جنید جمشید مرحوم ا پنامشن ادھورا چھوڑگئے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
318

حسب معمول اُس صبح اپنے معمولات سے فارغ جب کمپیوٹر پر بیٹھا تو پہلی خبر یہ ملی کہ پی آئی اے کا طیارہ حویلیاں کے قریب حادثہ کا شکار ہو گیااوراس میں مشہور نعت گو اور نعت خواں جنید جمشید اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جن میں ان کے علاوہ 40 سے زیادہ مرد اور خواتین تھیں اور ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں۔ جبکہ حدیث ہے کہ “ سب سے دانا وہ ہے جو ہمیشہ موت کو یاد رکھے اور وہ ہر وقت اس کے لیئے تیاری کرتا رہے اسی حدیث میں آگے چل خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ عزت پا ئے گا “ مگر اس کے باوجودا س حقیقت کو سب بھول جاتے ہیں ۔ کیونکہ شیطان اسی کام پر لگا ہوا ہے کہ ہم یہاں سے وہاں کے لیے کچھ نہ کما سکیں ؟جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اگر تم سچے ہوتوخود کو موت کے منہ سے بچا کر دکھاؤ؟ ایک حدیث میں اس پر بھی خبر دار کیا گیا ہے کہ “ بندہ کہتا ہے کہ یہ میرا ہے وہ میرا ہے؟مگر اس کا وہ ہے جو اس نے اپنے لیے آگے بھیج رکھا ہے۔ جبکہ ہمیں قرآن کی سورہ حشر میں یہ طریقہ بھی بتایا ہے کہ روزانہ خود احتسابی کرکے یہ دیکھ لیا کرو ،کہ تم نے وہاں کے لیے آج کیا بھیجا ہے؟ یعنی اس پر با خبر رہوکہ تمہاری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا برائیوں کا؟ جب کہ اس کی مہربانیوں کا یہ عالم ہے۔کہ انسان صرف نیکی سوچ لے کہ کرنا ہے اور کسی مجبوری کی وجہ سے اپنی سوچ پوری نہ بھی کرسکے ،تو اللہ تعالیٰ اس کو کم از کم دس نیکیاں تو عطافر مات ہی ہے! مگر خلوص کے اعتبار سے صلہ لامحدود بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ گناہ کے سلسلہ میں سوچ پر کوئی پکڑ نہیں ہے؟تاوقتیکہ اس پر عمل نہ کرلے اورعملن نہ کر بیٹھے۔ پھر بھی برائیاں لکھنے واالا فرشتہ نیکی والے فرشتہ کی ہدایت کا منتظر رہتا ہے کہ شاید بندہ توبہ کرلے؟ جب وہ اس کے بعد بھی توبہ نہیں کرتا، برائی پرا ڑجاتا ہے تب کہیں جاکر وہ مرحلہ آتا ہے کہ برا ئی لکھنے والا فرشتہ ایک برائی لکھ لے۔ پھر بھی رحمت دیکھئے کہ جب بھی وہ صدق دل سے توبہ کرلے تو پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ بشرط ِ کہ ا س نے کسی کے حقوق نہ مارے ہوں۔یعنی کسی کے ساتھ برائی نہ کی ہو؟ کیونکہ وہ وہی معاف کرے گا۔

میری نہ تو جنید جمشید (شہید)سے بات ہوئی ،نہ ملاقاتیں رہیں اور نہ ہی جان پہچان تھی۔ دلچسپی جب پیدا ہوئی جب انہوں نے حضرت مولانا جمیل صاحب سے متاثر ہوکر اپنی زندگی کو تبدیل کیا۔ یہ کیسے ممکن ہوا ۔ وہ مولانا جمیل صاحب کی زبانی سنیئے جو انہوں نے ٹی وی پر بتایا ۔ کہ بیس سال سے مولانا ان کو جانتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔ مولانا کراچی آرہے تھے کہ انہوں نے ان کے یہاں آنے اورا نکے پاس ٹھہرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ان کے یہاں کھانا کھانے کا بھی؟ انہیں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی یہ فرما رہے ہیں! مولانا نے جب وجہ پوچھی تو مرحوم نے بتا یا کہ میرے ہاں کھانا کھانا مذہبی حلقہ پسند نہیں کر تا۔مختصر یہ کہ ان کے ہاں کا قیام اور طعام جنید جمشید میں اس عظیم تبدیلی کا باعث ہوا۔ اگر مولانا بھی اسی راہ پرگا مزن ہوتے جس پر مذہبی حلقے چل رہے ہیں۔ توا نہیں جنید جمشیدشہید کی شکل میں ایک اچھا کارکن کبھی نہیں ملتا (میں نےا نہیں شہید اس لیے لکھا ہے کہ وہ چترال اس کام کے لیے گئے ہوئے تھے جو حکم ِ قرآنی ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چا ہیئے جو برائیوں سے روکے اور اچھائیوں کی تلقین کرے)؟ کیونکہ یہ ہی نبی (ص) کا راستہ تھااور یہ ہی اولیاءاللہ کاراستہ ہے کہ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ؟ اسلیے کہ نفرت کرکے آپ کسی کو اپنے قریب نہیں لا سکتے؟ مجھے مولانا بھی اسی لیے اچھے لگتے ہیں وہ بھی محبت کی بات کرتے ہیں نفرت کی نہیں۔ چونکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے سے خوش گمانی کا حکم ہے اور وہ اچھا کام کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں اتحاد کے لیے کوشاں ہیں، اسی لیے میں ا نہیں پسند کرتاہوں۔ دنیا میں حق پسندوں کے لیے مشکلات ،اور مفاد پسندوں کے لیے آسانیاں رہی ہیں ۔ جو لوگ اس میدان میں کام رہے ہیں انکے لیے کتنی مشکلات ہیں ، وہی جانتے ہیں، ہمارے میرِ کارواں اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ھمدانی کے دل سے پوچھیے؟ جب سے ججنید مرھوم نے حضرت مولانا جمیل صا سے متاثر ہونے کے بعد وہی کام شروع کیا، جوبہت سے لوگ دنیا میں خاموشی سے کر رہے ہیں۔ تو میری نظر میں عظمت پاگئے۔ حالانکہ وہ میرے سب سے چھوٹے پیٹے کی عمر کے تھے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ انہوں نے کیا کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمیں کی طرف پیش رفت، ان کی آمد سے جو سب سے بڑا کام ہوا وہ یہ تھا کہ مسلمانوںکے دو بڑے فرقے ایک دوسرے کے قریب آنے لگے تھے ۔ تبدیلی یوں رونما ہوئی کہ ان سے پہلے جو لوگ نعت کے خلاف تھے، وہ بھی ان کی وجہ سے اب محافل ِنعت کا اہتمام کرنے لگے تھے۔ لیکن بہت سے لوگوں نے اس تبدیلی کے بعد بھی انہیں معاف نہیں کیا، اس پر سوشیل میڈیا گواہ ہے؟

وہ کیاتھے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے جبکہ حضرت عبد القادر جیلانی (رح) نے فرمایا کہ ہر وقت دنیا میں پینتیس ہزار ولی اللہ رہتے ہیں۔ اور اللہ جس سے جو چاہےکام لیتا ہے اور یہ خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ وہ ولی ہے ۔ ایسے میں کوئی کسی کے بارے میں کیا کہہ سکتا بلکہ وہ اپنے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا ہے کہ وہ خود کیاہے۔ موجودہ دور میں ولایت کا تصور یہ ہے کہ بظاہر متقی دکھائے دے ؟ جبکہ قر آن اُن سب کو اللہ کا ولی کہتا ہے جوکہ سچے مومن ہو ں اور لا الہ کہنے کے بعد خدا کے کڑے کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہو؟اور حدیث میں پہچان یہ ہے جس کو دیکھ کر خدا یادآجا ئے،تیسری پہچان یہ بتائی کے ا للہ کے لیے ایک مومن دوسرے مومن سے محبت کرتا ہو۔ جبکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے بارے میں خوش گمانی سے کام لیں کیونکہ بعض گمان کفر تک پہنچا دیتے ہیں ۔ اور ولی کا ہمیں یہ معیار بتادیا ہے کہ کوئی آسمان پر اڑ رہا ہو پانی پر چل رہا ہو اگر اس کا ایک فعل بھی خلاف سنت ہو تو وہ شیطان ہے ولی نہیں ۔ اس روشنی میں آئیے اب ان کے تائب ہونے کے بعد ان کی زندگی کو تولیں؟ ۔ تو میں یہ بات بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں؟ کہ ان کی زندگی بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی کچھ کرنا چاہے تو اس کو سراہا نہیں جاتا بلکہ ایک ، ایک غلطی پکڑی جاتی ہے اگر بھولے سے بھی غلطی ہو جائے تو اس کے سارے کرے دھرے پر پانی پھیر دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہاں پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ بندہ ہے کس گروپ کا ؟ اگر وہ اپنے گروپ، صوبہ، ذا ت یا برادری کا نہیں ہے تو کتنا ہی ا چھا ہو کچھ بھی کر رہا ہو؟ وہ مخالف گروپ کے نکتہ چینوں کی نگاہ سے بچ نہیں سکتا؟ ۔ جبکہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرامی یہ ہے کہ “ صرف میرے راستہ پر چلو میرا راستہ سراط مستقیم ہے ا س کے دونوں طرف لاتعداد دروازے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں ان کو ا ٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤگے۔ ان کے ساتھیوں سے ان کے انتقا ل کے بعد جو ہم نے سنا اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ اپنی زندگی میں حضور (ص) کا اتباع کرتے تھے۔ ثبوت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی دوست آکر بتا تا کہ آپ کو فلاں شخص برا بھلا کہہ رہا تھا، تو کہتے، چلو میں اس سے معافی مانگ لوں؟ وہ کہتے کہ وہ تو آپ سے ملنے کو بھی تیار نہیں ہے تو مجبوراً کہتے کہ یہ اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا۔یہ ان کا ویسا صبر تھا جوکہ حضور (ص) کی پاکیزہ صحبت کی بناپر صحابہ کرام (رض) میں عام پایا جاتا تھا، جو اب مسلمانوں میں ناپید ہے۔

یہ اس آیت کا عملی مظاہرہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی (ص) کومخاطب کرکے فرما کہ تم دشمنوں کے اچھا بر تاؤ کرکے دیکھو ، تمہارا جانی دشمن دوست بن جائے گا، مگر یہ بڑی ہمت کا کام ہے اورجواں مرد ہی کرتے ہیں۔ اب ہم دوسری صفت لیتے ہیں ۔ وہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ دیکھو کسی کی بے عزتی مت کرنا ہر ایک کا “اکرام کرو “ یہ صفت ہمیں حضور(ص) کے اسوہ حسنہ میں بدرجہ اتم نظر آتی ہے یہ انہوں نےو ہیں سے لی۔ وہ (ص) ہر چھوٹے بڑے کا “اکرام “ فرماتے تھے ۔ حضور (ص) بڑوں سے فرماتے تھے کہ اپنے سے چھوٹوں کی عزت کرو ،اس لیے کہ ان کے گناہ کم ہیں تمہاری عمر زیادہ ہے اس لیے تمہارے گناہ زیادہ ہیں ،کون جانے کے اللہ کی نگاہ میں کس کا مقام کیا ہے اس لیے خود کو حقیر سمجھو؟یہ بھی فرمادیا کہ یہ تمہارا کام نہیں کہ کسی کلمہ گو کو برا بھلا کہو یااسے کافر بنا ؤ۔ اور چھوٹوں سے فرماتے تھے کہ تم بڑوں کی عزت کرو ،اس لیے کہ ان کی عمر زیادہ ہے وہ تم سے نیکیوں میں زیادہ ہیں ۔ اسی طرح ماں باپ سے فرماتے تھے کہ تم بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ “نیز سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں ااپنے گھر واالوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں“ جبکہ بچوں سے فرماتے تھے کہ تم اپنے والدین کے ساتھ ادب سے پیش آو اور جب بات کرو تو تمارے چہرے پر بشا شت نمایاں ہونا چاہیے ۔ ایک حدیث میں یہاں تک فرمایا کہ اگر تم ان کی طرف ایک دفعہ مسکراکر دیکھو گے تو پچاس حج ِ مبرور کا ثواب ملے گا ۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا !گر ہم دن میں پچاس دفعہ مسکرا کر دیکھیں تو بھی پچاس دفعہ اتنا ہی ثواب ملے گا! ارشاد ہوا نعم( ہاں)۔ حضور (ص) اپنے لیے انکساری پسند فرماتے تھے۔ اپنی تعظیم کے لیے لوگوں کو منع فرماتے سلام میں ہمیشہ پہل فرماتے تھے۔ جب محفل میں تشریف لاتے جہا ں جگہ ملتی وہاں تشریف فرما ہو جاتے تھے ،یہ اور بات تھی کہ صحابہ کرام اپنا رخ ان (ص) کی طرف کرلیتے۔ جبکہ ہما را عالم یہ ہے کہ ہم منتظر رہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پہلے سلام کرے ، اور کسی محفل میں جا ئیں پہلے تو جانکر تاخیر کریں، پھر صفوں کوپھلانگتے ہو ئے اگلی صفوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ا گر نشت کرسیوں پر ہے تو آگے بڑھتے چلے جا تے ہیں چاہیں کاروائی شروع ہوچکی ہو؟اسوقت منتظمین کی پریشانی دیکھنے کے قابل ہو تی ہے۔ کہ“ کس کو اس کی جگہ سے اٹھائیں اور آنے والے صاحب کوبٹھائیں“ جبکہ اس حرکت سے حضور (ص) نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ مختصر یہ کہ انکساری کے بجائے، ہمارے ہاں تکبر کی انتہا ہوتی۔ پھر دوسروں کے عیب ٹٹولتے ہیں مگر اپنی آنکھوں کے شہتیر نہیں نظر آتے۔ ایسے ماحول میں مرحوم کے دوست کہہ رہے کہ ہم عہد کریں کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھا ئیں گے جس سےکہ مزیدثابت ہوتا ہے کہ وہ ا سوہ حسنہ پر قائم تھے کہ اپنی ہی نہیں اپنے ساتھیوں کی زندگی بھی س حد متاثر کی وہ ایسی باتیں کر رہےہیں؟ ۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب فرما ئے کیونکہ یہ کام کہنے میں بڑا آسان ہے مگر کرنے میں بہت مشکل ہے؟ ،اس کام میں پتھر وں کی بارش ہوتی ہے پھولوں کی نہیں، بہت سے حاسد پیدا ہوجاتے ہیں ان لوگوں کی صرف وہی چند نفوس دلوں سے عزت کرتے ہیں جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ہدایت دینا چا ہے ۔ اللہ ہمیں بصیرت دے کہ بجا ئے اوروں کے عیب ٹٹولنے کہ ہم اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرتے رہیں۔ بد گمانی غیبت بغض و حسد ، گروپ بندی ، فرقہ بندی سے بلند ہوکر سوچنے کاظرف عطا فرما ئے۔ آمین۔

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY