روح گو یا لبیک کا نغمہ گنگنانے لگی۔ پروفیسر نصرت نسیم

1
1110

اعتکاف : ساری دُنیا کے جھمیلوں کو چھوڑ کر ایک گوشہ تنہائی میں اپنے رب کے حضور حاضری دل وجاں سے ایک وہ وقت تھا۔ جب لبیک الھم لبیک کی صداؤں نے روح کے تار چھیڑ دئیے تھے۔آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ بھیگ گئی تھیں اور اب اعتکاف کی نیت کے ساتھ ہی قرآن پڑھنے آنسوؤں کی جھڑی سی لگ گئی ۔ اس رونے میں ایک عجیب سی لذت و سرشاری ۔ یہ آنسو گویا روح کی کثافتوں کو دھورہے ہوں۔ روح گو یا لبیک کا نغمہ گنگنانے لگی۔ اے اللہ ! میں تیری حضور حاضر ہوں۔ مجھے اپنے قرب سے نواز دے ۔ سچل سرمست نے کہا تھا۔ دل میں عشق ہے تو دل ہے۔ عشق نہ ہوتو مٹی ہی مٹی ۔ دو جہاں میں وہی سرخ روہے۔ جو راہ عشق سے نہیں ہٹا اور عبدالطیف بھٹائی نے فرمایا۔

وہ جو طلب کے شوق میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ آرام کو تج ۔۔کر عقیدت سے بندھے ہوئے ایسا نہ ہو تا تو مدت سے پہلے مر جاتے ۔

ترجمہ:۔ بے شک تو جسے چاہے اپنے فضل و کرم سے نواز سے ۔ کہ تو بڑے فضل والا ہے ۔ جسے تیرا فضل و کرم مل جائے اُسے اور کیا چاہیے۔ قرآن پاک پڑھتے پڑھتے بار بار آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ۔ یوں گویا پہلی دفعہ یہ الفاظ میرے دل پر اُتر رہے ہوں۔ عربی نہ جاننے کے باجود یوں جسے ان الفاظ کی روح میرے وجدان کو چھورہی ہو۔ یا اللہ یہ تو بڑا گہرا سمندر ہے ۔۔۔۔۔بے حد بے کنار تو اپنے خاص فضل و کرم سے مجھے بھی اس سمند ر سے چند قطرے عطا کر ۔ چند قطرے اسکے مفہوم تک رسائی ۔ کبھی وہ وقت تھا کہ جب اصحاب صُفہ کے چبوترے پر نوافل پڑھتے ۔ فخر ، تشکر ، خوشی کے ساتھ ساتھ کہا کم علم کیسی اور کم مائیگی کا احساس جس نے رُلا رُلا دیا۔ یا اللہ صد شکر کہ ایسی پاکیزہ جگہ پر حاضری نصیب گی۔ تو اس کے صدقے علم نافع بھی عطا کر ۔ اور آج ایک بار پھر ایسے ہی ملے جلے احساسات و کیفیات کی بھر مار ۔ کچھ ان دیکھے جذبات و محسوسات کچھ ایسا جسے لفظ بیان نہ کر سکیں۔

رب زدنی علما۔ ایسا لگا جیسے دُنیا کے اس سمندر کو کنارے یا فرازِ کوہ پر سے دیکھ رہی ہوں۔ دُنیاداری میں اُلجھے مایا جال میں گرفتار اس آخری عشرے میں بھی دُنیا کی محبت میں بندھے لوگ ( یا اللہ تر ا فرمان کہ دُنیا چند روز ہ تماشہ ہے متاع حقیر ۔ مگر اسکی محبت اور اس حال سے نکلنا کیسا مشکل )۔ یا اللہ یہ دُنیا قطرہ اور آخر ت سمندر ، مگر ہم قطرے کو ہی سمندر سمجھ بیٹھے۔
تنہائی ۔۔۔۔۔عبادت ۔۔۔۔۔اور آنسو ۔ ۔۔۔۔۔اس لذت کو پاکر احسا س کہ لوگ کیوں تاج و تخت دُنیا تج کر بنوں اور صحراؤں میں جانکلتے ہیں اور اللہ کے برگزیدہ بندے ۔ یکسوئی سے عبادت کے لیے گوشہ تنہائی اور غاروں کو چنتے ہیں ۔ اس معجزٰنما کلام کا اولین پیغام بھی غارِ حرا میں اُترا ۔ یہ کیسی دُنیا اسکی لذت کیسی انوکھی حرب ابھی تو اس راہ پر ہمارا پہلا قدم نہیں ۔ تب بھی یہ کیفیت یہ سرشاری یہ نشہ۔ وہ جو اس عشق میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ خود نعرہ مستانہ بلند کر تے اور جو اسے پانے کے لیے زندگی تک قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اپنے محبوب پالیتے ہیں۔ وہ جو اس دُنیا کے عوض وہ دُنیا اور محبوب کو پالیتے ہیں۔

تو وہ کیا محسوس کرتے ہونگے ۔ اس عشق کی لذت کیا ہوگی؟ ابھی تو ہمارے گناہ گار، دُنیا دارلبوں پر عشق کا نام بھی نہیں آیا ۔ اس عشق کے مزے وہ جانے وہ سمجھے۔ جو بے خطر آتش نمرود میں کود جائیں۔ تپتی ریت پر گھسیٹیں جائیں تب ھی الا الہ کا ترانہ امام مالک ، امام حنفیہ اور کیسی کیسی ہستیاں جو اس عشق میں دُنیا کے خزانے اور اقتدار کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیں ایک طویل سلسلہ اللہ کی برگزیدہ ہستیوں کا اور سب سے بڑ ھ کر اس پیغام کا داعی۔ جس نے ہر لالچ اور دھمکی کے جواب میں فرمایا اگر میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج بھی رکھ دیں تو مجھے میرے راستے سے نہیں ہٹا سکتے۔

ہم ایسے ہی جلیل قدر پیغمبر کے نام لیوا۔ یا اللہ اس نام کے صدقے ہمیں بھی یہ جذبہ یہ عشق کی گرمی عطا کر ۔ قرآن کو لبوں پر جاری دل میں ساری اور معنی و مفہوم تک رسائی ۔ دُنیا سے بے نیازی اور اپنی محبت عطا کر ۔ اس لیے کہ یہ محبت مضبوط اور دُنیا سے بے نیاز بناسکتی ہے۔ تیری عطا بے شمار ، بے حساب ، بے حدو بے کنار ہم عاجز نا شکر ے تیری نعمتوں کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتے ۔ بس تو اپنی رحمت سے رحمان اور رحیم ہونے کے طفیل ہمیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور مجھے رنگ دے۔ مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے۔ کہ تجھ سے بڑ ھ کر کس کا رنگ خوبصورت ہے۔ مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے ۔ جو تیرے رنگ میں رنگا گیا ۔ تو دین و دُنیا کی فلاح پا گیا۔ یا اللہ صد شکر تو احساس کی اس منزل پہ لایا۔ مگر آگے کے راستے بڑے کٹھن ۔ انکو آسان کر دیے۔ اپنی محبت و رہنمائی سے اپنے فضل وکرم سے ۔ کہ اب عمر کی نقدی کم۔ تو ہی عمر کے اس آخری حصے کو زیادہ قیمتی ، نافع اور پُر معنی بنا دے۔ اے میری عمر رواں ! آہستہ چل آہستہ کہ احساس زیاں ہونے لگا ہے۔ میں حقیر زرہ ہوں ۔ تو اپنی محبت سے چمکا کر ستارہ بنا دے۔ اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ اپنے رنگ میں رنگ دے۔ کہ سب سے پکا سب سے بہتر رنگ تیرا ہی ہے۔ اور تجھ سے بڑھ کر کس کا رنگ خوبصورت ہے۔

؂دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مرجاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا

شاہ بھٹائی نے فرمایا ۔

وہ جو طلب کے شوق میں بڑھتے چلے جارہے ہیں آرام کو تج کر۔

؂عقیدت کے یقین سے بندھے ہوئے
ایسا نہ ہوتا تو موت سے پہلے مرجاتے

سچل نے فرمایا ۔

؂دل میں عشق ہے ۔تو دل ہے۔ ورنہ مٹی ہی مٹی
دو جہاں میں وہی سرخ روہے ہے جو راہ عشق سے نہیں ہٹا

پروفیسر نصرت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY