اسلام اورحقوق العباد (44)… شمس جیلانی

0
853

گزشتہ مرتبہ ہم نے اپنی بات حضرت علی (ع) کی وصیت پر ختم کی تھی اس مرتبہ عید پر بہت مصروفیت رہی اتنی کہ مضمون لکھنے موقع نہیں ہی ملا لہذا تاخیر ہوگئی اس کے لیئے میں معذرت خواہ ہوں گو کہ میں مجبور تھا۔ اس لیے کہ حسب مقدور میں حضور (ص)کی اتباع کوشش کرتا ہوں۔ ان کا رشاد یہ بھی ہے کہ “مجھے مکرمِ اخلاق بناکر بھیجا گیا ہے اور تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے“ ایسے میں جب لوگ محبت سے آپ کے پاس آرہے ہوں توانہیں خوش آمدید نہ کہنا میرے نزدیک گناہِ عظیم ہے۔حالانکہ بہت سے مسلمان اس بات کا خیال نہں رکھتے ،جیسے وہ اور بہت سے حضور (ص) اوصاف حمیدہ کا خیال نہیں؟ اس میں ان کی اتنی غلطی یوں نہیں کہ قر آن کہہ رہا کہ ہم ہر بچے کو فطرت پر پیدا کرتے ہیں اس کے ماں باپ ا سے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں “ چونکہ آج کے دور میں بچوں نے اپنے ماں باپ کو حضور(ص)اسوہ حسنہ کے سلسلہ میں فکر مند نہیں دیکھا لہذا وہ جب اس کی اہمیت جانتے ہی نہیں ہیں تو فکر مند کیوں ہوتے اور کیسے ہوتے؟
اس لیے ہم آگے بڑھتے ہیں اس دعا کے ساتھ کے اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کے والدین کو حضور (ص) اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئے (آمین) تاکہ ہم سب صراط مستقیم کوجو گم کر بیٹھے ہیں، اس کو تلاش کرکے پالیں جو حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی شکل میں ہمیں عطا ہوئی تھی ۔ وہی ہمارے لیے راہِ نجات تھی۔ اس کے لیے حضور (ص) حضور (ص) پہلے ہی فرما گئے تھے۔کہ“ میری امت میں تہتر فرقے بن جائیں گے ان میں سے بہتر گمراہ ہوں گے صرف ایک صحیح ہو گا “ آج ہم سب اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ فرقہ ہمارا ہے؟ جبکہ حضور(ص) نے کبھی کوئی بات وضاحت کئے بغیر نہیں چھوڑی ؟اگر وہ لوگ اس سے آگے کی عبارت بھی پڑھ لیتے، تو بات صاف ہو جاتی؟ مگر فائدہ اس حدیث کو معمہ بنا ئے رکھنے میں ہی انہیں نظرآتا ہے۔ اس لیے کوئی آگے پڑھنے کی زحمت نہیں کرتا؟ وہ اس حدیث کابقیہ یہ ہے کہ “وہ ، وہ لوگ ہیں جو میرے (ص) یا میرے (ص) ان صحابہ کے راستے پر چلیں گے۔ جو آج میرے (ص) راستے پر ہیں ۔
اپنااتباع کرانے والوں کو اس معیار پر پرکھ دیکھیں تو اس حدیث کا سمجھنا آسان ہو جائے گا؟ اگرآپ کو کوئی اور کتاب نہ ملے تو پچھلی قسط میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وصیت پیش کی تھی اسی کو پڑھ لیں۔ جس میں سب سے زیادہ زور عمل پر دیاگیاہے۔اور اولاد کو تاکید کی گئی ہے۔ کہ “ دیکھو اے میرے اہلِ بیت عمل میں پیچھے مت رہ جانا“ میں نے اس کے شروع میں ہی کہا تھا۔ کہ وصیت کا ایک ایک لفظ کوزے میں سمندر بند ہونے کی وجہ سےموتیوں میں تولنے کے قابل ہے؟ آئے صرف اسی ان کے ایک ارشادِ گرامی کو لے لیتے ہیں؟ آپ کہیں گے اس میں آپ کو اس میں کیا راز پوشیدہ نظر آیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قر آن کی ایمان کے سلسلہ میں ساری آیات پڑھ جائیں جہاں آمنو! فرمایا گیا ہے وہیں فوراً ہی اعملو الصالیحات موجود ہے۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ ارشادِ گرامی اورپڑھ لیں؟ کہ “ایمان کے بغیر عمل بیکار ہے اور عمل کے بغیر ایمان بے کار ہے۔“اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہی لازم وملزوم ہیں۔ کسی ایک کو ترک نہیں کیا جاسکتا؟ پھر آگے دیکھئے کہ آخرت کا مسئلہ آتا وہ ہے؟ تو وہاں بھی عمل کے لیے مومن ہونا شرط ہے۔ اس کے بغیر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں؟ چاہیں کتنے ہی عمل صالح کرلیں۔ بغیر ایمان کے وہ سارے کہ سارے غیر اللہ کے لیے ہونگے؟ لہذا کام خالص اس کے لیے کیا ہی نہیں تو اس سے صلہ کیسا؟ جب تک حضرت علی کی نسل عمل صالح پر قائم رہی، اسلام ان کے اعمال صالح ہونے کی وجہ سے لوگ متاثر ہوکر ایمان لاتے رہے۔ اور جیسے ہی اس کامعیار تقویٰ کے بغیر وراثت بنا اب ان کے اجداد جو سب کے سب باعمل تھے۔ ان کے مزار آج بھی آماج گاہے خلائق بنے ہوئے ہیں ۔ مگر نمونے کے لیے ایک ان جیسا مومن کہیں نہں ملتاہے۔صرف اس ایک وصیت پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے ۔ کہ اب کوئی ان کی اولاد سے متاثرہوکر مسلمان نہیں ہوتا؟ یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لیے کہ وہ عمل میں پیچھے رہ گئے؟ جس کا خدشہ حضرت علی کرام للہ وجہہ کو تھا۔ کیونکہ وہ تصوف کے امام تھے۔ اس لیئے وہ ہم سے بہت زیادہ جانتے تھے کہ کیاصحیح ہے اور غلط ہے۔ ان کی نسل میں گزرنے بزرگوں کا شیوہ یہ تھا کہ جو بھی ان کے درپر پہونچتا تھاوہ پہلے اس کے قلب پر نگاہ ڈالتے تھے۔ کیونکہ وہ نائب رسول (ص) تھے۔ ان کو آنے والے کا تزکیہ نفس کرنا ہوتا ہے۔ وہاں سے جب وہ واپس آتے تھے تو کچھ لے کر آتے تھے۔ جس سے پھر آگے ساری دنیامستفید ہوتی تھی اب جو وہاں جاتے ہیں تو ان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جنکی نگاہ ان کی جیب ہوتی ہے لہذا وہ کچھ دے کر آتے ہیں ؟ جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہونچاتا یہ ملت اسلام کا اتنا بڑا نقصان ہے جو کبھی کوئی پورا نہیں کرسکتا؟ میرا خیال ہے کہ آپ میری بات سمجھ گئے ہونگے۔ جو میں سمجھانا چاہتاتھا۔ اس سے نقصان کس کا ہوا اسلام کا یا دشمنان اسلام کا ؟ یہ فیصلہ آپ پر چھوڑ تا ہوں۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY