا ہے. پرانے طرز متروک کر دیے گئے ہیں.
نئے طرز جو کہ تقریبا گانوں ہی کی دھن پر سیٹ کر لیے جاتے ہیں. رواج پا رہے ہیں
بہر کیف کچھ سوزخوان و مرثیہ خوان دونوں ہی اپنا اپنا انداز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا. اس میں بھی تبدیلی متوقع ہے ۔۔
جیسے غالب نے کہا تھا ۔۔
مے پلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے
تو ہمیشہ کچھ بھی نہیں رہتا تبدیلی پھر نیا رنگ نیا انداز دکھائے گی ۔۔
سوال 10 _
آپ کن پڑھنے والوں سے متاثر ہوئیں؟ اور کس قدر ان کے انداز کو اپناتی رہیں ؟
جواب _
جیسے میں نے پہلے بھی بتایا کہ میرا کوئی باقاعدہ استاد نہیں تھا لہذا انداز تو اپنے گھر کے بزرگوں کا بالخصوص اپنی والدہ یا پھر اپنی دوست تفسیر فاطمہ کا غالب رہا ۔۔ لیکن ان کے بھی ساتھ پڑھوا کر سیکھا باقاعدہ تربیت جسے کہیں وہ نہیں لی.
ہاں جہاں تک متاثر کرنے والے سوز خوان خواتین و حضرات مرثیہ خوان ہیں ان میں پہلا نمبر صابرہ کاظمی صاحبہ کا ہے. اور دوسرا نمبر کجن بیگم کا ان دونوں کی طرزیں اکثر اپنی سوز خوانی میں بھی پڑھتی ہوں. باقی سبط جعفر زیدی صاحب علی أوسط زیدی ، حشمت زیدی جو میرے شوہر کے رشتہ دار بھی ہیں ان کا پڑھنا میں بہت پسند کرتی ہوں. لیکن ان کا انداز کبھی اپنایا نہیں
محض سننے کی حد تک دلچسپی رہی اور نوحہ خوانی میں ہمیشہ( علی محمد رضوی ) سچے بھائی میرے پسندیدہ نوحہ خوان رہے ہیں . ان کے اکثر نوحے پڑھتی ہوں ۔۔
ندیم سرور ابتدا میں ایک اچھے نوحہ خوان تھے لیکن جب سے انہوں نے پیشہ ورانہ گائیکی کا سا انداز اپنایا ہے ان میں پہلے والی بات نہیں رہی.
سوال 11_
کیا نئی نسل سے اس فن کو زندہ رکھنے کی امید کی جا سکتی ہے؟
جواب _ دراصل میں نئی نسل سے مایوس نہیں ہوں وہ پرانا انداز تو یقینا نہیں اپنائے گی لیکن زمانے کے تقاضوں کے مطابق سلسلہ ء عزاداری کو جاری رکھے گی. بس یہی اصل چاہت ہے کہ ہم رہیں نہ رہیں. سلسلہء عزاداری جاری رہے گا انشاءاللہ.
سوال 12
آپ اپنے بچپن میں کن مجالس سے متاثر ہوئی اور کب پہلی مجلس پڑھی جس کو آپ کے استاد نے سنا اور بہت سراہا ؟
جواب _ میری استاد میری والدہ شمس الزہرہ تھی ان کے سامنے میں عموما” مجلس نہیں پڑھتی تھی کیونکہ وہ خود بہت اچھی ذاکرہ سوز خوان تھیں
اس لیے کافی عرصے تک وہی پڑھتی رہیں اور میں ان کا بازو لگا کرتی تھی. وفات سے چند سال پہلے انہوں نے ذاکری کو ترک کردیا۔۔۔ وہ کہتی تھیں کہ میں اپنا نام ذاکرین حسینی کی فہرست سے کٹوانا نہیں چاہتی اور دوسرے مجھے تفسیر فاطمہ جو میری سہیلی تھیں. انہوں نے بہت ہی سراہا. گویا آگے لانے والوں میں مجھے میری والدہ اور میری دوست دونوں تھیں.
باقی سامعین خود بھی میرے استاد ہیں جو مجھے سراہتے ہیں. کبھی کبھار بہت زیادہ اور کبھی کبھی کم مجھے یقین ہے کہ یہ ذکر آل محمد اور محبت آئمہء اطہار روز محشر ضرور میری بخشش کا سبب بنیں گے.
سوال 13 _
نئے ذاکرین کے لیے یا سوز و مرثیہ پڑھنے والوں کے لیے کوئی خاص پیغام جو انکی رہنمائی کرسکے ؟
جواب _ ہاں آنے والی نسل کے لیے بالکل پیغام ہے کہ
1- ہمیشہ اچھے کلام پڑھنے کا انتخاب کریں.
2-تلفظ اور ادائیگی پر باالخصوص توجہ دیں
3- ریاض ضرور کریں
4- اپنے انداز میں عام لوگوں کی نسبت انفرادیت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
5- . بھونڈی تقلید سے گریز کریں.
6- اچھے اساتذہ کے انداز کو اپنائیں ۔۔
باقی برکت دینے والا خداوند عالم ہے اور قبول کرنے والے ائمہ طاہرین اور آل رسول ہیں تو بس دعائیں ہی دعائیں ہیں ان کے لیے کہ خدا ان کو جتنی محنت کریں اس میں کامیابی عطا کرے.۔
ان پیاری نصیحتوں اور دعاوں کے ساتھ اس نشست کا اختتام کرتے ہیں خدا طلعت زیدی صاحبہ جیسے مخلص لوگوں کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے ۔۔
ان کے جذبوں کی سچائی اور عقیدت کے انداز اگلے وقتوں تک رائج رہ سکیں ۔۔
اور انکی دعا کہ یہ سلسلہء.ِعزاداری صدا پوری آب و تاب کیساتھ جگمگاتا رہے ۔
“نسل” بعدِ نسل” یونہی قائم سلسلہ رہے “
عالمی اخبار کی جانب سے طلعت زیدی صاحبہ کا خصوصی شکریہ ادا اور انکی تمام نیک خواہشات کے لئے ہم سب کی طرف سے آمین ۔۔
روما رضوی














بہت شاندار انٹرویو مولا کے چاہنے والے سدا سلامت رہیں
ماشاءاللہ۔ ایسے وقت میں جبکہ مرثیہ پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس گھرانے کا اس صنف کو ژندہ رکھنا باعث اطمینان ہے۔ مرثیہ کو اس طرح پڑھنا کہ کربلا کا واقعہ منظر کے طور پر سامنے سجائے ایک مشکل کام ہے۔ کراچی میں محترمہ کجن بیگم اور مردوں میں مرحوم سبط جعفر کے بعد اچھا پڑھنے والوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ محترم امید فاضلہ کے بعد مرثیہ تحت اللفظ کی محافل بھی کم ہو گئ ہیں۔ ۔لوگ عجلت پسند ہو گئے ہیں اور ایک مختصر کلام سن کر آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ جبکہ کربلا کا مکمل ماحول پیدا کرنے کیلئے سلسلہ وار واقعات قطعات میں پیش کرنا ہوتے ہیں۔ مومنین کی آگاہی اور جڑے رہنے کیلئے ایک تجویز ہے کہ ہر بند کو ایک ٹائٹل دیا جائے اور وڈیوز، سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً نشر کیا جائے۔
ماشاءاللہ۔ ایسے وقت میں جب مرثیہ، سوز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔ اس خاندان کو اسے قائم رکھنا ایک بڑی خدمت ہے۔
بیشک جعفر بھائی ان مجالس کا سلسلہ ہمارے بڑوں نے جس طرح قائم رکھا ہے اسے منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس سلسلے کو جاری رکھیئے ، بہت ہی معلوماتی اور یادگار سلسلہ بنتا چلا جا رہا ہے ۔ ماشا اللہ