یوسف حسن بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

وہ پوٹھوہار کے علاقے کے ممتازشاعر،ادیب، دانشور اور منفرد ترقی پسند تھے اور اس عہد میں بھی صاحب مطالعہ تھے اور اسی باعث ادبی حلقوں میں انکو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھی۔ وہ طویل عرصے تک درس و تدریس سے منسلک رہے

یوسف حسن نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ادبی ماحول میں اہم اور فعال کردار ادا کیا

انتقال سے کچھ روز قبل انکو سانس کی تکلیف زیادہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن کچھ روز بعد وہ گھر شفٹ ہو گئے تھے

یوسف حسن منفرد غزل گو تھے ۔ انکی غزل کا ایک نمونہ

دریا تو بل دکھائے گا اپنے بہاؤ کا
سہنا ہے اک جہان کو صدمہ کٹاؤ کا

ہرلو کو چاٹتی ہوئی بارش کی رات میں
روشن ہے اک چراغ ابھی دل کے گھاؤ کا

اک عمر سے ہمارا لہو رت جگے میں ہے
کب آئے گا کہیں سے بلاوا الاؤ کا

یوسف یہ کون ہم کو خلا میں اچھال کر
اندازہ کر رہا ہے زمیں کے کھچاؤ کا

یوسف حسن

SHARE

LEAVE A REPLY