سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی سماعت سے جج نے معذرت کرلی۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست احتساب عدالت میں دائر کی گئی تھی۔

xADVERTISEMENT

Full arch replacament
Implant Within a Week – What the smiles behind
Learn More
Skip in 7
Ad
ذرائع کے مطابق فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل ظافر خان نے دائر کی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے چھٹی پرہونے کے باعث رجسٹرار احتساب عدالت نے ایون فیلڈ پراپرٹیزریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست ڈیوٹی جج کو بھجوا دی۔

احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں نواز شریف کی درخواست پرسماعت ہوئی۔

احتساب عدالت نمبر2 کے جج محمد ارشد ملک نےسوال کیا کہ یہ درخواست میرے پاس کیوں لائی گئی ہے؟ساتھ ہی انہوں نے اس درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔

جس کے بعد ڈیوٹی جج نے نواز شریف کی درخواست احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر کو ہی بھجوا دی ہے۔

واضح رہے کہ درخواست میں نواز شریف کی جانب سےعدالت سے گزارش کی گئی ہے کہ فیصلہ سنانے کی تاریخ بڑھائی جائے،خود آکر فیصلہ سننا چاہتے ہیں۔

نواز شریف نے درخواست میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی حالت سے متعلق ڈاکٹرز سے بھی رائے لی ہے۔

گزشتہ روز لندن میں اسی حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں مقدمے کا فیصلہ کمرہ عدالت میں جج صاحب کی زبان سے سُننا چاہتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ڈکٹیٹر نہیں ہوں جو عدالتوں سے بھاگ جائوں، میں بھاگوں گا نہیں اوراپنے عوام کو دھوکا بھی نہیں دوں گا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ایک سال کے اندر اپنی بیٹی کے ساتھ 100 پیشیاں بھگت چکا ہوں، میری اہلیہ گزشتہ 21 دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فیصلہ کچھ بھی ہو، خواہ میرے حق میں ہو یا خلاف میں پاکستان واپس جائوں گا، میں ہرطرح کی صورتحال کاسامنا کروں گا اور بھاگوں گا نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت میں دعا کر رہا ہوں کہ کلثوم کو ہوش آ جائے، جیسے ہی انہیں ہوش آئے گا میں پاکستان واپس چلا جائوں گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY