انتخابات 2018: سیاسی جماعتوں کے منشور اب تک غائب ہیں

0
55

عام انتخابات 2018 صرف ایک ماہ کی دوری پر موجود ہیں لیکن اب تک کسی سیاسی جماعت نے انتخابی منشور کا اعلان نہیں کیا جس سے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں ان کی غیرسنجیدگی کا بخوبی اندازہ ہورہا ہے۔

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں کا منشور انتخابی مہم کا انتہائی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جو ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس میں سیاسی جماعتیں نہ صرف ملک کو درپیش مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتی ہیں بلکی ان کے حل کےلیے حکمت عملی ترتیب دیتی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق منشور اصل میں انتخابی وعدوں کی شائع شدہ صورت ہوتی ہے جس میں جماعتیں اپنے عزائم، سوچ اور وژن کا اظہار کرتی ہیں اس کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اقتدار ملنے کی صورت میں ان کے اہداف اور محرکات کیا رہیں گے۔

اس حوالے سے ایک سینیئرصحافی ضیغم خان، جو گزشتہ تین عشروں سے انتخابات کا جائزہ لے رہے ہیں، کا کہنا تھا کہ منشور کسی بھی سیاسی جماعت کے احتساب کا بہترین ذریعہ ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا منشور اتنا جامع ہونا چاہیے کہ اس میں صرف عوام سے کیے گئے وعدے شامل نہ ہوں بلکہ ان کی تکمیل کے حوالے سے حکمت عملی بھی واضح ہو۔

خیال رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں انتخابی منشورکو محض رسمی کارروائی گردانتے ہوئے اس کی چند ہزار نقول تیار ہی کرواتی ہیں، اور اسے صرف ذرائع ابلاغ اور سیاسی مباحثوں میں استعمال کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

خاص طور پر جب سے ملک میں نظریات کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست میں کمی واقع ہوئی ہے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار بھی اکثر اپنے انتخابی منشور سے لاعلم نظر آنے لگے ہیں۔

یاد رہے کہ 1970 میں ہونے والے پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو نے سب سے پہلے ’روٹی، کپڑا اور مکان کے مقبول نعرے سے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس وقت سے یہ نعرہ پی پی پی کی ہر انتخابی مہم کا حصہ رہا ہے۔

2013 کے انتخابات میں پی پی پی نے تعلیم، صحت، روزگار سب کے لیے اور دہشت گردی کے خاتمے کو بھی اپنے منشور میں شامل کرلیا، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا منشور، قومی ایجنڈا برائے حقیقی تبدیلی: مضبوط معیشت مضبوط پاکستان تھا۔

اس کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) گزشتہ انتخابات میں ’نیا پاکستان، انصاف، امن اور خوشحالی‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات کے پیش نظر صرف مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے 25 جولائی 2018 کو ہونے والے امنتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتیں تاحال منشور پیش نہ کرسکیں۔

اس حوالے سے جب ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ انتخابی منشور آخری مراحل میں ہےاور جلد ہی اسے پیش کردیا جائے گا۔

تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ تینوں جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی منشور کی اہمیت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس امر پر زور دیا کہ ان کی پارٹی اس اہم دستاویز پر سنجیدگی کے غور کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY