آج کا پورا دن سڑکوں کو ناپتے گزرا تھا ۔۔ کہیں پارکنگ نہ تھی ۔۔جو جگہ ملتی وہ اتنی دور ہوتی کہ دل کرتا کہ گھر واپس ہو لیا جائے ۔۔ لیکن کل پہلی جون تھی اور رپورٹس کے ساتھ مائیکل برلنگ سے ملنا تھا ۔۔۔ ہم دونوں کا بھوک سے برا حال تھا ۔۔سوچا چپنگ نارٹن میں “ خان علی بابا ٹرکش رسٹورنٹ “ چلتے ہیں ۔
وہاں کے مالک میاں بیوی کا اخلاق بے حد اچھا لگتا تھا ۔ کھانا بھی تازہ اور محبت کے ساتھ ۔۔ کسی مہمان کے ساتھ جاتے تو خان بھائی انہیں اپنے بنائے ہوئے سرکہ اچار ضرور تحفے میں دیتے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں تو ان کے بھی مہمان ہیں ۔۔ جب ہم دونوں وہاں پہنچے تو نہ ہی دوپہر بچی تھی اور نہ ہی رات ہوئی تھی ۔
محمد کیسے ہو ۔۔ خان بھائی ہمیں دیکھ کر کھل گئے ۔۔ ترکی لہجے میں انگریزی ان پر بہت جچتی تھی۔
جانے کیوں وہ ہمیں دیکھ کر اتنے خوش کیوں ہو جاتے ہیں ۔۔ یا پھر سب کے ساتھ ہوتے ہونگے ۔۔لیکن ہم دونوں کو لگتا تھا جیسے وہ ہمارے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔۔ میں اسے اللہ واسطے کی محبت کہتی ہوں ۔ ۔۔ یعنی ایسی محبت جو صرف اللہ پاک کو خوش کرنے کے لئے مسلمان بہن بھائی آپس میں کرتے ہیں۔
میری بہن کیسی ہے ۔۔خان بھائی نے کاؤنٹر کی دیوار کےپاس آکر مجھ سے پوچھا
جی میں الحمدوللہ بہت اچھی ہوں

لیکن ۔۔ آفتاب نے کھانے کا آرڈر دیتے وقت خان بھائی کو بتا دیا کہ مجھے دو دن پہلے کینسر تشخیص ہوا ہے
دونوں میاں بیوی لپک کر میری ٹیبل تک پہنچے ۔۔ ان کی آنکھوں میں نمی بھی تھی اور ضبط کی سرخی بھی
تمہیں کچھ نہیں ہو گا میری بہن ۔۔۔ وللہ ہم دعا کریں گے
ہمیں بتاؤ ہم تہارے لیئے کیا کریں ۔۔ کیا کھانا بنا کر روز بھیج سکتے ہیں ۔۔ اگر تم اجازت دو
ارے نہیں نہیں خان بھائی پلیز نہیں ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ خان بھائی کی بیوی نے میرے ہاتھ چوم لیئے
کچھ نہیں ہوگا تمہیں ۔۔ تم آج سے ہماری دعاؤں میں رہوگی
ٹرکش کباب کی مکس پلیٹ ۔۔ ساتھ میں میری پسند کی بکلاوا مٹھائی اور چپس سب کچھ باری باری میز پر رکھا جا چکا تھا
دونوں میاں بیوی ہاتھ باندھے بار بار پوچھتے اور کچھ لاؤں اپنی بہن کے لیئے

میں ان دونوں کی محبت پر اشکبار ہو گئی ۔۔۔جنت مکانی امی جی کہا کرتی تھیں کہ جب مخلوق خدا تم سے بے لوث محبت کرے تو سمجھ لینا تم پر خدا مہربان ہے ۔
خان بھائی اور ان کی بیوی نے یہ کہہ کر مجھے اور بھی حیران کر دیا
سسٹر ہم تمہاری صحت کے لئے آج ہی سے ہر نماز کے بعد تسبیح کریں گے
اپنے دوستوں سے بھی کہیں گے ۔۔ مسجد میں بھی دعا کریں گے
ہم دونوں کے لئے ان کا شکریہ ادا کرنا ممکن ہی نہ تھا ۔۔ اوپر سے انہوں نے کھانے کے پیسے لینے سے بھی انکار کر دیا ۔
گاڑی میں آفتاب سے میں کہہ رہی تھی کہ آپ نے نوٹ کیا خان بھائی اور ان کی بیوی نے مجھے یہ نہیں کہا کہ یہ پڑھو وہ پڑھو ۔۔ یہ کھاؤ اور یہ نہ کھاؤ ۔۔ انہوں نے صرف یہ کہا ہم دعا کریں گے اور تمہاری صحت سلامتی کے لئے تسبحیات پڑھیں گے۔
کتنی بلند سوچ ہے ان کی ۔۔ ہم کیوں نہیں اپنا سکے ایسی باتیں ۔۔
گھر پہنچ کر میں نے سب سے پہلے بابا صاحب (صفدر ہمدانی ) کو بتایا کہ وہ بھی دوسروں کے لئے زیادہ تر دعائیں خود ہی کیا کرتے ہیں ۔۔۔ اور جو اگر کسی کو بتانی ضروری ہو تو مختصر سے مختصر دعا بتاتے اور کبھی جو کوئی دعا سات بار سے زائد پڑھنے والی بتایئں ۔ اور ہاں وقت کی قید بھی نہ رکھتے تھے اور نہ ہی وضو کی شرط ۔۔لیکن تلقین ضرور کرتے کہ بہتر ہے کہ وضو کے ساتھ پڑھی جایئں ۔

میں انہیں بتا رہی تھی ۔۔ سوچیئے تو ۔۔
ایک تو مریض ۔۔۔ جو پہلے ہی خوف اور تکلیف سے نڈھال ہے
خون کی کمی سے تھکن سے چور ہے
سفید جرثومے کم ہونے سے قوت مدافعت بھی کھو رہا ہے
روزانہ کے بلڈ ٹیسٹ ۔۔ اف اس کے ہاتھوں کی نسوں کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں
اور پھر ۔۔ جس دن ان ٹیسٹوں کی رپورٹ آتی ہے ، اس دن مریض کے دل کی دھڑکن سوائے خدا کے کوئی نہیں جان سکتا
کیا کوئی انسان ، اس انسان کی بے بسی کا اندازہ لگا سکتا ہے ؟ ۔۔شاید کوئی بھی نہیں
جس کے پاس گنتی کے دن ہوں اور کام بے حساب ہوں ۔۔
معافی بھی مانگنی ہو اور پرانے حساب بھی چکانے ہوں ۔
جس کو ابھی ابھی یہ پتہ چلا ہو کہ جس خدا سے محبت کے ترانے وہ دن رات گاتا تھا ۔۔ جب اسی کے حضور جانے کا وقت آیا ہے تو وہی انسان زندگی کی مہلت مانگ رہا ہے ۔۔
یہ کیسی محبت ہے جس میں وصال سے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ خدایا میں اپنی کم ظرفی پر شرمندہ ہوں ۔۔ بے حد شرمسار تھی۔
کاش کوئی سوچ سکتا ۔۔۔
ایک تھکا ۔۔ ہارا ۔۔ کم ظرف ۔۔ شرمندہ انسان ۔۔ جو پورا دن ڈاکٹروں کی کلینک اور سڑکوں پر گزارنے کے بعد اپنے خدا کی کتنی تسبحیات کر سکتا ہے ؟
کیا کوئی ایسے بے بس کو سورہ مزمل اکیس بار پڑھنے کی ہدایت کر سکتا ہے ۔۔
یا سلام کی ایک لاکھ بار پڑھنے کی تسبیح پڑھنے کو کہہ سکتا ہے
سورہ رحمان دن رات سننے کا کہہ سکتا ہے ۔۔
لیکن ۔۔۔۔ ہاں وہ لوگ کہہ سکتے تھے جنہیں مریض کی کیفیت اور اس کی بے پناہ تھکن کا احساس نہ ہو ۔۔۔ یا بےحس ہوں۔
کتنا ہی اچھا ہو کہ نصیحت کرنے والے خود وقت نکال کر مریض کے لئے پڑھیں ۔۔ اور اس کی صحت سلامتی کی دعایئں کریں ۔۔
گھر والے اور احباب مریض کو اپنی نصحیتوں سے آزاد کر دیں ۔۔
مریض کو خود جاننے کا موقع دیں کہ اسے اس تکلیف سے کیسے مقابلہ کرنا ہے ۔۔
خدا سے تعلق داریاں، وظائف سے کبھی نہیں نبھائی جا سکتیں ۔۔۔ وہی خدا جو قران میں کہتا ہے کہ مجھ تک تمہارا گوشت اور خون نہیں بلکہ نیت پہنچتی ہے ۔۔ یہاں نیت کامطلب قربت ہے ۔۔اس رب کو ایک لاکھ کی تسبیح نہیں ایک باراخلاص سے مانگی ہوئی دعا چاہیئے۔۔۔ مجھے اپنے رب کی قربت اور پیار چاہیئے تھا۔
ہم تو بے بس لوگ ہیں ۔۔
اپنے خدا سے صرف درخواست کر سکتے کہ ہماری مدد کر ۔۔ وہ فریاد سنتا ہے ۔۔ سب کی داد رسی کرتا ہے ۔۔ جو اس کو مانتا ہے اس کی بھی اور جو اس کو نہیں مانتا اس کی بھی ۔
مجھے بھی تنہائی چاہیئے تھی بس ۔۔۔ اور کچھ نہیں ۔۔
مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ تسبیحات پڑھتی ۔۔ اکیس بار سورہ مزمل پڑھتی ۔۔
مجھے تو صرف اپنے رب سے باتیں کرنی تھی ۔۔۔ اس سے معافی مانگنی تھی ۔۔ شکرانے کے نفل پڑھنے تھے کہ مجھے کینسر کی صورت مہلت کی نوید دی تھی ۔۔ حاجت کے نفل پڑھنے تھے کہ میرے وقت میں برکت ڈال دے اور میں وہ سارے کام نپٹا سکوں جو میری زمہ داری تھی ۔۔ ار وہ یہ کہ کچھ فیصلے کرنے تھے تاکہ میرے بعد کسی کو تکلیف نہ ہو ۔۔ بس اس سے راز ونیاز کرنے تھے کہ میرے بعد میرے پیاروں کاخیال رکھنا ۔۔ میں جنتی ہوں میرا خدا مجھ سے کتناپیارکرتا ہے ۔۔ وہ مجھے آخری سٹیج کاکینسر بھی تو دے سکتا تھا ۔۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میرے رزلٹ کیسے ہونگے ۔۔ ڈاکٹر مائیکل برلنگ کیا کہیں گے۔ لیکن میں اتنا جانتی تھی اس نے مجھے خیر کے دکھ دیئے ہیں ۔۔۔ یہاں رہنے میں بھی بھلائی ہے اور چلے جانے میں بھی بھلائی ہی بھلائی تھی۔
مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تم پر جب کوئی مصیبت آئے اور وہ مصیبت تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے تو سمجھو آزمائش ہے اگر مصیبت تمہیں اللہ سے دور کر دے تو سمجھو سزا ہے۔۔۔ میرے مالک مجھے اپنے سے دور نہ کرنا ۔۔ میرا رواں رواں مجسم دعا بن گیا ۔ ۔۔۔
رَبَّ انِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ
میری طرح کئی احباب ایسے ہونگے اللہ پاک نے جنہیں فکری اور روحانی دوست عطا کئے ہونگے جن کے بارے میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے کیا خوبصورت جملہ عطا کیا تھا “ ممکن ہے تمہارے بہن بھائیوں میں کچھ ایسے بھی ہوں جنہیں تمہاری ماں نے پیدا نہ کیا ہو “ ۔۔۔ میں انہیں بتانا چاہتی تھی کہ دعاؤں اور دلجوئی کا قرض نہیں اتار سکتی ۔ بس جھولیاں بھر بھر کر دعایئں دے سکتی ہوں ۔ وہی دعایئں جو آپ سب میرے لئے کیا کرتے ہیں۔
رَبَّ انِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














Heart touching my dear 💗
کیا خوبصورت تحریر , ایک دلکش پیغام ۔ تم ہمیشہ جیو گی نسیم