امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان سے ملاقات کے بعد انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کو ’کافی حد تک‘ حل کرلیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے سے قبل سابق صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ امریکا کے لیے ’سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ‘ شمالی کوریا کا جوہری ہتھاروں کا پروگرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اس مسئلے کو حل کردیا، اب ہم اسے یاد گار بنا رہے ہیں اور ہم نے ایک اچھی دستاویز پر دستخط بھی کیے ہیں‘۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اس دستاویز سے زیادہ اہم یہ ہے کہ میرے کم جونگ ان سے اچھے تعلقات ہوگئے ہیں اور ہمارے لیے ایک دوسرے کو سمجھنا آسان ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت اہم چیز ہے کہ میں اب انہیں کال کرسکتا، میں نے انہیں اپنا براہ راست نمبر دیا ہے اور اگر انہیں کوئی مشکل ہوتی ہے تو وہ براہ راست مجھے کال کرسکتے ہیں، ہمارے درمیان بات چیت جاری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ حیران تھے اور سوچ رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وہاں جاکر ہر جگہ بم پھینکا شروع کردیں گے، لیکن اصل میں یہ بالکل مختلف تھا اور شمالی کورین ڈی نیوکلرائزیشن کے لیے ’بہت سخت تصدیقی عمل اختیار کیا تھا‘۔

شمالی کوریا کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پوچھے گئے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے پر کچھ کہہ نہیں سکتا‘، میں صرف اس معاملے پر کہوں گا جو ناقابل یقین معاہدہ ہم نے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بہت بہتر تھا اور یہ ان کے لیے بھی بہت بہتر ہوگا کیونکہ اس سے شمالی کوریا ترقی کرے گا اور معاشی طور پر مضبوط ملک بنے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ شمالی کوریا جو چاہتا ہے وہ بن جائے گا لیکن وہاں جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور نہ ہی یہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کو نشانہ بنائیں گے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ جوہری ہتھیار آپ کے خاندان کو تباہ کریں۔

اس موقع پر جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو یکطرفہ طور پر روکنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’جب میں یہاں آیا تھا تو لوگوں کا خیال تھا کہ ہم شمالی کوریا سے شاید جنگ لڑنے جارہے ہیں اور اگر ہم ایسا کرتے تو لاکھوں لوگ مارے جاتے‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY