پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو حراست میں لیے جانے کے بعد جماعت کے کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔
پولیس کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت مارچ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس مارچ کی کال حکومت کی جانب سے اس تاریخ تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں دی گئی ہے۔
سعد رضوی کو پیر کی دوپہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک جنازے میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ ان کی حراست کی خبر عام ہوتے ہی تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے لاہور، کراچی،، اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں مظاہرے کیے












