محترم شاعر امجد اسلام امجد نے یہ نظم اپنے بیٹے علی ذیشان کے لیے لکھی تھی دلوں کو چھو لینے والی شاعری میں ایک پوری نسل کے احساسات وجذبات کی ترجمانی کی گئی ہے
کلام کی خوبصورتی ملاحظہ فرمائیں
میرے بیٹے نے آنکھیں اک نئی دنیا میں کھولیں ہیں
اسے وہ خواب کیسے دوں جنہیں تعبیر کرنے میں میری یہ عمر گذری ہے
میری تعظیم کی خاطر وہ ان کو لے تو لے شاید
مگر جو زندگی اس کو ملی ہے
اس کے دامن میں ہمارے عہد کی قدریں تو کیا
یادیں بھی کم کم ہیں
انوکھے پھول ہیں اس کے نرالے اس کے موسم ہیں
خود اپنی ذات کی مستی میں رہنا چاہتا ہے وہ
نئی دنیا نئے منظر میں رہنا چاہتا ہے وہ
سمجھ میں کچھ نہیں آتا اسے کیسے بتاؤں میں
ازل سے آج تک جتنے محبت کرنے والے ہیں
سبھی کی اک کہانی ہے
نئی لگتی تو ہے لیکن حقیقت میں پرانی ہے
اسے کیسے بتاؤں میں کہ میرے باپ کی باتیں
مجھے بھی ایک ایسے وقت کا احوال لگتی تھیں
جو اک بوڑھا فسانہ تھا
میں اس کی جیب کے متروک سکوں کو کہاں رکھتا
کہ یہ میرا زمانہ تھا
نئے بازار تھے میرے کرنسی اور تھی میری
وہ بستی اور تھی میری
مگر پھر یہ کھلا مجھ پر نیا کچھ بھی نہیں شاید
ازل سے ایک منظر ہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں
میری نظر وں کا دھوکا تھا کہ یہ چیزیں بدلتی ہے
اسے کیسے بتاؤں میں کہ یہ عرفان کا لمحہ
ابھی اس تک نہیں پہنچا
مگر جس وقت پہنچے گا
اسے بھی اپنے بیٹے کو
یہی قصہ سنانے میں یہی دشواریاں ہوں گی
کہ وہ بھی تو کچھ اپنی بات کہنا چاہتا ہوگا
نئی دنیا نئے منظر میں رہنا چاہتا ہوگا
اور اپنی ذات کی مستی میں بہنا چاہتا ہوگا
انتخاب،عفت سلطانہ










