عدالت کا ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں سزا کا فیصلہ، کوئی تعزیر عائد نہیں کی گئی

0
720

امریکہ کی ایک عدالت نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “ہش منی” کیس میں سزا سناتے ہوئے ان پر کوئی تعزیر عائد نہیں کی ہے اور انہیں غیر مشروط طور پر ڈسچارج کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے “ایسو سی ایٹڈ پریس” کے مطابق اس طرح جج کا فیصلہ ان کے جرم کے ارتکاب کو برقرار رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی انہیں آزادانہ طور پر جیل کی سزا یا جرمانے کے خطرے کے بغیر وائٹ ہاوس میں اپنا دور حکومت شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک پورن اسٹار کےساتھ ماضی کے تعلق پر اسے پیسوں کے عوظ خاموش رکھنے کے اس غیر معمولی مقدمے میں سابق اور آنے والے صدر پر 34 مجرمانہ الزامات لگائے گئے تھے۔

تاہم، اس مقدمے کی قانوی پیچیدگیوں اور کیس کی تفصیلات سے امریکی ووٹرز کی نظر میں ٹرمپ کے بارے میں تاثر پر کوئی اثر نہیں پڑا اور عوام نے ٹرمپ کو چار سال کے وقفے کے بعد پچھلے سال نومبر کے الیکشن میں دوسرے دورِ صدارت کے لیے منتخب کر لیا۔

اے پی کے مطابق اس مقدمے میں چار سال کی سزا ہو سکتی تھی جس کا اختیار نیویارک ریاست میں مین ہیٹن کے جج وان ایم مرچن کے پاس تھا مگراس کی بجائے جج نے ایک ایسی سزا دینے کا فیصلہ کیا جس کے تحت آئینی مسائل سے بچتے ہو ئے اس مقدمے کو ختم کر دیا گیا

تاہم نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہوجانے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ آیا کوئی عدالت نومنتخب صدر کو سزا سنا سکتی ہے یا نہیں۔

جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے جج وان مرچن نے کہا کہ اس سے قبل ان کی عدالت میں اتنا منفرد اور مختلف حالات والا مقدمہ پیش نہیں ہوا۔ تاہم ان کے بقول ایک جج کو مقدمے کے حقائق کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو بھی مدِ نظر رکھنا ہوتا ہے۔

جج نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے باوجود یہ مقدمہ ان کی عدالت میں چلنے والے دوسرے مقدمات ہی کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر کو حاصل قانونی تحفظ اس عہدے کا استحقاق ہے، اس پر براجمان شخصیت کا نہیں۔

جج مرچن نے کہا کہ، جیسے کسی دوسرے مدعا علیہ کے معاملے میں ہوتا ہے، سزا دینے سے پہلے متعدد عوامل پر غور کیا جاتا ہے۔ لیکن، انہوں نے اس کیس کے حوالے سے کہا کہ صدر کے طور پر ٹرمپ کو جو قانونی تحفظ حاصل ہوگا وہ ایک ایسا عنصر ہے “جو باقی سب پرحاوی ہے۔”

جج نے اس موقع پر نوٹ کیا کہ کسی صدر کو حاصل قانونی تحفظات کی غیر معمولی وسعت کے باوجود ایک اختیار ایسا ہے جو ان تحفظات کے زمرے میں نہیں آتا اور وہ یہ ہے کہ ان سے جیوری کا فیصلہ مٹ نہیں سکتا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں ٹرمپ اب پہلے امریکی ہیں جو کسی جرم کے مرتکب ہونے کے بعد صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے۔

ٹرمپ جمعے کو عدالتی کارروائی میں ریاست فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار۔ آ۔ لاگو سے آن لائن شریک ہوئے۔

نو منتخب صدر نے اس موقع پر اپنے مختصر بیان میں عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف یہ فوجداری مقدمہ اور الزامات کا مرتکب ٹھہرایا جانا ایک بہت برا تجربہ رہا ہے۔ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

اپنا دوسرا دور صدارت شروع کرنے سے دس روز قبل بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس مقدمے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

SHARE

LEAVE A REPLY