چھٹی قسط
تقریباً دو گھنٹے کی نیند کے بعد وہ بلکل تازہ دم محسوس کر رہی تھی خود کو جب وہ لوگ مردان سے ہوتے ہوئے ملال کنڈ پہنچے تو دوپہر کا وقت تھا سب لوگ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے انوشے اپنی ذہانت اور اچھے نتائج کے باعث وہ اپنے اساتذہ کی خاصی من پسند تھی.اس نے مادام فرح سے تھوڑی رکنے کے لیے کہا تا کہ تازہ دم ہو کر سفر آگے دوبارہ شروع کیا جا سکے. سب نے اس کی تائید کی تمام اساتذہ بھی اس بات پر متفق ہو گئے
مالا کنڈ میں قریبی ہوٹل میں سب نے سفر کی تھکان کم کرنے کے لیے چائے پی کھانا سب نے بس میں ہی کھا لیا جو سب اپنے ساتھ دورانِ سفر کھانے کے لیے لائے تھے تازہ دم ہونے کے بعد سفر دوبارہ شروع ہوا مالا کنڈ کے بعد انکا اگلا پڑاؤ بٹ خیلہ جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا بازار ہے میں ہوا سویرا نے امی کے لیے کافی بحث کے بعد گرم شال ثانیہ کے لیے بیگ ابو اور بھائی کے لیےورخریدی اسکی بحث پر پختون دوکاندار اچھا خاصہ بگڑا مگر پھر مسافروں کا لحاظ کر کے رعائیت کر دی انوشے نے بھی آنا بی اور بابا کے لیے گرم کپڑے لئے. باقی لوگوں نے بھی اپنی اپنی پسند کی خریداری کی.
جب وہ سوات پہنچے تو شام کافی گہری ہو چکی تھی تھکاوٹ اور سردی کے باعث سوات کے ہوٹل میں قیام کرنے کا پروگرام بنایا گیا سوات میں کوئی پیش گی بکینگ نہیں کروائی گئی تھی اس لیے انہیں بمشکل مینگورہ بائی پاس روڈ پر جی قربان نامی ہوٹل میں دو کشادہ کمرے ملے بیس لوگوں کے ساتھ ادو کمروں میں رات گزارنا کافی دشوار تھا لیکن مجبوری تھی انوشے اس سب سے بہت لطف آندوز ہو رہی تھی اس زندگی کا ایک نیا پہلو دیکھا تھا وہ تو محل نما گھر میں رہنے کی عادی تھی .باہر زندگی اتنی خوبصورت تھی یہ احساس اسے اس سفر کے دوران ہوا.
انھوں نے ہوٹل کی بالکونی میں بیٹھ کر کابلی پلاؤ کھایاسامنے دریائے سوات برف کی مانند جما ہوا ایک خوبصورت منظر پیش کررہا تھا اس نے اس منظر کو اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اپنے کیمرے کی آنکھ میں مقید کر لیا. آدھی رات خوش گپیوں میں اور آدھی رات سو کر گزری. انوشے کی کلاس فیلوز جن کی نظر میں وہ محض اک مغرور اور خود پسند تھی اندازہ ہوا کہ وہ جتنی خوبصورت وہ بظاہر تھی اس کا دل بھی اتنا ہی خوبصورت تھا اس کی اس فطرت کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے وہ سب کے ساتھ باقیوں کی طرح تو نہیں گھلی ملی لیکن معمول سے ہٹ کر ذیادہ باتیں کیں تھیں. ناشتے سے فراغت کے بعد تقریباً صبح دس بجے کے قریب مینگورہ سے پینتیس کلو میٹر دور جنت نظیر مالم جبہ کے لیے سفر باندھا تمام لوگ تازہ دم ہو چکے تھے. بہت جلد دریائے سوات ساتھ چھوٹنے لگا بس نے بلندی پکڑ لی گاڑی کی رفتار کم ہو گئی تب اچانک جہان آباد کا بورڈ نظر آیا سعداچانک سے بولا ہمیں میں تھوڑی دیر اترنا ہے افضل نامی ڈرائیور فورا” بول اٹھا یہاں رکنے کا کوئی پروگرام بنایا گیا تھا سر اور یہاں چند کھیت اور پانی کے کچھ چشمے ہیں جو آپ کو جگہ جگہ نظر آئیں گے سعد جواٹ دیا نہیں یہ ایک تاریخی مقام ہے
جہہاں مہاتما گوتم بدھا نے اسراؤں کو درس دیا تھا اور اپسراؤں نے انکے مجسمے کو چٹان میں امر کر دیا تھا یہ معلومات سب لیے نئی تھی سویرا نے بھی سعد کی ہاں میں ہاں ملائی. سعد یونیورسٹی میں انوشے کا competitor تھا لیکن کبھی انوشے سے آگے نہیں جا سکا سر جنید کے مطمئن کرنے پر کہ واپسی پر یہاں اتریں گے سب خاموش ہو گئے اسد نے اپنی معلامات کا رعب جھاڑنے کے لیے انوشے کی طرف دیکھ کر شانے اچکائےمگر انوشےاس سے بے پرواہ ہو کر قدرتی حسن سے اپنی آنکھوں کو ہیرہ کرتی رہی
سویرا کو سعد کی نظروں اور روئیے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ انوشے میں دلچسپی لے رہا ہے سعد ایک اچھا لڑکا تھا اور ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس لیے وہ چاہتی تھی کہ انوشے سعد کی دلچسپی کو خود محسوس کرے اور اپنے لیے کوئی اچھا فیصلہ کرے کیونکہ وہ زمانے کی تلخیوں سے بلکل ناواقف تھی اس کے برعکس سویرا زندگی کے اتاؤ چڑہاؤ جانتی تھی اس کے پاس سارے رشتے موجود تھے اور انوشے کی ساری کائنات اس کے گھر سے شروع ہو کر اس کے گھر پر ہی ختم ہوتی تھی
گاڑی اب انتہائی بلندی پر پہنج چکی تھی انوشے نے ساتھ بیٹھی سویرا کواپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے مضبومضبوطی سے پکڑ لیااس کے چہرے پر اڑتے ہوئے بال اسکی خوبصورتی کو اور بڑھا رہے تھے وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی سویرا کو اس پر بہت پیار آیا اس نے انوشے کا گال تھپتھپایا
افضل چائیے کا بہت شوقین تھا ڈرائیور ہونے کے طے ہونا بھی چاہیے تھا اس نے اعلان کیا کہ چائے پی کر آگے بڑھیں گے سنمبھل کر قدم اٹھائیے گ افضلانے کہا یہاں ہوائیں بہت برفیلی اور شوریدہ سر تھیں چائے پینے کے بعد سفر دوبارہ شروع ہو گیا اچانک ہی منظر بدل گیا سڑک کے دونوں اطراف برف کے پہاڑ نظر آنے لگے اور کہیں کہیں یہ برف ریشمی روئی کی طرح درختوں پر اٹکی پڑی تھی ہوا میں خوشگوار خنکی کا احساس ہو رہا تھا
گاڑی کی رفتار کم ہو چکی تھی اس لئے سواتی بچوں کی جو صرف سرخ شلوار قمیص میں ملبوس تھے اور انکے گال سیب کی طرح سرخ تھے کی تصاویر لینا آسان ہو گیا دور سے ہی پی ٹی ڈی کا ہو ٹل نظر آنے لگاجہاں انہیں قیام کرنا تھا یہاں چئیر لفٹ اور اسکیٹنگ کی سہولت موجود تھی یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں تھی کہ یہاں پہاڑ کو ایک جنگل سے صاف کر کے اسکیٹنگ کے قابل بنایا گیا تھا اور اس میں روسی حکومت کا تعاون شامل ہے ہر سال یہاں اسکیٹنگ کے قومی اور بین الاقوامی مقابلے ہوتے ہیں اور دور دور سے لوگ شرکت کرنے آتے ہیں
انوشے بہت خوش تھی کیونکہ اسے اسکیٹنگ کا موقع مل سکتا تھا پی ٹی ڈی بہت آرام دہ ہوٹل تھا بہت سے نئے شادی شدہ جوڑے بھی وہاں موجود تھے سامان کمرے میں رکھ کر انوشے سویرا کو کھینچ کر باہر لے آئی ہوٹل کے چاروں اطراف برف کے ڈھیر تھے انوشے نے جیسے ہی برف میں قدم رکھا اس کے پاؤں برف میں دھنس گئے برف سعد نے انوشےکی طرف ہاتھ برھایا انوشےنے منع کر دیا اس نے شرمندگی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا وہ انوشے کو چاہنے لگا تھا وہ اسے اپنی چاہت کے بارے میں بتانے کے لئے موقع کی تلاش میں تھا جو اسے نہیں مل رہا تھا انکے سفر کا دوسرا دن تھا شام کا دھندلکا ہوٹل پر اتر آیا تھا سب لوگ لوٹ آئے تین کمرے بک کئے گئے تھے جو بڑنے اچھے طریقے سے آراستہ کئے گئے تھے ہر کمرے میں پانچ پانچ بیڈ لگائے گئے تھے انوشے نے اپنا بیڈ سویرا کے ساتھ اپنا بیڈ شئیر کیا یہ اس کی پہلی شراکت تھی اس سے پہلے کبھی اس نے اپنی کوئی چیز شئیر نہیں کی تھی
اگلی صبح چئیرمین لیفٹ پر بیٹھنے کا پروگرام بنایا گیا ناشتے کے بعد چئیر لفٹ کا سفر کیا گیا وہ سویرا کے ساتھ وہ لفٹ پر بیٹھی جیسے جیسے لفٹ اوپر چڑھتی گئی نظارے دلکش ہوتے گئےکچھ لوگ برف کے پہاڑوں پر اسکیٹنگ کر رہے تھے اس آ دل بھی اک ننھے بچے کی طرح مچلنے لگا اس کے بعد انکا گائیڈ انھیں مالم جبہ کی ترائیوں میں لے کیا اس نے اس کا موازنہ سوئیزر لینڈ کی چراگاہوں سے کرتے ہوئے کہا اس ہریالی کی آگےبھی ہیچ تھی انوشے چونکے سوئیزر لینڈ دیکھ چکی تھی اس لئے وہ اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی ہوٹل تک واپس آتے ہوئے رات گہری ہو رہی تھی سب کی شدید خواہش تھی کہ وہ چاندنی رات میں چاند کو نکلتا دیکھیں سب لوگ چاند دیکھنے کے لئے جاگتے رہے انوشے نیند سے بے حال ہو چکی تھی وہ چاند کا انتظار کئے بغیر نیند کی وادیوں میں چلی گئی
اچانک سویرا کی آواز نے اسے حقیقت کی دنیا میں لا کھڑا کیا وہ آنکھیں ملتی ہوئی بکھرے بالوں کے ساتھ بیلک جینز شرٹ پہنے باہر آگئی سعد جو بظاہر چاند کو دیکھ رہا تھا اچانک اس کی نظر انوشے کی طرف اٹھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
انوشے نے اپنی خم دار لمبی پلکیں چاند کو دیکھنے کے لیے اوپر اٹھائیں سعد کو ایسے لگا جیسے وہ اسکی آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب جائے گا انوشے ان سب سے بے خبر نیند سے بوجھل چاند کو دیکھ رہی تھی کوہ کاف سود کے سامنے تھا درخت برفانی لباس میں ملبوس طلسماتی لگ رہے تھے چاند اپنی تمام تر تابناکیوں کے ساتھ آسمان پر جگمگا رہا تھا ایسے میں سامنے کھڑی انوشے اسے کسی ادارہ سے کم نہیں لگ رہی تھی جو چاندی جیسے پہاڑؤں سے اتر کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ہو وہ رات بھر اسی سحر میں قید رہا.
مسلم جبہ کو وادیوں میں یہ انکا دوسرا دن تھا آج انکا سفر جنگل کی طرف تھا وہاں کچھ پٹھان بچے جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہے تھے باتیں کرتے ہوئے اچانک سویرا انوشے کی طرف مڑی وہ اسے نہ پا کر حواس باختہ ہو گئی نہ جانے کب سے انکا ساتھ چھوٹ گیا تھا سب لوگ آگے نکل گئے سویرا کی پریشان آواز سن کر سر عمر اور مادام فرح اس کی جانب بھاگے بہت ڈھونڈنے کے بعد جب انوشے نہیں ملی تو موسم کی خرابی کی وجہ سے سب واپس اترنے لگے
سویرا بہت رو رہی تھی اسے انوشے کی فکر کھائے جا رہی تھی وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ جلال انکل کو کیا جواب دے گی تھوڑی دور پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے چند لوگ کھڑے تھے اں میں سے کچھ لوگ آرمی کے لباس میں ملبوس تھے سر عمر نے ان سے انوشے کے متعلق مدد مانگی میجر عقیل نے مدد کے لیے حامی بھر لی موسم بہت خراب ہو چکا تھا انوشے کو ان سے الگ ہوئے تین گھنٹے گزر چکے تھے وہ انکی حفاظت کیلئے دعائیں مانگ رہی تھی
میجر عقیل اور دراز قد وقامت بھورے بال گہری براؤن آنکھیں سفید رنگت والا نوجوان کیپٹن یوسف انوشے کی تلاش میں جنگل کی طرف چل پڑے جنگل پہنچے تو تھوڑی دور جھاڑیوں میں انھیں کسی انسانی وجود کا احساس ہوا کیپٹن یوسف جب جھاڑیوں کےاندرگیا تو وہ ڈری سہمی بند آنکھوں میں سمٹی بیٹھی تھی
وہ اس کے قریب گئے اسے پانی کی پیش کش کی اس نے پانی پیا جب اس نے آنکھیں اٹھا کر کیپٹن یوسف کی طرف دیکھا تو اک لمہے کے لیے آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئی اتنا پر کشش اور خوبصورت مرد اس نے پہلی دفعہ دیکھا تھاانھوں نے اسے سہارا دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو انھیں احساس ہوا کہ وہ بخار سے تپ رہی تھیوہ اسے سہارا دے کر جھاڑیوں سے باہر لے کر آئے جہاں میجر عقیل ان کا انتظار کر رہے تھے
وہ یوسف کے سہارے پہاڑ سے نیچے اتری جہاں سویرا سر عمر اور مادام فرح کے ساتھ اسکا انتظار کر رہی تھی بہت کہنے کے باوجود وہ ہوٹل انوشے کے بغیر جانے کے لیے رضامند نہ ہوئی وہ سویرا سے لپیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جب وہ ہوٹل پہنچے تو سہ پہر کے تین بج چکے تھےانوشے کا بخار بہت تیز ہو چکا تھا دونوں آرمی آفیسرز انکے ساتھ ہوٹل تک گئے
جب سعد نے فکر مندی کا اظہار کیا تو سویرا آگ بگولا ہو گئی کہ جب وہ نہیں مل ری تھی تو تب تم کدھر تھے حالانکہ اس نے کوشش کی تھی مگر سر عمر نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ہم لوگ یہاں کے راستوں سے واقف نہیں اس لیے کسی کی مدد لینی چاہیے
وہ بیچارہ سویرا کو پریشان سمجھ کر چپ کر گیا سہ پہر کا وقت تھا اور سب کا پہاڑوں پر برف دیکھنے کا پروگرام تھا مگر انوشے کی طعبیت کی وجہ سے ان کو اپنا پروگرام ملتوی ہوتا دکھائی دے رہا تھا مگر انوشے نے کہا کہ وہ اس کی وجہ سے وہ اپنا پروگرام خراب نہ کریں وہ اب بہتر ہے سویرا نے کہا کہ وہ انوشے کے ساتھ رکے گی مادام فرح بھی ان کے ساتھ رکیں سعد بھی نہیں جانا چاہتا تھا مگر سویرا کے رات کے روئیے کی وجہ سے بولا نہیں
مادام فرح سو چکیں تھیں انوشے غنودگی کی حالت میں تھی مگر اس کا بخار کم ہو چکا تھا سب لوگ برف باری دیکھنے چلے گئے ساڑھے چار بجے کے قریب وہ انوشے کی خبر گیری کے لیے آیا
سویرا باہر دروازے پر کھڑے تھی انوشے دوائی کے کر سو گئی تھی وہ سویرا کو دیکھ کر تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولا دراصل میں یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا آپ کی سہیلی کی خیریت معلوم کرتا ہوا چلوں وہ مسکر دی آئیے وہ یونیفارم میں آج بھی نہیں تھا جس دن وہ انوشے کو ریسکیو کرنے گیا اس دن بھی وہ یونیفارم میں نہیں تھا وہ اندر داخل ہوا تو انوشے اپنے بازو آنکھوں پر رکھے ہو ئے لیٹی ہوئی تھی
اسے سویرا اور یوسف کی آوازوں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کون آیا ہے اسکے باپ کے بعد یوسف وہ پہلا مرد تھا جس نے اسے اتنی جلدی متاثر کیا تھا وہ ابھی اس سے نہیں ملنا چاہتی تھی سویرا اور یوسف تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے سویرا نے چائے منگوائی وہ چائے پی کر باہر نکلا
تو انوشےفوراً آٹھکر بیٹھ گئی اور سویرا سے الجھنے لگی کہ ایسے ہی ہر ایرے غیرے کو لے آؤ گی ہم لوگ یہاں کسی کو کتنا جانتے ہیں کیا پتہ کون کیسی نیت سے آئے آہستہ بولو وہ سن لے گا ابھی ابھی باہر نکلا ہے کیا سوچے گا وہ اجنی کب ہے تمہاری خان بچائی تھی اس نے اگر وہ ایسا ویسا ہوتا تو تم آج یہاں میرے سامنے بلکل سہی سلامت نہ بیٹھی ہوتی سویرا اسے سمجھاتے ہوئے انداز میں بولی
وہ تو اس کے ساتھ آرمی آفیسر بھی تھا تو شرافت کا مظاہرہ کیا ہو گا انوشے نے اسکی بات کا جواب دیا .تو وہ بھی تو ایک سویرا نے بولنے کی کوشش کی مگر انوشے نے اسے بولنے کا موقع نہیں دیا یوسف انکی ساری باتیں سن کر گیا تھا وہ شرمندہ سا واپس لوٹ گیا جب سب واپس آئے تو شام گہری ہو چکی تھی برف باری کی وجہ سے انکے جوتے اور کپڑے گیلے ہو گئے تھے
انوشے کی خیریت دریافت کرنے کے بعد سب کھانے کے لیے کہنے لگے سب نے ڈنر کیا اور تھوڑی دیر گپیں ہانکنے کے بعد تھکاوٹ کی وجہ سے سونے کی تیاری کرنے لگے رات گہری ہوتی چلی گئی نیند انوشے کی آنکھوں سے جیسے روٹھ گئی ہو وہ یوسف کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ اس کے بارے میں کیا سوچے گا اگر اس نے ساری باتیں سن لیں ہوئیں تو ….
یہ سوچتے ہوئے بہت دیر سے اس کی آنکھ لگی صبح جب وہ اٹھی تو بخار بلکل اتر چکا تھا باقی لوگ دیر تک سوتے رہے .مادام فرح جلدی آٹھ گئیں تھیں وہ ہوٹل سے باہر قدرتی خوبصورتی دیکھنے کے لئے نکل گئیں انوشے کھڑکی کے پاس پاس آکر باہر کا منظر دیکھنے لگی ہر طرف برف ہی برف دکھائی دے رہی تھی اور کہیں کہیں یہ برف ریشمی روئی کی طرح درختوں پر اٹکی ہوئی تھی ہوا میں اک خوشگوار خنکی کا احساس ہو رہا تھا وہ اس منظر میں کافی دیر تک کھوئی رہی
گیارہ بجے ناشتے کے لیے تازہ دم ہو کر تیار تھے ناشتہ کرتے ہوئے مادام فرح میجر عقیل اور کیپٹن یوسف کے ساتھ ناشتے کی میز پر نمودار ہوئیں. میں باہر چہل قدمی کر رہی تھی تو ان صاحبان ملاقات ہو گئی تو ان کو ناشتے کی آفر کی انھوں نے ہماری انوشے کی جان بچائی اس دن کے بعد ان کا شکریہ ادا کرنے کا موقع ہی نہیں ملا( وہ یوسف کی کل کی آمد سے لا علم تھیں وہ اس وقت سو رہیں تھیں جب وہ آیا تھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری













