دل کی دہلیز پہ جو شخص کھڑا ہے صفدر

0
88

خود ہی دیوار سلیقے سے اٹھا دی میں نے
اُس کو دیوار کے اُس پار صدا دی میں نے

تم نے جو بات بتانے سے مجھے روکا تھا
اپنے دشمن کو بھی وہ بات بتا دی میں نے

گھر کا دروازہ جلانے کا میں خود مجرم ہوں
سچ تو یہ آگ کو بھی آپ ہوا دی میں نے

عکس کو تیرے کیا اپنی ہی تصویر میں ضم
ایسے تفریق من و تو کی مٹا دی میں نے

فیصلہ آپ سُنا ڈالا ہے خود اپنے خلاف
اور پھر اپنے کو ہر بار سزا دی میں نے

مجھ کو تسلیم کہ ہے ذات میں میری یہ کمی
جس نے بھی درد دیا اُسکو شفا دی میں نے

دل کی دہلیز پہ جو شخص کھڑا ہے صفدر
اُس کو پانے میں بہت دیر لگا دی میں نے

صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY