طارق بٹ۔۔دعا یا دغا

0
76

الگ ہونے ، ساتھ چھوڑنے ، جدا ہونے ، راہیں تبدیل کرنے یا قطع تعلق کرنے کے دو ہی طریقے ہیں دعا دے کے چل دیں یا پھر دغا دے کے چل دیں ۔ فرق صرف ایک نقطے کا ہے مگر یہی ایک نقطہ محرم کو مجرم اور مجرم کو محرم بنا دیتا ہے ۔ یاد پڑتا ہے کہ 2008 کے انتخابات کے بعد جب مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری اسلام آباد کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی موجودگی میں مسکراہٹیں بکھیر رہے تھے اور ہر طرف مفاہمت مفاہمت کی بازگشت سنائی دے رہی تھی اس وقت اسفند یار ولی خان نے کہا تھا کہ سارے ایک بات یاد رکھنا مفاہمت اور منافقت میں بہت باریک سا فرق ہوتا ہے مگر مفاہمت کی آڑ میں منافقت کا کھیل کھیلنے والوں نے اس گہری سوچ کے حامل جملے پر قطعا کوئی توجہ نہ دی اور جز وقتی مفاہمت کے بعد کل وقتی اپنی اپنی ڈفلی بجانے لگے جس سے غیر جمہوری طاقتوں کو مزید توانا ہونے میں مدد ملی۔ مفاہمت کے ڈھنڈورچیوں نے جب مفاہمت کی پکی پکائی ہانڈی بیچ چوراہے کے پھوڑی تو پھر چہار سو منافقت رقص کرنے لگی ۔

راستے الگ کرنے کے طریقے ابتداء میں عرض کر چکا ہوں کتنا اچھا ہو اگر دعا کے ساتھ اپنا اپنا راستہ لیا جائے مگر یہاں تو وتیرہ ہی یہی ہے کہ دعا پہ نقطہ لگا کے دغا دینا ہے 35 سالہ رفاقت کے داعی چودھری نثار علی خان ہوں یا 20 سال تک خاندان شریفاں کے گن گانے والے زعیم قادری یا پھر طویل رفاقت سے منہ موڑنے والے چودھری عبدالغور میو تینوں اپنے مربیوں اور محسنوں کو سرعام رسوا کرنے پہ تلے بیٹھے ہیں ۔ اختلافات کہاں نہیں ہوتے باپ بیٹے، ماں بیٹی حتی کہ میاں بیوی کے رشتوں میں بھی اونچ نیچ آتی رہتی ہے مگر کیا ضروری ہے کہ سارا جگ تماشا دیکھے۔ نبھ گئی تو نبھ گئی نہیں نبھی تو ہزاروں دعاوں کے ساتھ اللہ حافظ، آپ بھی خوش ہم بھی خوش ۔ آپ اپنا بوجھ خود سنبھالو ہم اپنا بوجھ اپنے کندھوں پہ لاد کے اگلے سفر پہ روانہ ہو رہے ہیں ۔

سوچ کا فرق ہے کیا واقعی بیس یا تیس سال کی رفاقت کا بوجھ اتر سکتا ہے کیا واقعی فرض ادا ہو گیا کہ ہم بیس تیس سال حقوق وصول کرتے رہے اور اب بھی فرائض کو پس پشت ڈال کر اپنے ہی حقوق کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ نفسی نفسی کی پکار سنائی دیتی ہے۔ اے اوپر سے نیچے تک خود غرضی کے لبادے میں لپٹے انسان ۔ کچھ تو ہوش کے ناخن لو۔ مان لیا کہ آپ کی اہمیت میں کمی ہو گئی آپ کو مشاورت کے عمل سے الگ کر دیا گیا مگر آپ بھی تو اپنی ضد پر اڑ گئے مشاورت کے عمل میں تو کچھ مانا اور کچھ منوایا جاتا ہے جب کہ آپ تو مشاورت بھی صرف اسی کو تسلیم کرتے ہیں جہاں ساری کی ساری آپ کی مانی جائیں کیوں ؟ آخر اتنی ہٹ دھرمی کیوں ؟ یہ ہٹ دھرمی کا خمیازہ ہے کہ آج آپ اپنی ڈار سے بچھڑ کر تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں اور بچھڑی ہوئی کونج کی طرح اپنے ڈار کی تلاش میں ہیں ۔ پر دل بھی تو اس شیشے کی مانند ہوتا ہے جو ٹوٹ جائے تو اسے جتنے مرضی ٹوٹکوں سے جوڑا جائے تریڑ واضح نظر آتی ہے ۔ اور یہ ٹوٹا ہوا شیشہ انسانی چہرے کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے آدھا ادھر اور آدھا ادھر۔ کبھی کبھی تو بندہ نہ ادھر کا رہتا ہے اور نہ ادھر کا ۔

ماں لیا کہ سوچ کا فرق آ گیا تو دغا کوئی ضروری تو نہیں دعا بھی تو ہے اللہ آپ کو خوش رکھے ہمارا ساتھ یہیں تک تھا مزید اکٹھے نہیں چل سکتے، آپ اپنا رستہ لیجئے ہم اپنا ،کھایا پیا معاف، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ کیا خوبصورت طریقہ ہے دعا دی اور اپنا رستہ لے لیا مگر کہاں ہم نے ایسے طور طریقے اپنے ملک کی سیاست میں تو دیکھے نہیں ۔ ادھر علیحدگی اختیار کی ادھر منہ کے اندر دبی چھوٹی سی زبان گز بھر لمبی ہو جاتی ہے پھر قصیدہ گوئی سرعام ہونے لگتی ہے جلسوں میں، جلوسوں میں، پریس کانفرنسوں میں اور ٹی وی ٹاک شوز میں ۔ آفرین ہے جو کسی سیاسی معاملے پر بات ہو اب تعلق جو نہیں رہا اس لئے کپڑے اتارے جائیں گے سرعام ننگا کیا جائے گا صرف ذاتی نہیں خاندانی معاملات کو سر بازار اچھالا جائے گا ۔ بہو بیٹیوں تک کو نہیں بخشا جائے گا ۔ یہ گز بھر لمبی زبان جب چھوٹی تھی تو تعریفوں کے پل باندھتی تھی دنیا جہاں کی ایسی کون سی خوبی ہے جو آپ کی قیادت میں نہیں تھی کبھی کبھی تو آپ کی زبان سے ڈھیروں تعریفیں سن کر گمان گزرتا تھا کہ آپ کسی انسان کے بارے میں نہیں بلکہ فرشتے کے بارے میں بات کر رہے ہیں مگر اب جب یکدم آپ نے پلٹا کھایا تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ دنیا جہان کی برائیوں کی آماجگاہ صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے آپ کی سابقہ قیادت ۔ کتنے کم نظر اور کم فہم ہیں آپ کہ بیس بیس تیس تیس سال برائیوں اور گندگی کے ڈھیر کے ساتھ گزار دیئے اور آپ کو تعفن کا احساس تک نہ ہوا ۔ ذرا سا پہلو بدلتے ہی آپ کے سونگھنے والے تمام مسام کھل گئے ۔

یہ وتیرہ کسی ایک شخص ، لیڈر یا جماعت کا نہیں پورے کا پورا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اشد ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچوں میں تبدیلی لائیں اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے بغل گیر ہونے والوں کے لئے اپنی بانہوں کو پھیلانا بند کر دیں آج جو اپنے سابقہ ساتھیوں کا کچا چٹھا کھول کر ہماری ہمدردیاں سمیٹنے کا طلبگار ہے کل کسی اور کی بانہوں میں بیٹھا ہمارے خلاف اپنی گز بھر لمبی زبان استعمال کر رہا ہو گا ۔ دغا دے کر آنے والوں سے دور رہیں ہاں دعا دے کر آنے والوں کو ضرور اپنی بانہوں میں لے لیں۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY