ریڈیو نے پہلی بار 1890 کی دہائی میں کام کرنا شروع کیا اور آج بھی یہ آزاد اور خود مختار پریس میں ایک اہم کردار ادا کر ریا ہے اور ہر ہفتے دنیا بھر میں اندازاً 3 ارب لوگوں کو معلومات فراہم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ نے 1946 میں ریڈیو کے دنیا کے دور دراز کونوں میں لوگوں تک، بالخصوص بحرانی صورت حالات میں، معلومات پہنچانے میں کلیدی کردار کی وجہ سے 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ ذریعہ کم خرچ بھی تھا۔ ریڈیو اب بھی ایسا کر سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کچھ کر سکتا ہے۔
ریڈیو کا عالمی دن منانے کی ابتداء سن 2012 سے شروع ہوئی، یہ دن منانے کا فیصلہ 3نومبر 2011ء کو یونیسکو کے 36ویں اجلاس کے موقع پر کیا گیا اور یہ دن پہلی بار 13فروری 2012ء کو منایا گیا
ریڈیو پر نشریات کی ابتدا 1906ء میں ہوئی ۔ دنیا بھر میں اس وقت 51ہزار ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے 2.4ملین افراد ہر قسم کی نشریات سنتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 44 ہزار ریڈیو اسٹیشنز اپنے 5 ارب سامعین کیلئے آج بھی 24 گھنٹے نشریات پیش کر رہے ہیں جو دنیا کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد عوام کے زیرِ استعمال ہے۔
سنہ 1919 میں پہلی بار امریکی شہر میڈیسن میں واقع یونیورسٹی آف وسکنسن نے انسانی آواز کو صوتی لہروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر نشر کیا۔امریکا کے شعبہ کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق ریڈیو کا پہلا تجارتی لائسنس 15 ستمبر 1921 کو اسپرنگ فیلڈ میسا چوسٹس کے ڈبلیو بی زیڈ اسٹیشن کو دیا گیا۔ گویا 15 ستمبر 1921 ریڈیو کے بطور تجارتی مقاصد استعمال کا پہلا دن تھا ۔
برصغیر پاک و ہند میں مارچ 1926 میں انڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نجی حیثیت میں قائم ہوئی اور اس نے جولائی 1927 میں بمبئی میں پہلا اسٹیشن قائم کر کے ہندوستان میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا۔ستمبر 1939 میں دہلی سے تمام زبانوں میں خبرنامہ نشر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا
ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ریڈیو اٹلی کے سائنس دان اور الیکٹریکل انجینئر گوگلیلمو مارکونی کی ایجاد ہے۔ اس نئی ایجاد پر مارکونی کو 1915ء میں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا ،پاکستان کی آزادی کا اعلان لاہور سے مارکونی کے بنائے ٹرانسمیٹر سے ہوا تھا۔
ریڈیو نے براڈ بینڈ اور ڈیجیٹل آڈیو براڈکاسٹنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیوں کو اپنایا اور اسے اب موبائل آلات پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہنگامی مواصلات کے لیے یا قدرتی آفات کے بعد ریڈیو اُس وقت بھی اپنی نشریات جاری رکھتا ہے جب دوسرے ذرائع کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی ریڈیو کی لہریں کم فریکوئنسی پر سفر کرتی ہیں اور یہ سیلولر ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ دور تک پہچتی ہیں۔ ریڈیو کو کسی بھی ہنگامی تیاری کی کٹ کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
بحرانوں کے دوران سامعین تک پہنچنا
2021 برما، کیوبا اور ایتھوپیا کے ٹیگرے کے علاقے میں حکومتوں نے انٹرنیٹ کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) سے وابستہ نیٹ ورک ریڈیو کے ذریعے معلومات فراہم کرتے رہے۔
یو ایس اے جی ایم نے کہا کہ اس کے نیٹ ورکس نے مقامی زبانوں میں تازہ ترین خبروں تک عوام کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ان علاقوں میں ریڈیو کے پروگراموں کی نشریات کے دورانیے بڑہا دیئے۔
دنیا بھر میں 142 ملین سے زیادہ لوگ 2021 میں ہر ہفتے یو ایس اے جی ایم نیٹ ورکس سے ریڈیو کے ذریعے خبریں سنتے ہیں۔ اِن نیٹ ورکس میں مندرجہ ذیل نیٹ ورک شامل ہیں:
وائس آف امریکہ [وی او اے]
ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی
آفس آف کیوبا براڈکاسٹنگ [ٹی وی مارٹی اور ریڈیو مارٹی]
ریڈیو فری ایشیا
مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس [ریڈیو الحُرا اور ریڈیو ساوا]
یہ ادارے اُن ممالک میں مقامی زبانوں میں خبریں نشر کرتے ہیں جن میں میڈیا یا تو محدود ہے یا آزاد نہیں ہے۔ امریکی حکومت میڈیا کے اِن اداروں کو مالی مدد تو فراہم کرتی ہے مگر یہ حکم نہیں چلاتی کہ یہ ادارے کس قسم کی خبریں دیں یا وہ کیسے خبریں دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ آزاد پریس کی حمایت کرتا ہے۔
وی او اے ریڈیو کی پہلی سرکاری نشریات 1942 میں ولیم ہارلن ہیل نے نیویارک سٹی سے کیں۔ یہ نشریات دوسری جنگ عظیم کے دوران پورے یورپ میں لوگوں تک پہنچیں۔ “خبر اچھی ہو سکتی ہے۔ خبر بری ہو سکتی ہے۔ ہم آپ کو ہمیشہ سچ بتائیں گے۔‘‘
امریکہ میں ریڈیو کون سنتا ہے؟
لاکھوں امریکی اب بھی ریڈیو پر خبریں سنتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق، روایتی اے ایم/ایف ایم ریڈیو کو، جسے “ٹیریسٹریل ریڈیو” [ارضی ریڈیو] بھی کہا جاتا ہے اب بھی امریکی آبادی کا ایک بڑا حصہ سنتا ہے جبکہ آن لائن آڈیو اور پوڈ کاسٹنگ کے سامعین میں گزشتہ دہائی میں اضافہ ہوا ہے۔
بارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے 83% امریکیوں نے 2020 میں کسی ایک ہفتے میں روایتی اے ایم/ایف ایم ریڈیو سنا۔
2021 میں 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 41% امریکیوں نے پچھلے مہینے میں پوڈ کاسٹ سنا۔ 2008 میں یہ شرح صرف 9% تھی۔
2021 کے اوائل میں 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 68% امریکیوں نے پچھلے مہینے میں آن لائن آڈیو سنی۔













