صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان مذاکرات

0
40

سنگاپور میں امریکی صدر کی شمالی کوریا کے رہنما سے ون آن ون ملاقات ختم ہوگئی، ملاقات کے دوران تقریباً 45 منٹ تک بات چیت ہوئی،جس کے بعد وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔

گرم جوشی سے کم اور ٹرمپ کا مصافحہ تاریخی لمحہ بن گیا، ون آن ون ملاقات میں شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا معاملہ سر فہرست ہے۔

امریکی و شمالی کوریا سربراہان ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی جس میں شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا، اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ سے کہا کہ مل جل کر دونوں ملک تمام مسائل حل کرلیں گے۔

وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران امریکی اور شمالی کوریا کے سربراہان کی مترجموں کے ذریعے گفتگو ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ کےساتھ ملاقات بڑا اعزا زہے،ہم ساتھ مل کر بڑی کامیابی حاصل کریں گے اور وہ بڑا مسئلہ حل کریں گے، جواب تک حل نہیں ہو سکا۔

مسئلہ حل کرنے کے عزم کے اظہار کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر سربراہ شمالی کوریا سے ہاتھ ملایا۔

سربراہ شمالی کوریا کم جونگ ان نے جوابی گفتگو میں کہا کہ میں بھی ان معاملات پر یقین رکھتا ہوں،چیلنجز ہوں گے لیکن صدر ٹرمپ کے ساتھ ہم کام جاری رکھیں گے۔

کم جونگ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے اس ملاقات کے لیے تمام خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کیا، مجھےیقین ہے کہ یہ ملاقات امن کے لیے بہت مفید رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ مسئلہ حل کریں گے اور کامیاب ہوں گے، مستقبل میں ان معاملات پر آپ کے ساتھ کام جاری رکھنے کی امید کرتا ہوں۔

67برس سے ایک دوسرے کے دشمن، ایٹمی ہتھیاروں سے برباد کرنے کی دھمکیاں دینے والے پہلی بار ایک ساتھ بیٹھ گئے، پوری دنیا کی نظریں امن کی نئی امید پرلگ گئیں۔

ون آن و ن ملاقات سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ توقع ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ سے تعلقات بہترین رہیں گے، بات چیت کا نتیجہ شاندار کامیابی کی صورت میں نکلے گا۔

کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک پہنچنے کا سفر آسان نہ تھا،ماضی کے تعصبات، تحفظات اور رویوں نے آگے بڑھنے میں مشکلات پیدا کیں مگر دونوں ملکوں نے ملاقات کے لیے تمام رکاوٹیں عبور کیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ زنجیروں نے ہمیں جکڑا ہوا تھا، آنکھیں اور کان بند کر رکھے تھے، شمالی کوریا اور امریکا نے اس تاریخی ملاقات کے لیے تمام رکاوٹیں عبور کیں اور یہاں پہنچے۔

اس سے قبل سنگاپور میں ہوئی اس تاریخی ملاقات کے لیے کم جونگ ان اپنے وفد کے ساتھ ہوٹل پہنچے، کچھ لمحات بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ بھی ہوٹل پہنچ گیا۔

امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان ملاقات کے آغاز میں سنجیدہ نظر آئے، بات چیت ہوئی تو چہروں پر مسکراہٹ بھی آگئی۔

ڈونلڈٹرمپ اور کم جونگ ان نے باقاعدہ ملاقات سے پہلے تصویر کھنچوائی ایک بار پھر ہاتھ ملائے گئے، ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان ون آن ون ملاقات کے لیے کمرے میں چلے گئے۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا اس ملاقات کے حوالے سے کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں سےشمالی کوریا کے پاک ہونے کی توثیق یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی پروگرام ختم کرنے پر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو روشن مستقبل دینے کی پیشکش کی ہے، آج واضح ہو جائے گا کہ کم امریکی صدر کے وژن سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں، ایٹمی ہتھیاروں کے قابل توثیق خاتمے تک شمالی کوریا پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائیں گے۔

ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے والے بالآخر مذاکرات کی میز پر آ ہی گئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان ملاقات ہو گئی، اس ملاقات کی کئی ماہ سے تیاری ہو رہی تھیں۔

ایک دوسرے کو دھمکانے والےملک امریکا اور شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر آگئے، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کی ملاقات سنگاپور کے جزیرے سینٹوسا میں واقع کپیلا ہوٹل میں ہوئی۔

تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور کا انتخاب اس کی غیر جانبداری کےباعث کیا گیا ، جس کے دونوں ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں، سنگاپور میں شمالی کوریا کا سفارت خانہ بھی ہے۔

سنگاپور ملاقات سے پہلے شمالی کوریا نے مزید جوہری تجربات نہ کرنے کا اعلان کیا، جذبہ خیر سگالی کے لیے اپنے ملک میں قید تین امریکیوں کو رہا بھی کیا، شمالی کوریا نے گزشتہ ماہ غیر ملکی ماہرین اور صحافیوں کے زیر نگرانی اپنی جوہری تنصیبات بھی تباہ کردی تھیں۔

27 اپریل کو کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن سے تاریخی ملاقات کی تھی، 65 برسوں میں پہلی بار شمالی کوریا کے کسی سربراہ نے جنوبی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے، جزیرہ نما کوریا میں جنگ بندی معاہدے کو امن معاہدے میں بدلنے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY