میجر طفیل محمد شہید22جولائی1914 ہوشیار پور میں پیداہوئے

0
2833

افواج میں شہادت کا ایک ایسا جذبہ موجود ہے جس نے بڑی بڑی داستانیں رقم کی ہیں۔

میجر طفیل محمد شہید کا شمار بھی قوم کے ان جاں باز سپوتوں میں ہوتا ہے جہنوں نے وطن کی آن، شان اور حفاظت کیلئے جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔ اس بہادر سپوت کی 59 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑاعسکری اعزاز ”نشان حیدر“ حاصل کرنے والے میجر طفیل محمد شہید 22 جولائی 1914 کو پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔

طفیل محمد شہید نے 1943 میں انڈین ملٹری اکیڈمی میں باقاعدہ کمیشن حاصل کیا۔ میجر محمد طفیل شہید جہاں ایک ذمے دار اور کامیاب آفیسر تھے وہیں وہ ایک بے مثال، ذہین اور تجربہ کار انسٹرکٹر بھی تھے۔ شہید میجر طفیل محمد شہید کے نئے اور مفید طریقے آج بھی میجر طفیل محمد شہید کے نام کی نسبت سے مشہور ہیں۔

1958 کی ایک اداس صبح تھی جب میجر طفیل محمد شہید کو ایسٹ پاکستان رائفلز میں بھیج دیا گیا۔ایسٹ پاکستان رائفلز کا ہیڈ کوارٹر اکھوڑہ ضلع کومیلا میں تھا۔

طفیل شہید کو مشرقی پاکستان میں  ونگ کمانڈر کا عہدہ دے کر بھیجا گیا۔ جہاں  معرکہ لکشمی پور پیش آیا جس میں میجر طفیل محمد شہید نے بحیثیت کمانڈر اپنے جوانوں کی قیادت کی اور گھمسان کی جنگ کے بعد 7 اگست کو  اپنا تن من دھن پاکستان پر قربان کر دیا اور دشہادت کا درجہ حاصل کیا۔

شہید میجر طفیل کی لازوال قربانی  پر حکومت پاکستان نے ان کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز” نشان حیدر “  سے نوازا۔ میجر طفیل محمد شہید کے یوم شہادت کے سلسلہ میں عارف والا اور طفیل آباد سمیت ملک بھرمیں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے، جب کہ کینٹ کے علاقوں میں شہید کیلئے قرآن خوانی بھی کی جائیں گی

SHARE

LEAVE A REPLY