کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ چھٹی قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟
تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی
مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور
گزشتہ یعنی دوسری قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور ریڈیو کی مین بلڈنگ کے اوپر والے فلور سے 7-8… کمرے خالی کروا کر انہیں ڈسٹمپر کروا کر اٹیچ باتھ بنوا کر اس میں بیڈ اور صوفے رکھوا دئے گئے ہیں ۔۔ خالی کرواتے ہوئے کہا گیا تھا یہاں کال سینٹر بنایا جا رھا ہے ۔۔ پھر کہا یہاں اکیڈمی بنائی جارہی ہے۔۔۔ اور اب کہہ رھے ہیں گیسٹ روم بنائے جارہے ہیں، ہو سکتا ہے بیڈ اینڈ بریک فاسٹ کھولنے کا پروگرام ہو مالیات میں اضافے کے لیئے
اسی طرح ایک پوڈ کاسٹ ” سات سروں کا بہتا دریا کے نام سے ایک خاتون منزہ عالم پروگرام کر رہی ہے جو ڈی جی کی بہن کے نام مشہور ہے انکا پروٹوکول ڈی جی کی طرح ہی ھے اور اگر ذرا سی بھی کمی آئے تو سب لائن حاضر ہوجاتے ہیں
آج کی قسط قدرے طویل ہو گئی اور سنٹرل پروڈکشن کی تباہی کی بات ہی نہ ہو سکی تو اسے اگلی قسط پر اٹھائے رکھتے ہیں
آیئے آج کسی دوسرے موضوع یا کسی تمہید کے بغیر براہ راست بات ریڈیو پاکستان کے آواز خزانہ سنٹرل پروڈکن کی کرتے ہیں جس نے موسیقی کے شعبے میں بے بہا خدمات سر انجام دیں اور ریڈیو پاکستان کے اس شعبے کو بھی بلند قد اور معروف ماہرین نشریات نے اپنا خون جگر دیا لیکن ریڈیو پاکستان کی تہذیب اور اسکے قومی تفاخر سے نابلد وزارت اطلاعات سے آنے والے سربراہوں کی اکثریت نے وزارت کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے اور وزارت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے اس ادارے کو مختلف جہتوں سے نقصان پہنچایا اور ایسے ہی نقصنات میں سنٹرل پروڈکشن کا نقصان بھی شامل ہے

سنٹرل پروڈکشن لاہور جہاں سارا سارا دن موسیقی کے ملک بھر میں مقبول لوگوں کا ڈیرہ رہتا تھا ملک کے نامی گرامی سازندے اور موسیقار اپنے فن سے اس عمارت کے درودیوار کو سجائے رکھتے تھے جہاں ملک کے بڑے اور معروف شاعر اور گلوکار آنا اپنے لیئے فخر سمجھتے تھے وہاں اب جیسے خاک اڑتی ہے اور ویران درودیوار جیسے مکینوں پر نوحہ کُناں ہیں
سنٹرل پروڈکشن کی عمارت کو ریڈیو پاکستان کے موجودہ سربراہ چوہدری طاہر حسن نے اے پی پی لاہور بیورو کو کرائے پر نہیں دیا بلکہ ان کے پیشرو عاصم کھچی نے دیا اور ظاہر ہے یہ انکا ذاتی فیصلہ نہیں ہو سکتا یہ سب وزارت اطلاعات کی مرضی اور حکم پر ہوا ہو گا لیکن ہمارے خیال میں ایک سربراہ کے طور پر انہیں وزارت کے لوگوں کوسینٹرل پروڈکشن کی افادیت سے آگاہ کرنا چاہیئے تھا لیکن ہمارے ہاں ملک کے ہر شعبے میں شاہ کی وفاداری کا رویہ کس کس جگہ اور کس حد تک نقصان نہیں پہنچاتا
میں نے اس ضمن میں جب معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ اے پی پی نے ریڈیو پاکستان کو کئی ماہ کا کرایہ ادا نہیں کیا۔ اب اگر گزشتہ چند روز میں یہ کرایہ ادا ہو گیا ہو تو معلوم نہیں
سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اقدام سے کتنی بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہو ئے ہیں کتنے ہی سازندوں کے گھروں کے چولہے سرد ہوئے ہیں۔ عمارت کے درودیوار عجیب سراسیمہ سے نظر آتے ہیں۔ میں پوری کوشش کے باوجود وہ جگہ معلوم نہ کر سکا جہاں سنٹرل پروڈکشن کا سازو سامان رکھا گیا ہے جس کسی سے بھی معلوم کیا اس نے صرف اتنا بتایا کہ ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے لیکن لیکن کسی نے بھی اس کمرے تک رہنمائی نہیں کی شاید نوکری جانے کے خوف سے

سی پی یو لاہور کی موجودہ صورت حال
ریڈیو ہاکستان نے نہ تو آج تک اپنی سرکارہ تاریخ مرتب کی اور نہ ہی سنٹرل پروڈکش جیسے بڑے اور اہم شعبوں کی تاریخ لکھی گئی، اس لیئے مختلف ذرائع مختلف معلومات اور تاویلیں بیان کرتے ہیں اور ایسی معلومات کے حصول میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔ ہم نے بھی جب مختلف ذرائع سے رابطہ قائم کیا تو جو چند معلومات ملی ہیں اسکو تاریخ مرتب کرنے کے طور پر لکھے دیتے ہیں
ریڈیو پاکستان کے ایک بہت معمر پنشنر نے ہمیں بتایا کہ سی پی یو یعنی سنٹرل پروڈکش بننے سے پہلے اسے ٹرانسکپشن سروس کہا جاتا تھا اور اسکا دفتر صرف کراچی میں تھا۔ سنٹرل پروڈکشن یونٹ لاہور کا قیام 1973 میں سلیم گیلانی صاحب نے کیا لیکن اسکے پہلے اسٹیشن مینجر سید رضی ترمذی تھے، اس کے قیام کے وقت 39 سازندے باقاعدہ بھرتی کئے گئے، اور اس کے قیام کے بعد پاکستان کے تقریبآ تمام گلوکاروں نے سی پی یو لاہور میں ریکارڈنگ کروائی، سی پی یو کے قیام کا ایک مقصد پاکستان کے خاص خاص موقعوں پر پر خصوصی تقاریر، مزاکرے، فیچرز اور نغمات ریکارڈ کرنا بھی تھا، اس کے ساتھ ساتھ کلام اقبال اور قومی نغموں کی جتنی ریکارڈنگ اس وقت پاکستان میں موجود ہے اس کا بیشتر حصہ سی پی یو میں ریکارڈ ہوا
نامور گلوکاروں جن میں مہدی حسن،نصرت فتح علی خان، اقبال بانو ،غلام علی، اسد امانت علی خان،فریدہ خانم حامد علی خان اصف مہدی سائرہ نسیم حمیرہ چنا حمیرہ ارشد غلام عباس اعجاز قیصر اور بہت سے دوسرے گلوکاروں نے موسیقی کی تمام اصناف، غزل گیت لوک گیت کلاسیکل ریکارڈ کروائے،سلیم گیلانی، رضی ترمذی نسرین انجم بھٹی ، چوہدری اکرم، سجاد ترمذی ،رضا کاظمی، ملک عزیز اولک، کبیر شاہ، شہوار حیدر خالد وقار اور خالد اصغر اور چند دیگر نام وہ نام ہیں جنہوں نے مرحوم سی پی یو کو نام دیا مقام دیا اور ناعاقبت اندیش لوگوں نے اس ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔
چاہیئے تو یہ تھا کہ ریڈیو پاکستان کو کماؤ پوت بنانے والے اذہان اس شعبے کو پروڈکشن ہاؤس بناتے اور یہاں نجی ریکارڈنگز کر کے ریڈیو کی آمدن میں اضافہ کرتے لیکن انہوں نے اسے بند کرنا ہی مناسب سمجھا اور توجیہہ یہ دی کہ یہ کام اسلام آباد صدر دفتر کے سی پی یو میں ہو سکتا ہے۔ کسقدر ہو سکتا ہے ریڈیو سے تعلق رکھنے والے لوگ بخوبی اس سے واقف ہیں
۔واپس چلتے ہیں لاہور ریڈیو پر جدت اور تبدیلی کے نام پر ہو نے والی بظاہر تباہی کی طرف جہاں بعض اطلاعات کے مطابق آمدْن بڑھانے کے کال سینٹر کھلے گا گویا ایک سرکاری عمارت میں ہر کس وناکس کو رسائی ہو گی جو کسی وقت بھی سیکیورٹی کا بڑا مسلہ بن سکتا ہے۔ کچھ اطلاعات یہ ہیں کہ یہاں اکیڈمی بنے گی۔ آخر کار ہو گا کیا جب یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو معلوم ہو گا

کال سینٹر کے لیئے بننے والے کمرے
فنڈز کی کمی یا عدم موجودگی کا بہانہ سمجھ میں نہیں آتا۔پیسے کا انتظام کرنا تو ڈی جی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کیونکہ الله تعالیٰ نے اسے ادارے کا سربراہ بنایا ہوتا ہے۔ وہ ملازمین، انکے بچوں، پنشنرز، اور ان کے بچوں کے حقوق کا پاسبان ہوتا ہے۔ ڈی جی کو باپ کی طرح شفیق ہونا چاہیے۔ جیسے کہ اسی قومی ادارے میں اجلال حیدر زیدی صاحب جیسے کچھ اور لوگ تھے
اس قومی ادارے کے ہر سربراہ کے ساتھ ایک خوشامدی ٹولہ ہوتا ہے اور ریڈیو پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار اسوقت کا ڈی جی اور اس کے ساتھ خوشامدی ٹولہ ہی ہوتا ہے۔
ریڈیو پاکستان پر نازل ہونے والے بابو۔ مملکت_پاکستان کی نوید سنانے والے ادارے نے اپنے قیام سے لیکر اب تک ترقی و تنزلی کے جتنے بھی مدوجزر جھیلے ہیں وہ موجودہ صورتحال کے مقابلے میں انتہائی اچھے زمانے تصور کیئے جاسکتے ہیں۔ یہ قومی ادارہ اور یہاں سے نشر ہونے والے پروگرام کوئی پندرہ بیس سال پہلے تک اس ملک میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز سمجھے جاتے تھے اور دنیا بھر میں پاکستان کی آواز اور پہچان کا موثر ترین ذریعہ تھے۔

پھر وقت بدلا اور چھوٹی چھوٹی دوکانوں کی صورت پرائیویٹ میڈیا نے اس میدان میں بازاری سوچ اور سطحی رجحانات کا ایسا گند پھیلایا کہ آواز کا چہرہ مسخ ہوکر رہ گیا۔ اس کاروائی میں سب سے بڑا حصہ وزارت_اطلاعات و نشریات سے نازل ہونے والے ایسے افسران کا ہے جنہیں یا تو سزا کے طور پر یا پھر کم تر صلاحیت کی وجہ سے ریڈیو پاکستان جیسے اداروں میں “کھپایا” جاتا ہے۔
یہ لوگ ریڈیو پاکستان میں نازل ہوتے ہی اپنے معاملات کو سیدھا کرنے کے لیئے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور اس کے وسائل ذاتی خواھشات کی تکمیل، اقربا پروری، دوست نوازی، اگلے گریڈ میں ترقی اور سفارش اور اپنے سے بڑے افسران کو خوش کرنے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتاہے جس کا سامنا آج کل اس ادارے کو ہے، ملازمین کو نہ تنخواہ مل رہی ہی اور نہ ہی پینشنرز کو پینشن۔ نہ جدید مشینری کو خریدنے کے لیئے رقم ہے اور نہ ہی مشینوں کی مرمت کے درکار مال اسباب۔

اس ادارے کے بنیادی شعبے یعنی پروگرام کی حالت اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔ جان بوجھ کر اس شعبے کو عضو معطل بنا کررکھ دیا گیا ہے۔ کبھی ایک نام اور کبھی نئے منصوبوں کی آڑ میں پیسے دستیاب ہیں لیکن پروگراموں میں کام کرنے والے بھیک کے مترادف ہیں۔ ریڈیو پاکستان میں جو بابو بھی نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ دوستوں اور مفاداتی بزرجمہروں کا ایک لشکر بھی اس ادارے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔













