پنشنرز انصاف کے متلاشی۔ ڈاکٹر منصور احمد۔ پمز
(ملک اسلم اعوان، نمائندہ عالمی اخبار، اسلام آباد، پاکستان)
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر پروفیسر منصور احمد کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر محمد حنیف، تنویر نوشاہی اور دیگر مقررین نے اپنے اخباری بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ پنشنرز کی پنشن میں فوری طور پر سو فیصد اضافہ کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ سات فیصد کی رقم ان ضرورت مندوں کو جنھیں چھ سو فیصد اضافہ دیا گیا انھیں چھ سو سات فیصد اضافہ کر دیا جائے۔ چونکہ وہ زیادہ ضرورت مند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پنشنرز معاشرے کا وہ طبقہ ہے جسے ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ ماضی میں پنشنرز اور حاضر سروس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں یکساں طور پر اضافہ کیا جاتا تھا۔ جبکہ چند سالوں سے یہ روایت چل نکلی ہے کہ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ جبکہ پنشنرز کی پنشن میں کم اضافہ کیا جا رہا ہے جو معاشرتی نا انصافی ہے۔ حاضر سروس ملازمین ایڈہاک ریلیف کے علاؤہ بھی بہت سی مراعات حاصل کرتے ہیں جبکہ پنشنرز صرف پنشن جیسی نعمت تک محدود ہوتے ہیں۔ اس طرح پنشنرز اور حاضر سروس ملازمین میں ایک خلیج پیدا کر دی گئی ہے اور یہ خلیج ہر آنے والے سالوں میں بڑھ رہی ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے بے زبان صارفین کیلئے آئے روز کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے۔ جس سے پنشنرز سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ییں۔ ڈاکٹر منصور نے بجٹ 26-2025
کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بارہ لاکھ تک ملازمین کو ٹیکس میں استثنیٰ دیا جائے۔ اس وقت صورت حال یہ کہ ملک کا کمزور ترین طبقہ جس میں مالی، نائب قاصد اور ڈرائیور تو ٹیکس کے زمرے میں آ چکے جبکہ ملک کی اعلیٰ ترین اشرافیہ کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ان پڑھ طبقے کی سالانہ ریٹرن کون فائل کرے کیا انھیں یہ سہولت مفت میں حاصل ہو گی۔ خدا را اس سن پڑھ طبقے کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے کر ٹیکس کی حد بارہ لاکھ مقرر کی جائے۔ آخر یہ ظلم کا نظام کب تک جاری رہے گا۔ آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ ای او آئی بی کے پنشنرز کو وفاقی بجٹ کے ساتھ منسلک کرکے ان کی پنشن میں بھی فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔ چونکہ یہ ادارہ بھی وفاق کے زیرِ اہتمام ہے۔
پنشنرز انصاف کے متلاشی۔ ڈاکٹر منصور احمد۔ پمز
1272
0












