یہ بھی بتانا ہے ۔۔۔ بیماری سے ٰایمانداری کیا ہے ؟
ایمانداری ہی تو ۔۔ زندگی اور موت کی گریس ہے ۔۔ جسے جینا اور نبھانا ہم انسانوں کی ڈیوٹی ہے ۔
میں اپنے بچوں کو بتاونگی کہ ابا جی کی طرح ان کی لاڈلی بیٹی , تمہاری ماں بھی چاہے زمین پر رہے یا زمین کے اندر وہ ہمیشہ دعا اور پیار کی طرح تمہارے ساتھ رہے گی ۔ مجھے یگونہ خوشی اور اطمینان ہوا کہ میرے پاس ان کے سوالوں کے جواب ہیں ۔۔۔ مجھے اپنے امی ابا جی پر ناز ہوا کہ انہوں نے مجھے زندگی اور موت دونوں کے رموز و آداب سکھائے تھے اور اب میرے رب نے مجھے یہ وراثت پورے ہوش و حواس میں آگے بڑھانے کا موقع دیا تھا ۔
میں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے بہن بھایئوں اور دوستوں کو بتا کر جاؤنگی کہ کینسر بیماری نہیں ایک چیلنج ہے جسے ڈیوٹی کی طرح ایمانداری سے نبھاہنا ہے ۔۔اپنے واہموں کا سامنا کرنا ہے اور انجام سے آنکھیں ملا کر جینا ہے اور انجام کو جیت کر جانا ہے ۔
موت تو زندگی سے بڑی حقیقیت ہے ۔۔ ضروری نہیں کہ صرف کینسر والے ہی مرجاتے ہیں یا سب سے پہلے مر جایئں گے ۔
کاش کہ ہم جان پایئں ۔۔۔
انہیں بارہ مہینوں میں کسی ماہ
تیس یا اکتیس تاریخوں میں کسی تاریخ پر
سات دنوں میں کسی ایک دن
ساٹھ منٹوں میں کسی ایک منٹ پر
ساٹھ سیکنڈ کے کسی ایک سکینڈ پر ۔۔کوئی ایک گھڑی ۔۔ کوئی ایک پل ہم سب کی زندگی کا آخری پل ہو گا ۔
آفتاب صحیح کہتے ہیں کہ لفظ کینسر ہی ڈراؤنا ہے بس ورنہ کس نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے ۔
مجھے یاد آیا میں اپنے مریضوں سے کہا کرتی تھی منشیات کا نشہ کینسر سے برا ہے ۔۔۔
زیابطیس کا بگڑ جانا کینسر سے بدتر تھا ۔۔
بلڈ پریشر سے فالج کا ہوجانا کینسر سے زیادہ تکلیف دہ تھا ۔۔۔
ہائے بیماری تو کوئی بھی اچھی نہ تھی ۔۔
اور ۔۔ افسوس ان سب سے بچا جا سکتا ہے لیکن ہم انسان جیسے سکھ میں خدا کو بھول جاتے ہیں اسی طرح جب صحت مند ہوتے ہیں تو اپنے جسم کو نظر انداز کر جاتے ہیں ۔
ایسے میں امام جعفر صادق کا قول یا آیا کہ بیماری پر بھی اللہ کا شکر ادا کرو کہ وہ بیماری جو قابل علاج ہے
جسم کی طرح روحوں کے بھی کینسر ہوتے ہیں جس کو سب سے زیادہ ہم نظر انداز کر جاتے ہیں ۔۔ سیاست اور مذہبی جنون نے انسان کو انسان رہنے ہی کب دیا تھا ۔۔
محبتیں، رشتے ، دوستیاں ، اخلاق سب کو کینسر کی دیمک اور پھپوند لگ چکی تھی ۔۔۔۔۔
سب کٹ مر رہے تھے ۔۔۔ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے ۔۔
مجھ پر عقدہ کھلا کہ اپنی کمزوریوں ، غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف نہ کرنا ہی روحانی کینسر کی جڑ تھا ۔۔
اسی لیئے تو کہیں نفرت کا کینسر عام تھا تو کسی کو ڈر اور خوف کا کینسر تھا ۔۔
اور کہیں بیچارے لوگ اپنے اپنے عقیدوں کے کینسر میں مبتلا دوسروں کو گنہگار اور کافر قرار دے رہے تھے ۔
میرا ماننا ہے کہ جیسے روحانی علاج اپنے علاہ کسی کے پاس نہیں ہوتا اسی طرح سے جسم کے کینسر کا علاج بھی صرف انسان کے اپنے ہی پاس تھا ۔۔۔
میں اپنے احتساب کے میدان میں اکیلی کھڑی تھی ۔۔
حالت جنگ میں تھی ۔۔
پر میں کمزور اور مایوس ہر گز نہیں تھی ۔۔ اس لیئے کہ میں فائٹر ماں باپ کی فائٹر بیٹی ہوں ۔
اے موت ۔۔
میں جانتی ہوں تیرے آنے کا کوئی لمحہ کسی کے لئے بھی مقرر نہیں ہے۔
بہار کی رت ہو کہ خزاں کے دن رات ۔۔ پرسکون شام ہو کہ خوابوں بھری نیند ۔۔بادل برس رہے ہوں کہ زمیں کی زبان سوکھ چکی ہو ۔۔
آسمان ہو کہ ۔۔ زمین ۔۔کہ سمندر کی تاریکیاں سب تیری دسترس میں ہیں ۔۔۔
اے موت تجھے تو زندگی پر بھی فوقیت حاصل ہے ۔۔
پھر تیری آنکھ سے میں یا کوئی اور کیسے اوجھل رہ سکتے ہیں ؟
میں دل ہی دل میں ہنس رہی تھی ۔۔ موت ہر پل سامنے ہی تو کھڑی رہتی ہے ۔۔ بس خواہشوں کا سنہری جال آنکھوں کو ڈھانپے رکھتا ہے ۔۔

مالی نے میڈیٹیشن مراقبے کی کلاس میں بتایا تھا کہ کوئی یوگی تھے جو اپنی موت کی کوئی فرضی سی تاریخ خود ہی مقرر کر لیتے تھے ۔۔ اور پھر اس کی تیاریوں میں لگ جاتے ۔۔ مجھے لگا جیسے اس کینسر نے مجھے بھی یوگی بنا دیا تھا ۔۔ میں بھی تیاریوں میں لگ چکی تھی۔
آفتاب کے دور کے کزن محبوب عالم جنہیں وہ اپنا بڑا بھائی مانتے ہیں ، سڈنی ہی میں رہتے ہیں ۔ جب ہم پاکستان سے ہجرت کر کے سڈنی آئے تھے وہ ہمارے گھر کے پہلے مہمان تھے ۔ آفتاب کو بڑی اپنایت سے سڈنی میں قدم جمانے کی ہدایات دیا کرتے تھے ۔۔ ڈرایئونگ روٹس بتایا کرتے تھے ۔۔ جب بھی آتے کتنی ہی خوبصورت باتیں ہمیں سمجھایا کرتے ۔۔ وقت کی اہمیت پر ان کے بہت سارے لیکچرز آج بھی ہم سب کو ازبر تھے اور جیسے جیسے وہ بوڑھے ہو رہے تھے ان کی گفتگو زیادہ تر صحت کے ارد گرد رہنے لگی تھی ۔۔ ہم سب سے ہمیشہ کہتے
Health is the ONLY Wealth
ان کا زور اونلی پر ہوتا ۔۔
اس وقت میں بھی سوچ رہی ہوں کہ اگر ہم سب اپنا اپنا روحانی اور جسمانی خیال رکھیں تو ہمیں جسم کے کسی بھی حصے کا کینسر تو کیا روح کا بھی کینسر نہیں ہو سکے گا ۔ اور جو کبھی ہو بھی تو بہت کم لوگوں کو ہو اور اتنا معمولی ہو کہ ڈاکٹرز کو زندگی کی ڈیڈلائن ہی نہ دینی پڑے ۔
مجھے اس بات سے محبوب بھائی کی ایک اور بات بھی یاد آگئی ۔ وہ کسی برتن کے ٹوٹنے اور انسانوں کے مرنے کوایک جیسا ہی دیکھتے ہیں ۔۔ کبھی ایسا واقعہ ہوتا تو مسکراتے ہوئے کہتے ۔۔ افسوس کی کیا بات ہے ۔۔برتن کو عمر لگ گئی تھی ۔ ایسے ہی کوئی دس برس پہلے جب ان کی والدہ کے انتقال کی خبر ملی تو آفتاب کے ساتھ میں بھی ان کے گھر افسوس کے لئے فورا پہنچے ۔۔
محبوب بھائی نے بڑی رسانیت سے کہا ۔۔
بہت بہت شکریہ تم دونوں آئے ۔۔
لیکن اتنی رات کو آنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔
بے جی کے جانے کا دکھ بھی ہے لیکن خوش بھی ہوں کہ آرام سے جانا ہوا ۔۔
عمر لگ جائےتو کیا ہو ۔۔ بس انہیں عمر لگ گئی تھی ۔۔
محبوب بھائی کی بات پر کبھی آفتاب مجھے دیکھتے اور کبھی میں ان کو ۔۔ اس رات محبوب بھائی نے اپنے ہاتھ سے ہمارے لئے چائے بنائی تھی ۔۔
سچ ہی تو کہا تھا انہوں نے جب عمر لگ جائے تو کیا ہو ۔۔ ان کا اپنی والدہ کا سکون سے دنیا سے جانا ہمیشہ مطمئن رکھتا تھا۔ میں نے پورے دل سے دعا کی کہ اللہ پاک جب میں اس دنیا سے جاؤں تو میرے پیاروں کو بھی ایسا ہی سکون عطا ہو کہ میں نے خوشی خوشی اس دنیا کو الوداع کہا تھا۔
محبوب بھائی کو جب میرے کینسر کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے انداز میں تسلی دی ۔۔ یعنی مجھے میرے ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ۔۔
نگہت تم مجھے بتاؤ کہ کینسر سے بچنے کا آسان سا طریقہ کیا ہوسکتا تھا ۔۔ ؟
میری چپ پر محبوب بھائی نے مجھے ٹاسک دے دیا کہ کل تک انہیں ضرور بتاؤں ۔
جی بھائی میں ضرور بتاؤنگی ۔۔
رات گئے انہیں تفصیل بھیجتے ہوئے ایسے لگا جیسے میں اپنے ہی احتساب کے کٹہرے میں کھڑی تھی اور شاید محبوب بھائی بھی یہی چاہتے تھے کہ مجھے “ کیوں “ کا سرا مل جائے ۔۔ اور اطمینان کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دوں ۔۔
میں بہت کچھ سوچ رہی تھی اور بہت سارے آرٹیکل پڑھ بھی رہی تھی ۔۔اخر ایک مضمون لکھنے میں کامیابی ہو ہی گئی ۔
کینسر سے بچاؤ کے لئے
” Intermittent Fasting “
وقفے وقفے سے روزہ رکھنا
کیجئے ۔۔!

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد ا فراد اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں کینسر میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سالانہ سے زائد ہے جن میں خواتین میں بریسٹ کینسر اور مردوں میں منہ کے کینسرسرفہرست ہیں۔
کینسر دراصل جسم کے کسی بھی حصے میں کسی بھی وجہ سے نارمل خلیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو جانے کو کہتے ہیں جسکی وجہ سے جسم کی ساری انرجی یہ خلیات استعمال کر لیتے ہیں اور نارمل خلئے انرجی نہ ملنے سے مرنے لگتے ہیں ۔
کینسر کی بنیادی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن مختلف تجربات اور تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ 90 سے 95 ویں فیصد مریضوں میں بیرونی اثرات کی وجہ سے کینسر ہوتا ہے جن میں خاص طور پر غیر متوازن غذا، تمباکو نوشی، پان، چھالیہ، گٹکا ، منشیات اور الکحل کا استعمال، موٹاپا ، انفیکشن اور ریڈیشن شامل ہیں۔ اور باقی 5 سے 10 فی صد مریضوں میں یہ مرض موروثی ہوتا ہے۔
پھر میں نےکینسر سے بچنے کا نہایت آسان، سادہ اور سستے طریقے بھی لکھے تھے ۔۔
1۔ اپنی زندگی کو فطرت کے قریب سے قریب تر کیجیئے یعنی جب موقع ملے باغ کی سیر کو نکل جایئے ۔
2۔ متوازن غذا میں تازہ سبزیاں اور پھل استعمال کریں جوآسانی سے دستیاب بھی ہوں یعنی مصنوعی ذائقے، مصنوعی شوگر، باہر کے کھانے اور ٹن فوڈ اور دیگر اشیاء سے مکمل اجتناب کرنا ہے۔
3۔ ہفتہ میں ایک دن 12 گھنٹے بھوکے رہیئے لیکن اس دوران سادہ پانی یا گرین ٹی لے سکتے ہیں ۔ بارہ گھنٹے بعد ہلکا پھلکا تازہ کھانا کھایئے جس میں گوشت اور چینی بلکل نہ ہو۔
4۔ سب سے مفید طریقہ
وقفے وقفے سے روزہ رکھنا
” Intermittent Fasting “
روزانہ 16 گھنٹے کچھ نہ کھایئے ۔ اس دوران سادہ پانی یا گرین ٹی لے سکتے ہیں ۔۔ مثلا رات 8 بجے سے دوپہر 12 بجے تک بھوکے رہنا ہے اور باقی کے آٹھ گھنٹے جو کھانا عام طور پر کھاتے ہیں لے سکتے ہیں یعنی گوشت اور شکر لیکن سادگی اور اعتدال کا اہتمام رکھئےجیسے پروٹین 500 گرام سے زیادہ نہ ہو اور چینی 2 چھوٹے چمچے سے زیادہ استعمال نہ کریں ۔
اگر کینسرکے خلیات کو 12 گھنٹوں تک انرجی نہ ملے تو وہ مرجاتے ہیں ۔ لہذا جدید تحقیق کے مطابق کینسر سے بچنے کے لئے ” Intermittent Fasting “
سب سے موثر طریقہ ہے ۔
مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنے ہی لکھے پر مکمل عمل نہیں کیا ۔۔۔ جیسے شوگر اور گوشت کے استعمال میں کمی تو کی لیکن بلکل ترک نہیں تھا کیا ۔ اور روزہ داری کا بھی نامکمل سا اہتمام رہا ۔۔ پر اب کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔
نتائج سامنے رکھ دیئے گئے تھے ۔۔ لیکن آپ سب سے تو کہہ سکتی ہوں کہ مجھ جیسا مت جیئے گا ۔۔
سادھارن جیون ، سلامتی اور سکھ کی موت کا ضامن ہے ۔
اور یہ بھی کہ ۔۔۔ روحانی کینسر کا بھی علاج بہت ضروری ہے ۔۔ اس کا علاج ہو جائے تو جسمانی علاج سہل ہو جاتا ہے ۔
میں نے بیڈ لیمپ بند کرتے ہوئے سوچا ہمیں اپنی دعاؤں میں ایک دعا ضرور شامل کرنی چاہیئے ۔۔
اور وہ یہ کہ موت عزت اور آرام دہ ہو ۔۔۔ یعنی گریس فل ڈیتھ کی دعا مانگنا بہت ضرروی ہے۔
آفتاب جانتے تھے کہ میں سو نہیں رہی تھی ، سوتی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔ میری نیند کو سوچ کے پر کہیں سے کہیں اڑائے پھر رہے تھے ۔۔
مجھے اپنے بچوں کے سوالوں کے آسان سے جواب بھی دینے تھے ۔۔ مجھے اپنے دوستوں کو بھی سمجھانا تھا ۔۔
نیند ہم دونوں سے دور تھی ۔۔ لیکن ہمارے سفر الگ الگ تھے !

اے میرے پاک رب
اے اپنے ایمان دار بندوں پر مہربان رب
اپنی بزرگی کے صدقے
میرے دل کو
خوف کی تاریکیوں سے
پاک کر دے
میری بیماری کو
میرے لئے
باعث رحمت کر دے
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














کینسر کے ہی نہیں بلکہ ہر مریض کے لیے آپبکی یہ تحریر حوصلہ مندی اور جرات کا ایک بھرپور نسخہ ہے جس میں آپ نے مرحلہ وار ایک پروگرامنگ دے دی ہے کہ کیسے کرنا ہے کیا کرنا ہے ۔صرف خود ہی نہیں بلکہ اپنے پیاروں کو بھی کیسے سنبھالنا اور مشکل صورتحال کے لیے تیار کرنا ہے ۔میں تو ذرا زرا سے بات پر ہائیپر ھو جاتی ہوں ۔انزائیٹی شروع ھوجاتی ہے ۔نہ کہ اتنی بڑی تکلیف ۔خدا کسی دشمن کو بھی نہ دے ۔
آپ کو خدا مکمل صحت و سلامتی عطا فرمائے ۔بہت سا پیار