آفتاب نے بتایا کہ جورجینا آ چکی ہے ۔۔
اس کی سرخ گاڑی باہر ہی کھڑی ہے ۔۔۔
اور وہ مجھے بلا رہی ہے ۔۔ میں نے اسے اندر آنے کو کہا ۔۔ وہ بہت بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ آج جورجینا نے اہتمام سے میرا دیا ہوا سوٹ پہن رکھا تھا جو اس کے سربیا جانے پر میں نے دیا تھا۔ اس پر اورنج سکارف بہت بہت جچ رہا تھا۔ آفتاب سے فرمائشی تصویں اتروایئں اور ہسپتال روانہ ہو گئے ۔
راستے بھر جورجینا نے میرا کئی بار شکریہ ادا کیا اور کئی سگریٹ بھی پھونک ڈالے ۔۔ ساتھ بار بار یاد دہانی بھی کروا رہی تھی کہ یونٹ کے سبھی لوگ مجھ سے ملکر خوش ہو جایئں گے ۔۔کچھ بھی تو یک طرفہ نہیں ہوتا ۔۔ مالی کہتی ہے جس طرف آپ کی توجہ ہوتی ہے کائینات کی انرجی بھی اسی رخ پر بہتی ہے ۔۔ اگر مجھے کسی سے پیار ہے تو صرف اس لیئے کہ اس کے دل میں بھی میرے لئے جگہ ہے چاہے تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو ۔۔ محبت سے بے خبری جائز ہی نہیں بلکہ ناممکن سی تھی ۔۔ اور میرے دل میں اپنے سٹاف کے لئے بہت جگہ تھی ۔۔ بہت بہت پیار تھا۔
میں 2019 سے کوویڈ کی وجہ سے ان کے ساتھ اکیلی ہی ڈاکٹر تھی ورنہ ڈاکٹر گلبرٹ وٹن دو دن آیا کرتے تھے اورمیں ان دنوں ایک دن لیور پول ہسپتال میں ہوتی اور ایک دن کیمبل ٹاؤں ہوسپٹل میں ۔۔ کوویڈ کی وبا نے بہت کچھ بدل ڈالا تھا ۔۔۔ سب سے زیادہ نقصان مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے زیادہ تر مریضوں کوٹیلی ہیلتھ پر نسخہ دینا پڑتا تھا ۔۔۔ اور یہ عقدہ بھی انہیں دنوں مجھ پر کھلا کہ ہمیں شکلوں کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ آوازوں کے دکھ نظر ہی نہ آتے تھے ۔
کتنے اتار چڑھاؤ زندگی میں آئے تھے ۔۔ ۔۔ان دنوں میری زمہ داری سب سے زیادہ یہ تھی کہ میں اپنے سٹاف اور مریضوں کو ڈیپریشن سے بچا سکوں ۔۔۔ ہم سب اپنے رشتوں سے بچھڑ گئے تھے ۔۔ میں نے اپنے تینوں بچوں کو تین ماہ تک صرف فیس چیٹ پر دیکھا تھا ۔۔ ایمیلیا ہماری جان جب ایک ماہ پانچ دن کی ہوئی تھی تب پہلی بار دیکھا تھا ۔۔ مجھے یاد ہے پانچ نومبر جمعہ کا دن تھا اور ہم لوگ لاک ڈاؤن کھلنے کے فورا بعد سڈنی سے کینبرا روانہ ہو گئے تھے ۔۔اور جب پہنچے تو رات کے دس بج رہے تھے ۔۔ منیب اور جیسیکا اسے کاٹ میں سلائے ہمارے منتظر تھے ۔۔ مجھے لگا جیسے میں خواب میں چل رہی ہوں ۔۔ سر سے پیر تک شکرگزار ۔۔ میری نسل کا پہلا پودا میرے دامن میں سانس لے رہا تھا ۔۔۔میری آنکھیں خوشی سے برس رہی تھیں ۔۔ میری پوتی ۔۔ میری ایمیلیا جس کے لیئے میں نے نظم لکھی تھی ۔۔ دادی کی طرف سے اس کاپہلا تحفہ میں فریم کرا کے لے گئی تھی ۔۔۔ میری شہزادی میری جان ۔۔ جانے یہ کیسا اعتبار تھا جو کبھی ٹوٹا ہی نہیں کہ اب میں ہمیشہ زندہ رہونگی ۔۔۔ میری سوچ ۔۔ میرا کام ۔۔۔ سب ایمیلیا کی صورت زندہ نظر آ رہا تھا ۔۔ وہ معصوم جس نے مجھے آنکھ بھر دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔ لیکن میری آنکھوں میں کتنے ہی خواب روشن کر دیئے تھے ۔

دادی کی جان ایمیلیا کے ساتھ پہلا لمحہ
آفتاب نگر کی شہزادی !
ایمیلیا
میری جان میری شہزادی
تم یوں تودو اکتوبر 2021 کو ہمارے گھرآئیں
لیکن
میرے گھر
میرے دل میں
اکتوبر 1988،۱۹ سے آئی ہو
میں جانتی ہوں
جب تم نے آنکھ کھولی ہو گی
مجھے ڈھونڈا ہوگا
میری آواز کو
کئی آوازوں میں سننا چاہا ہوگا
تم نے سوچا ہوگا
اتنی دعائیں مانگا کرتی تھیں
اتنی باتیں کیا کرتی تھیں
اب آئی ہوں تو ملنے نہیں آئی
ملی میری جان
یہ جو سرحدیں اور حالات ہوتے ہیں نہ
کبھی کبھی
دعاؤں اور آوازوں کو شکست دے جاتے ہیں
کوویڈ کا آخری عشرہ تھا
اور
سڈنی اور کینبرا کی سرحدوں پر تالے لگے تھے
پھر یوں ہوا
ہم دونوں کی سنی گئی
پانچ نومبر 2021 بروز جمعہ
رات کے دس بجے
تم سے ملاقات ہو ئی
تم بلکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا
جیسا میں نے دعاؤں میں مانگا تھا
فراخ پیشانی
خمدار بھوری آنکھیں اور ان پر کمان جیسی بھنویں
اور ہائے
پلکیں جھپکو تو جیسے صبح سے شام ہو جائے
ہونٹ گلاب کی گلابی پنکھڑیوں جیسے
گال جیسے گلال
میری بیٹی ، میری جان حیات
پہلی بار
جب تم نے
آنکھیں کھول کر دیکھا تھا
تب
یہ کائینات تمہارے سامنے بہت چھوٹی ہو گئی تھی
جب تم نے
مسکرا کر مجھے خوش آمدید کہا تھا
یوں لگا تھا
جیسے میں نے ابھی ابھی پہلی سانس جی ہو
تم کیا ہو
جیسکا اور منیب کی بیٹی ہو
تم رونق ہو، خوشی ہو ، نور ہو
ایمیلیا
ایمی
ملی
تم رب کی طرف سے ہمیں ملی ہو
سو
تم صرف ملی ہو
میری اپنی ملی
تم میں راز حیات پوشیدہ ہے
تم روم روم میری سانس ہو
آفتاب نگر کی شہزادی ہو
تم میری ملی ہو
تم ہماری ملی ہو
بےشمار دعائیں
تمہاری دادی ماں
ڈاکٹر نگہت نسیم
پانچ نومبر 2021

اسے کمال محبت سے آپا تنویر روف نے انگریزی میں ترجمہ کیا ۔۔جس کے لئے میں ان کی پور پور شکرگزار ہوں۔
Princess of Blessed Land!
My soul,
You arrived at my home though
On 2nd OCT 2021
But you live in my heart
And home
Since October 19th, 1998.
I know,
When you opened your eyes
You looked for me and
To hear my voice
Among many faces and voices.
You must be thinking that
I wished and longed for you,
I talked so much of you,
Now, you that you are here
And, when I’m here
You aren’t here to welcome me
Mili, my love!
These borders and boundaries
At times ban prayers, wishes,
It was the final drive of Covid19,
The borders of Sydney and Canberra
Were locked and barred.
The Almighty answered our prayers,
On Friday 5th Nov 2021
We met at 10 pm
You are the same as I had imagined,
The same as I wished for, prayed!
A big forehead, the twinkling brown eyes,
Eyebrows like two arrows,
When you blink your eyes
Dawns and evenings reign in your eyes
Rosy silky soft your cheeks,
My daughter, my soul,
The universe was a small thing before you,
When for the first time
You opened your eyes,
And smiled at me!
It felt like my first breath.
Whose little one are you?
Jessica and Muneeb’s daughter,
A radiance, a sunbeam, a delight,
Emelia,
Emie,
Mili,
You are a divine gift,
Blessed upon us,
From the God Almighty!
You are Mili,
Just my Mili!
You are a veiled reason for living
You live in every pore of my being,
You are my Mili,
You are our Mili,
Heaps and bounds of prayers
Oodles and loads of love!
Yours
Dadi Maa
Dr Nighat Nasim
5th November 2021
Sydney
ان دنوں مجھ پر اسٹاف کے دس افراد کے خوابوں کی حفاظت کی زمہ داری بھی آ پڑی تھی ۔۔۔ جورجینا کہہ رہی تھی ہم سب تمہارے بنا بہت ادھورے ہو گئے ہیں ۔۔۔ ہمارے یونٹ کی تم ثمر بانڈ ہو ۔۔ میں ہنس رہی تھی ۔۔ اس نے مجھے محبت سے سے دیکھتے ہوئے کہا ماشاللہ ۔۔۔۔ میرے سٹاف نے سب سیکھ لیا تھا ۔۔ الحمدوللہ ۔۔ماشاللہ ۔۔ اللہ اکبر ۔۔ انشاللہ ۔۔۔ میری آنکھیں خوشی سی بھر آیئں ۔۔ جورجینا کبھی ایلکس کی بات سناتی تو کبھی سبی کی ۔۔ کبھی ساران کی ۔۔ کبھی کائیلی کی ۔۔ کبھی کویئنگ ۔۔۔ کبھی بووانگ ۔۔ کبھی راج کے کھانوں کی باتیں ۔۔ اور میرے
Causual
سٹاف کی باتیں ۔۔ ہاں میری کلینر اینٹینو کی بات کہ وہ مجھے بہت یاد کرتی ہے ۔۔۔ سب دعا دیتے ہیں ۔ ۔۔اور تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ میرا سٹاف بلا تفریق عمر اور مذہب کے میرے بچے تھے ۔۔۔ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کی حفاظت میری زمہ داری تھی جو میں کوشش کر کے ایمانداری سے نبھا رہی تھی ۔
جورجینا کو میں نے بتایا کہ میری پھوپھو اللہ بخشے کہا کرتی تھیں کہ کسی کونام نہیں اس کا کام پیارا ہوتا ہے ۔۔۔ میں نے تمام عمر کوشش کی ہے کہ میں نام سے زیادہ کام پر توجہ کروں ۔۔۔ مجھے معاف کر دینا جو اگر مجھ سے کوتاہی ہو گئی ہو ۔۔۔ میں نے تم سب کے ساتھ اپنے گھر والوں سے زیادہ وقت گزارا ہے ۔۔۔۔ جورجینا نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔بڑی محبت سے بولی ۔۔
We Love You Dr Nasim
مجھے لگا جیسے مجھے اگلے سفر کے لئے سہارا مل گیا ہو ۔۔۔ یہ سب گواہیاں تھیں جس کی مجھے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔ ۔۔ بینکس ٹاؤن ہوسپٹل کی پارکنگ میں جورجینا گاڑی پارک کر رہی تھی ۔۔ ایلکس اور بو وانگ یونٹ سے باہر آ چکے تھے ۔۔ میں ان سب کے لئے سنیکس لائی تھی ۔۔ سب لے کر اپنے یونٹ میں داخل ہوئی ۔۔ یوں لگا جیسے زندگی نے امید کی صورت ایک خوبصورت سانس لی ہو۔۔۔ سب باری باری مجھ سے گلے لگ کر یقین کے پھول نچھاور کر رہے تھے ۔۔۔ ایسے جیسے مجھ سے ملنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو ۔۔۔ جبکہ مجھے یہ لگ رہا تھا یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان سب سے مل پائی ہوں ۔
ہر آنکھ نم تھی ۔۔ لنچ ٹائم بارہ سے ایک بجے تک ہوتا تھا اسی لیئے میں نے یہی وقت رکھا تھا تاکہ کسی مریض کو میری وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو ۔
ہر کوئی سوال پوچھ رہا تھا ۔۔
کینسر اور تم ۔۔۔ کیسے ؟
ان کو یہ بھی جاننا تھا کہ میں کیسے سہار پاؤنگی ۔۔۔۔ اتنا ددر اور اتنی تکلیف
آپریشن میں کیا کیا اعضاء نکالے جایئں گے
ریکووری میں کتنا وقت لگے گا
کیمو تھراپی ۔۔۔ ریڈیو تھراپی
ہائے صدقے ۔۔۔ جتنا خیال ہوتا ہے اتنے ہی سوال ہوتے ہیں ۔۔ جہاں پیار ہوتا ہے وہیں ڈر ہوتا ہے ۔۔ میں سب کے سوالوں اور اندیشوں کے باری باری جواب دے رہی تھی ۔۔ وہ ہر عمر رنگ نسل دین مذہب کے میرے بچے تھے ۔۔انہیں جدا ہونا ، سکھانا سمجھانا میری ڈیوٹی تھی ۔۔ انہیں انجان سفر کے لیئے تیار کرنا بھی میرا ہی کام تھا ۔۔ سب میرے گرد کرسیاں ڈال کر بیٹھے مجھے یوں دیکھ رہے تھ جیسے اب کبھی نہ دیکھ پایئں گے ۔۔ مجھے کبھی نہ سن پایئں گے ۔۔۔ میں سب کے پیار کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ان کی دعایئں میرے دل تک پہنچ رہی تھیں ۔۔ مجھے ان کی خیر خواہی میں کوئی شک اور شبہ نہیں تھا ۔۔۔۔
میں مسکر ارہی تھی ۔۔۔ یہی تو میری جیت تھی ۔
مائی ڈارلنگ فرینڈز
تم سب جانتے ہو ہم نے کبھی کسی بیماری کو بیماری نہیں سمجھا بلکہ اسے چیلنج کہا ہے ۔۔ ایساہی ہے ناں ۔۔ سب نے اقرار میں سر ہلا دیئے ۔تو یہ کینسر بھی چیلنج ہے ۔۔ میرے لئے جتنا بڑا ہے اس سے بڑا تم سب کے لئے ہے ۔۔۔ مجھے تو دوا مل جائے گی لیکن تم سب کو خود سنبھلنا ہے ۔ جیسے توجہ کاتبرک بانٹا جاتا ہے اسی طرح چیلنج میں بھی شراکت داری ہوتی ہے ۔ ۔۔ کبھی دعا دینی پڑتی ہے ۔۔کبھی حوصلہ دینا پڑتا ہے ۔۔ کبھی یقین تحفہ کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ مجھے تم سب سے ایک ہی تحفہ چاہیئے ۔۔اور وہ یہ ہے کہ تمہیں ہر پل یہ یاد رکھنا ہے کہ تم سب اپنی زات میں اہم ترین ہو ۔۔۔ تم نرس ہو ۔۔تم پر ہر زندگی کو بچانا فرض ہے ۔۔۔ اپنے فرض کی بجا آوری ، ایمانداری سے کرنا ۔۔ بس یہی میرا انعام اور میرے لیئے سب سے بڑی خوشی ہو گی ۔ ۔۔ ہم کسی کی عمر نہیں بڑھا سکتے لیکن اپنی توجہ اور محبت سے ان کی زندگی کی کوالٹی اور برکتیں بڑھا سکتے ہیں ۔۔
میرا یقین کرو کوئی بھی مرتا ہوا انسان جس نے اپنے کام دس برسوں میں کرنے ہونگے وہ دس ماہ میں مکمل کر سکتا ہے ۔۔
سب مجھے یوں سن رہے تھے جیسے میں کسی اور یونیورس سے اتری تھی ۔۔ میں ہنس پڑی ۔۔
میری جان میں تم جیسی ہوں ۔۔
مجھے بھی درد ہوتا ہے ۔۔تکلیف ہوتی ہے ۔۔
مجھے معلوم ہے میرے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے ۔۔ لیکن یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں اندھیرے میں نہیں ہوں ۔۔ میں اپنی زندگی کا سچ جانتی ہوں ۔ جو سچ جانتے ہیں وہی تو اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔۔ تم لوگوں کو یاد ہے ناں جب میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ ہر بیماری تین طرف سے حملہ کرتی ہے
جسمانی
جذباتی
روحانی
کینسر نے مجھے جسمانی شکست ضروری دی ہے لیکن وہ مجھے جذباتی اور روحانی شکست نہیں دے سکتا ۔۔۔ یہ ۔۔میرا ۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














ہائے۔۔۔محبت میں بے خبری جائز نہیںبلکہ ناممکن سی تھی
۔۔۔
۔۔ اور یہ عقدہ بھی انہیں دنوں مجھ پر کھلا کہ ہمیں شکلوں کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ آوازوں کے دکھ نظر ہی نہ آتے تھے
کیا کیا جملے ہیں آپی ۔۔۔۔۔سلامت رہیے ۔۔۔