چیف جسٹس نے جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر کا پیمرا سے ریکارڈ طلب کر لیا

0
744

چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے تقریر کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، دوسری جانب پاک فوج نے چیف جسٹس پاکستان سے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے ریاستی اداروں پر الزامات کے خلاف نوٹس لینے کی درخواست کر دی۔

سپریم کورٹ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی تقریرکا سخت نوٹس لیا ہے اور پیمرا سے جسٹس شوکت عزیز کی تقریر سے متعلق ریکارڈ فوری طلب کیا ہے۔

دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے معززجج نے ریاستی اداروں پرانتہائی سنگین الزام لگائے، ان ریاستی اداروں میں عدلیہ اورخفیہ ایجنسی بھی شامل ہے، چیف جسٹس سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ لگائے گئے الزامات سے متعلق مناسب کارروائی کرے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا جس پر بہت افسوس ہوا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بطور عدلیہ سربراہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم پر کسی کا دباؤ نہیں، ہم پوری طرح آزاد اور خود مختار کام کر رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں، عدالتی معاملات کو مینو پلیٹ کیا جاتا ہے اور مرضی کے بنچ بنوائے جاتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY