این اے 73میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کو الیکشن 2018ء میں کامیاب قرار دے دیا گیا تھا تا ہم اب پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار نے این اے 73کے نتائج کو چیلنجکر دیا ہے اور این اے 73میں دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے۔اس حوالے سے عثمان ڈار ضلع کچہری میں بھی پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روز حلقہ این اے 73میں ڈرامائی موڑ آ گیا تھا ۔پہلے غیر حتمی غیر سرکار نتائج کے مطابق پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کو خواجہ آصف کے مقابلے میں برتری حاصل تھی۔اور عثمان ڈار حلقہ این اے 73 سے 113453 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے جب کہ جب کہ ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف 112717 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔

تاہم اس کے بعد خواجہ آصف نے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے کہا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا جس کے بعد ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف جیت گئے اور پی ٹی آئی کے امیدوار عثمان ڈار ہار گئے۔

نئے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق خواجہ آصف نے 115067 ووٹ لیے جب کہ عثمان ڈار 113774 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جب کہ اس سے پہلے عثمان ڈار کو خواجہ آصف کے مقابلے میں 700ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔لیکن خواجہ آصف کی درخواست پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی گئی جس میں خواجہ آصف کے ووٹ زیادہ بن گئے،تاہم اب ایک بار این اے 73 میں دوبارہ ڈرامائی موڑ آ گیا ہے اور اب کی بار تحریک انصاف نے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے ووٹوں کی دوباری گنتی کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ 25جولائی کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مہنگا ترین الیکشن انعقاد پذیر ہوا۔۔۔۔۔۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق عامانتخابات میں 840قومی وصوبائی حلقوں پر 11 ہزار 673 امیدوار حصہ لے رہے تھے،،قومی اسمبلی کے 270حلقوں پر 3 ہزار 428 امیدوار میدان میں اترے تھے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 570نشستوں پر 8 ہزار 245 امیدواروں میں مقابلہ ہو ا۔

SHARE

LEAVE A REPLY