جاپان نے فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ سے سمندر میں تابکاری پانی کا اخراج شروع کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق جاپان نے فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ سے بحرالکاہل میں تابکاری پانی کا اخراج شروع کر دیا ہےجس پر چین نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

چین جوکہ جاپان کے سی فوڈ کا سب سے بڑا خریدار ہے نے جمعرات کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ سے تابکاری پانی کا اخراج شروع ہونے کے بعد وہ جاپان سے سی فوڈ کی تمام درآمدات کو روک دے گا۔

دوسری جانب جاپان کا کہنا ہے کہ پانی محفوظ ہے اور بہت سے سائنسدان اس سے متفق بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے بھی پانی کے اخراج کے منصوبے کی منظوری دی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اس لیے جب تک پانی کے اخراج کو روک دینا جانا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ذخیرہ شدہ 10 لاکھ ٹن سے زیادہ پانی اگلے 30 سالوں میں خارج کیا جائے گا۔

چین جو کہ دو سال قبل اس منصوبے کے اعلان کے بعد سے اس کا سب سے بڑے مخالف رہا ہے نے سمندر میں تابکاری پانی کے اخراج کو ایک انتہائی خود غرضی اور غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاپان آنے والی نسلوں کیلئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین کے کسٹم آفس نے اعلان کیا ہے کہ جاپان سے سی فوڈ کی درآمد پر موجودہ پابندی کو فوری طور پر بڑھا دیا جائے گا تاکہ چینی عوام کی صحت کی حفاظت کی جاسکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY