اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت میں موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جج محمد بشیر کیس کی سماعت کر رہے ہیں، آج لندن فلیٹس ریفرنس میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل جاری رکھیں گے،گذشتہ روز احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کو چار دن حاضری سے استثنی دیتے ہوئے کیسز کی سماعت کل تک ملتوی کردی تھی

اس سے قبل آج جب سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے سابق وکیل خواجہ حارث بھی احتساب عدالت پہنچے، جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنی وکالت نامے والی درخواست واپس لے رہے ہیں؟ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیئے کہ وکالت نامہ واپس لینے والی آپ کی درخواست خارج کر دی ہے۔

جس پر نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم نے تو مخالفت بھی نہیں کی، پھر بھی درخواست خارج ہوگئی،خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پہلے ایک اور درخواست دینی ہے، بطور وکیل موقف اپنانا میرا حق ہے، ہمیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ کیس اکھٹے چلیں گے یا علیحدہ،ساتھ ہی انہوں نے جج کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ہی بتا دیں کہ اس کیس کی کارروائی کو کیسے آگے چلانا ہے، ہماری کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے، ہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہر چیز کے لیے قانون ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے ہفتے کو بھی عدالت لگانے کا کہا، یہ کون سا قانون ہے؟اس موقع پر نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ ‘کہا جا رہا ہے کہ عدالت سزا کیوں نہیں سنا رہی۔

بعد ازاں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ریفرنس کا حصہ نہیں بنائی جاسکتی،سپریم کورٹ نے نیب کو جے آئی ٹی کے جمع کیے گئے مواد پرریفرنس فائل کرنے کا کہا،تاہم جے آئی ٹی نے شواہد لینے کی بجائے صرف ملزمان کا بطور گواہ بیان ریکارڈ کیا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ملزمان پرکرپشن کے الزامات کے کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے، جبکہ فرد جرم میں کہا گیا کہ نواز شریف، مریم نوازاور دیگرملزمان لندن فلیٹس کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے، ضمنی ریفرنس میں نواز شریف پر حسین نواز کے نام پر لندن فلیٹس خریدنے کا الزام عائد کیا گیا،لیکن فرد جرم سب ملزمان پر اکٹھی عائد کی گئی، کیس کی نوعیت کے حوالے سے استغاثہ خود کنفیوز ہے۔کیس کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بحث مباحثے پر اعتراض کرتے ہوئےنوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا کہ اینکرز ٹی وی پر بیٹھ کر کیس پر تبصرے کریں۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے ریفرنسز کی سماعت کل تک ملتوی کردی ، جہاں خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل چودہ جون کو ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جہانگیر جدون نے وکالت نامہ داخل کرایا گیا، جبکہ مریم نواز کے وکیل کی عدم حاضری کے باعث کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا گیا تھا کہ آئندہ سماعت پرامجد پرویز ہرصورت حتمی دلائل شروع کریں۔ سماعت کے موقع پر معزز جج نے استفسار کیا کہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کہاں ہے، انہیں کیس میں حتمی دلائل دینے ہیں، جس پر امجد پرویز کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طیبعت ناسازی کے باعث وہ آج عدالت میں پیش نہ ہوسکے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کی جارہے ہیں، جبکہ باہر جا کر یہ لوگ شور کرتے ہیں ٹرائل میں تا خیر ہو رہی ہے۔

نیب پراسکیوٹر سردار مظفر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے وکلاء کیس نہیں چلا سکتے تو ملزمان خود آ کر دلائل دیں، اپنی مرضی کا وقت رکھوا کر کہتے ہیں آج پیش نہیں ہو رہے۔نیب پراسکیوٹر کا موقف سننے کے بعد معزز جج نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کو آئندہ سماعت پر ہرصورت حتمی دلائل شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کردی تھی۔

اس سے قبل سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نواز شریف کے وکیل کی حیثیت سے بیرسٹر جہانگیر جدون کا وکالت نامہ آگیا ہے، امجد پرویز نہیں ہیں تو بیرسٹر جہانگیر جدون کو کہیں دلائل دیں جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا مجھے ابھی موکل کی جانب سے ہدایات نہیں ملیں، آج صرف ملزمان کے استثنٰی کی درخواست دی، یہی ہدایات تھیں۔معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ صاحب نے اس کیس میں نو ماہ بڑی محنت کی، کسی دوسرے وکیل کے لیے یہ کیس آگے چلانا مشکل ہوگا، نوازشریف خواجہ حارث سے رابطے میں ہیں، راضی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جج احتساب عدالت نے کہا جہانگیر جدون پہلے دن سے عدالت آ رہے ہیں، کیس اچھی طرح سمجھتے ہیں

واضح رہے کہ بارہ جون کو ہونے والی سماعت کے موقع پر احتساب عدالت نے خواجہ حارث کی نیب ریفرنسز سے دستبرداری کی درخواست مسترد کردی تھی۔
جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ ہفتے اوراتوارکو سماعت لازمی ہے،اس موقع پر عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپیاں فریقین کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY