اصغر خان کیس: فوجی افسران کے خلاف جلد تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

0
744

پریم کورٹ نے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس میں پاکستان فوج کے ملوث افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

سپریم کورٹ میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بینکوں میں 28 سال سے زیادہ پرانا ریکارڈ نہیں اس لیے ثبوت نہیں مل رہے۔۔ اگر ایسا ہے تو بینکوں کے سربراہوں کو بلا لیتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ فوج نے رپورٹ دی ہے کہ افسروں کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب آپ بتائیں ملوث افراد کا کورٹ مارشل کرنے کے بجائے انکوائری کیوں ہو رہی ہے، کارروائی شروع کیوں نہیں ہوئی؟

اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ کورٹ مارشل سے پہلے تفتیش قانونی تقاضا ہے، شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہو گا۔

دوران سماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کا ذکر بھی ہوا۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ پیسے تو ایم کیو ایم اور اس کے بانی کو بھی ملے تھے۔ کیس میں ان کا نام آیا نہ ایف آئی اے رپورٹ میں؟

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں متحدہ کے بانی کا نام تھا، وہ ابھی پاکستان میں نہیں۔ حکومت برطانیہ سے متحدہ کے بانی و دیگر ملزموں کی حوالگی کیلئے بات چیت جاری ہے اور جلد پیش رفت ہو گی۔

وزارت دفاع نے جواب جمع کرانے کیلئے 4 ہفتوں کی مہلت مانگی جس پر عدالت نے کہا کہ انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ، وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا۔

عدالت نے سماعت 4 ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY