میرانیس رثائی ادب کا میرِ کارواں لیکن دنیاناواقف!

1
1077

مرثیہ نگاری سمیت پوری کائنات میں ایساشاعرنہیں ملے گا،افسوس انہیں دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیاگیا
اردو شاعری عالمی تناظر میں کہیں نہیں، معروف براڈکاسٹر، شاعر ودانشور صفدرہمدانی کا انٹرویو

ادبی گروہ دراصل مافیااور قزاق ہیں،نئے لوگوں کی راہ روکتے ہیں
پاکستان میں شاعری اچھی ہورہی ہے،بھارت میں ترنم بہت اچھاہے
ثریا شہاب جیسی عظیم براڈکاسٹر کو بعد از مرگ بھی تمغہ دینے کا نہیں سوچاگیا
آن لائن میڈیااس طرح ترقی نہیں کرپایاجواسے کرنی چاہیے تھے
ناصرمغل
گذشتہ سے پیوستہ
سوال:اردوشاعر ی دنیاکی دیگر زبانوں کے مقابل کہاں کھڑی ہے؟
جواب:اس چھوٹے سے سوال کا جواب انتہائی طویل ہے۔ اردو شاعری دنیا کی بڑی شاعری میں شمار ہوتی ہے۔ قلی قطب شاہ اور ولی دکنی سے شروع کریں اور آ ج کے شاعروں تک آئیں توایسے بے شمار نئے شاعر ہیں جنہیں نہ تو ذرائع ابلاغ نے تسلیم کیا اور نہ ادبی مافیا، ادبی قزاقوں اور ادبی لٹیروں پر مشتمل ادبی گروہوں نے انہیں تسلیم کیا ہوا ہے۔ کھل کر کہوں کہ بھارت سے اچھی شاعری پاکستان میں ہو رہی ہے، افسانہ بھی ہمارے ہاں اچھا لکھا جارہا ہے۔ ناول یہاں ہمیشہ سے کم لکھا گیا ہے۔ اصل میں ہوا یہ کہ جب سے پچاس ہزار روپے میں کتاب چھپنے لگی ہے، تب سے ایک نیا ڈھنگ بھی ابھرا ہے۔ لاہور سے ایک صاحب نے مجھے کتاب بھیجی جس میں ہر نظم یا غزل کے بعد ایک صفحہ خالی تھا۔ پبلشر کو فون کر کے پوچھا کہ کہیں یہ غلطی تو نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ شاعر اسی طرح چاہتے تھے کہ جنہیں میرے شعر پسند ہوں وہ اگلے صفحے پر لکھ لیں۔ اب کتاب اس طرح چھپتی ہے۔ دوسال پہلے میں لاہور کے ایک بہت بڑے پبلشنگ ہاؤس میں گیا۔ الطاف فاطمہ کا مقبول ناول ”دستک نہ دو“ ڈھونڈ رہا تھا جو مجھے لاہور میں کہیں نہیں ملا۔مہ پارہ ان دنوں الطاف فاطمہ پر کام کررہی تھیں، ان کا آ خری انٹرویو بھی ہم دونوں نے کیا تھا،پھر ان کی وفات ہو گئی۔ گلبرگ مارکیٹ میں احسان دانش کے پوتے نے دکان کھولی تھی، اور ان کے پاس ایک ہی کاپی تھی۔ الطاف فاطمہ کتنے برس زندہ رہیں لیکن کسی ٹی وی پر آ پ نے انہیں نہیں دیکھا ہوگا، کسی اخبار میں ان کا انٹرویو نہیں پڑھا ہوگا، انہیں کسی بڑی تقریب میں نہیں بلایا گیا، کوئی اعزاز نہیں دیا گیا۔ ان کے جنازے میں کتنے لوگ تھے،میں آ پ کو بتا نہیں سکتا۔حضرت نجم آ فندی رثائی ادب کا بہت بڑا نام تھا، ان کے جنازے میں بارہ تیرہ
لوگ تھے کراچی میں۔ جوش ملیح آبادی کے ساتھ ہم نے کیا کیا۔ ابھی ثریا شہاب کا انتقال ہوا(ستمبر2019ء میں۔ریڈیوپاکستان، ریڈیوزاہدان، پی ٹی وی،وائس آف جرمنی او ربی بی سی میں کام کیا۔ مدیر)۔ کتنی بڑی خاتون تھیں دنیائے نشریات کی۔ جو لوگ نشریات میں دس دس پندرہ پندرہ سال گزارتے ہیں انہیں تمغے بھی مل جاتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں، صرف اتنی سی بات ہے کہ آ پ کسی کے کام کو تسلیم کرتے ہیں۔ جنہیں تمغے ملے ہیں میں ان کے خلاف نہیں، کیوں کہ جس طرح کا نظام ہے اس میں ایسے ہی ملا کریں گے۔ ثریا شہاب کو کسی نے بعد از مرگ بھی تمغہ دینے کا نہیں سوچا۔ بات ہورہی تھی اردو شاعری کی، اردو شاعری دوسری زبانوں کی شاعری کے مقابلے میں کہیں بھی نہیں کھڑی ہوگی جب تک ادب کو ترجمہ نہیں کریں گے، تب تک دنیا کو اس کا پتا نہیں چلے گا۔ مرثیہ میں انیس اور دبیر خصوصاً انیس سے بڑا شاعر کسی بھی رخ سے پوری کائنات میں نہیں لیکن دکھ سے کہتا ہوں کہ فیض عالمی سطح پر اردو کے بڑے شاعر ہیں اس لیے کہ ان کی شاعری کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور دنیا نے انہیں جانا۔ ہمارے لوگوں نے انیس کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا، باہر کی دنیا تک نہیں پہنچایا۔ جب تک اردو شاعری ترجمہ نہیں ہوگی تب تک اس کا کسی کو پتا نہیں چلے گا۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ ادب میں نقاد کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک ہی نقاد گذرا ہے شبلی نعمانی اور میں انہیں اس طرح سے نقاد نہیں مانتا۔ انہوں نے اپنی تنقید سے فساد پھیلایا۔ ہمارے ہاں تنقید اور
تنقیص میں فرق نہیں سمجھا جاتا۔ افسانوں پر تنقید کرنے والوں نے کبھی افسانہ اور شاعری کے نقادوں نے کبھی شعر نہیں کہا۔ جب آ پ کسی دریا اور سمندر میں اترے نہیں تو اس کے گرم یا ٹھنڈے پانی کو محسوس کیسے کریں گے۔ ہمارے ہاں چیدہ چیدہ تراجم کے علاوہ کام نہیں ہوا۔ اسلام آباد میں موجود سرکاری اداروں کا یہی کام تھا، جو انہوں نے تھوڑا بہت کیا لیکن ایسے معیار کا نہیں جس کے ذریعے بیرونی دنیا کو آ پ اپنی طرف متوجہ کرتے، اس لیے اردو شاعری بہت بڑی تو ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ عالمی تناظر میں کسی جگہ کھڑی ہے۔
سوال:تقسیم ہند کے بعد بھارت اور پاکستان کے ادب کا موازنہ کیسے کریں گے۔ سرحد کے کس طرف کے اہل قلم نے بہتر ادب تخلیق کیاہے؟
جواب:مجھے لکھتے ہوئے 55 برس ہو گئے، میں سب سے پہلے تو تقابل کا قائل نہیں اورپھرجدیدوقدیم کے تقابل کا قائل نہیں۔ ہروہ چیز جدید ہے جو اس دورکی آ ب وہوا میں سانس لیتی نظرآ ئے۔ میردرد کا ایک شعرآ ج کا شاعر بھی شاید کہہ پائے۔
دیکھ سیلاب کوبیاباں میں
کیسے سرکوجھکا کے جاتا ہے
اس شعر میں ایک دنیا موجود ہے اورکلاسیکی شعرا کے ہاں ایسے سیکڑوں نہیں ہزاروں شعرملیں گے۔ جسے ہم نبض عصر کہتے ہیں، وہ آ ج کے شاعر میں نظر نہیں آ ئے گی۔آپ ایتھوپیا میں فاقہ زدگی پر تو پوری کتاب لکھ سکتے ہیں۔لیکن کشمیر میں جو ہورہا ہے، آ پ کے ہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ اگر آپ کو نظر نہیں آ رہا تو جس شعر وادب میں اس کے زمانے کا ذکر نہیں، اس عصر کے لوگوں کی نبض پر آ پ کا ہاتھ نہیں تو وہ کلام قافیہ ردیف ہو سکتا ہے شاعری نہیں۔ پاکستان میں بھارت سے بہت بہتر شاعری ہو رہی ہے وہاں مافیا بازی ذرا کم ہے،
پاکستان کی نسبت۔ پاکستان میں افسانہ بھی بہت اچھا لکھا جارہا ہے۔ وہاں بھی کچھ نام بہت اچھے ہیں لیکن موازنے کا میں قائل نہیں، سب اپنے اپنے ماحول میں کام کررہے ہیں۔ ہم اپنے اپنے نام کے لیے کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس لحاظ سے بہت بڑی چیزہے کہ جسے مافیا تسلیم نہیں کرتا وہ اپنی چیزیں وہاں لگالیتا ہے۔ اب کسی کا راستہ روکا نہیں جاسکتا۔ ہمارے ہاں شاعری بہت اچھی ہورہی ہے اور بھارت میں ترنم بہت اچھا ہے۔
سوال:آن لائن جرنلزم نے پوری دنیامیں فروغ پایاہے۔ کیاپرنٹ میڈیا،سائبر اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہرپائے گا،اس حوالے سے مستقبل کامنظرنامہ کیانظر آتاہے؟
جواب:وقت کی ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی نے ترقی پائی اور آ ن لائن جرنلزم آ گیا۔بی بی سی کاواقعہ ہے نیانیا آ ن لائن میڈیا آ یا تو ایک صاحب نے لکھابم’نسب‘ کردیا گیا۔ایک اور نے عراق الف سے لکھا۔اس طرح املاکاپول کھل گیا۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ میک اپ نہیں کرنا پڑتا، سٹوڈیو میں نہیں جانا پڑتا لیکن خبر جس تیزی سے آ نی اور چھپنی چاہیے ابھی تک نہیں ہوا۔ بڑے بڑے عالمی نشریاتی اداروں کی سائٹس پر پانچ پانچ دس دس گھنٹے اسی طرح خبر پڑی رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آ ن لائن میڈیا پر ہر تین چار منٹ کے بعد خبر تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس وقت خبر کی ترسیل سیکنڈز کے حساب سے ہورہی ہے مثلاً جس طرح کرونا کے اعدادوشمار تبدیل ہوتے ہیں، آ پ اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ آ ن لائن جرنلزم کاسب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ خبر میں سرعت ہونی چاہیے تھی جو دوسرے ذرائع میں نہیں تھی لیکن وہ ہوئی نہیں۔ آ ن لائن میڈیا کے مخصوص تربیت یافتہ لوگ ہونے چاہییں تھے وہ چیز نہیں ہو پائی۔ لوگ یا تو پرنٹ میڈیا سے آ ئے یا ریڈیائی صحافت سے آ ئے۔ انہوں نے خود کو آ ن لائن جرنلزم کے مطابق ڈھالنے کے بجائے اسے اپنے طریقے میں ڈھال دیا۔ یہ بڑا اہم نکتہ ہے، اس پر کبھی کسی نے اس طرح غور نہیں کیا۔ بنیادی طور پر یہ پی ایچ ڈی کا موضوع ہے کہ دیکھا جائے ہماری صحافت آ ن لائن جرنلزم کے تقاضوں کے مطابق ہوئی؟ پچھتر اسی فی صد جرنلزم وہی ہے جو روایتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ہے صرف اسے ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اگر آ پ سمجھتے ہیں کہ جس طرح کبھی مشرق، امروز یا پاکستان ٹائمز چھپتا تھا تو وہ دور تو اس وقت ہی ختم ہوچکا ہے۔ سائبر اور الیکٹرانک میڈیا اس وقت جمود کا شکار ہے، وہ تو آ گے بڑھ ہی نہیں پایا۔ پاکستان میں تو راتوں رات مشروم کی طرح چینل کھلے، راہ چلتے ہوئے کو بھی پکڑ کر بٹھا لیا گیا۔ لہذا معیار تو اس وجہ سے بھی برباد ہو گیا۔ یہ تو وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ ہمیں یاد ہے ٹیلی ویژن یا ریڈیو میں پروگرام کا نام سوچنے میں بھی تین تین مہینے لگتے تھے۔اب تو وہی پرانے نام ہیں۔ سیاسی ٹاک شوز نے اداروں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ ان میں بھی گنے چنے چہرے پر جگہ تبصرہ کرتے نظر آ تے ہیں۔ تاہم پرنٹ میڈیا ختم نہیں ہوگا۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ چوں کہ چوبیس گھنٹے بعد آ تا ہے،تب تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہوتا ہے۔ پرنٹ میڈیا ان لوگوں کے لیے چلے گا جنہیں صبح باتھ روم میں اخبار پڑھنے کی عادت ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر بہت سے یورپی ملکوں میں پندرہ بیس سال سے مطبوعہ اخبارات ہفتہ وار آ نے لگے تھے اور مفت تقسیم ہوتے تھے۔ یہاں بڑے بڑے انگریزی اخبارات بھی فری ملتے ہیں۔ گویا اس کی ہیئت بدل گئی ہے لیکن پرنٹ میڈیا ختم نہیں ہوا، تاہم الیکٹرانک میڈیا بھی جمودکاشکار ہے اور سائبر میڈیا کی ترقی نہیں ہورہی۔ صرف کیمرہ اورآواز کا استعمال تو ٹیلی ویژن صحافت نہیں،لیکن ہمارے ہاں تربیت نہیں ہوئی۔ پاکستان
میں تو ریڈیو اکیڈمی بھی بند کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ یہ ایسی اکیڈمی تھی کہ جنوبی ایشیا کاپورابیلٹ یہاں تربیت حاصل کرنے آ تا تھا۔ بجائے اسے ترقی دی جاتی، ہم نے ستیاناس کردیا۔ یہ وژن کا مسئلہ ہے، ہم وژن سے عاری لوگ ہیں

بشکریہ۔ناصر مغل۔اساس

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY