بائیں بازو کے رہنما اور میکسیکو سٹی کے سابق میئر آندرے مینوئل لوپیز اوبراڈور بھاری اکثریت سے میکسیکو کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈالے جانے والے ووٹوں کےا بتدائی گنتی کے مطابق اوبراڈور کو 53 فی صد سے زائد ووٹ ملے ہیں۔

ان کے حریف اور نیشنل ایکشن پارٹی (پی اے این) کے امیدوار ریکارڈو انایا نے 22 فی صد جب کہ موجودہ صدر اینرک پینیا نیتو کی جماعت انسٹی ٹیوشنل ریوولوشنری پارٹی (پی آر آئی) کے امیدوار جوز انتونیو میڈ نے صرف 16 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد ہی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اوبراڈور کو مبارک باد دی ہے۔

ووٹنگ کے بعد جاری ہونے والے ایگزٹ پولز سے انداز ہورہا ہے کہ اوبراڈور کی جماعت اور اس کے اتحادیوں کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

میکسیکو کے ایک نشریاتی ادارے کے مطابق امکان ہے کہ اوبراڈور کی جماعت اور ان کے اتحادیوں کو 100 رکنی سینیٹ میں 56 سے 70 نشستیں جب کہ 500 رکنی ایوانِ زیریں میں 256 سے 291 نشستیں حاصل ہوجائیں گی۔

نتائج سے ظاہر ہورہا ہے موجودہ حکمران جماعت ‘پی آر آئی’ کو پارلیمانی انتخاب میں بھی بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

‘پی آر آئی’ گزشتہ 89 برسوں کے دوران 77 برس میکسیکو پر حکمران رہی ہے۔ سنہ 2000 میں ہونے والے انتخابات میں ‘پی آر آئی’ کو اس کی قدامت پسند حریف جماعت ‘پی اے این’ نے شکست دی تھی لیکن 12 سال بعد گزشتہ انتخابات میں ‘پی آر آئی’ دوبارہ اقتدار میں آگئی تھی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پڑوسی ملک کے نومنتخب صدر کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایسا بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس کا فائدہ امریکہ اور میکسیکو دونوں کو ہوگا۔

اوبراڈور نے اپنی انتخابی مہم ملک میں بدعنوانی کے خاتمے ، معاشی اصلاحات اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے وعدوں پر چلائی تھی جن کی عوام نے بھرپور پذیرائی کی۔

ابتدائی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد اتوار کی شب دارالحکومت میکسیکو سٹی کے مرکزی چوراہے پر جمع اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے لوپیز اوبراڈور نے اپنے انتخاب کو میکسیکو کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جمہوری اقدار بحال کرے گی اور شخصی آزادیوں کا احترام کیا جائے گا۔

نو منتخب صدر نے میکسیکو کے مرکزی بینک کی خود مختاری کا تحفظ کرنے اور معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

ان کے یہ دونوں دعوے بظاہر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش تھے جو ان کے بائیں بازو کے نظریات کے باعث غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تاریخ انہیں ایک اچھے صدر کے طور پر یاد رکھے۔

لوپیز اوبراڈور کو ان کی قوم پرستی، سخت مزاجی اور اپنے مخالفین کے خلاف بیان بازی کے باعث اکثر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے۔

انہوں نے پہلی بار 2006ء میں میکسیکو سٹی کے میئرشپ چھوڑ کر صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تھا جس میں وہ بہت تھوڑے ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں 2012ء کے صدارتی انتخاب میں بھی شکست ہوئی تھی۔

لوپیز اوبراڈور موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد یکم دسمبر کو صدارت کا منصب سنبھالیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY