’’حیرت سے شعور تک کا سفر‘‘ جی ۔حسین غازی

1
141

جدید سائنسز میں ماہرین رکازیات ، ما ہرین العلم اللسان ، ماہرین علم الاارتقاء ، ماہرین عمرانیات، ماہرین طبقات الارض کے مطابق انسان کا ظہور اس کرۂ ارض پر لگ بھگ 60 لاکھ سال پہلے ہوا۔ اس میں بھی آج کے انسان کو اپنی موجودہ حالت میں پہنچنے سے پہلے اپنے ہی آباء کی جسمانی اور ذہنی طور پر پسماندہ پیڑھیوں کی قربانی دینا پڑی اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا بدن، دماغ کا مائل بہ ترقی ، یہ سفر آج بھی جاری و ساری ہے۔ مثلا جدید ادویات خوراکوں کے تال میل اور صحت و صفائی کی وجہ سے ہی پچھلے 60 ستر سال میں اس کرۂ ارض پر انسانوں کی شکل و شباہت اور طبعی عمروں میں نسبتا نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر ارتقاء کا نا قابل تردید اصول انسانی شخصیت کے ایک مجرد پہلو۔۔۔ یعنی سوچ ۔۔۔ کے ارتقاء پر بھی لاگو کیا جائے تو ہمیں سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑے گا۔
یہاں تھوڑا توقف کرتے ہوئے آپ ذہین قارئین کیلئے یہ بات طے کرنا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ سوچ کا مرکز و منبع دماغ کو مانا گیا ہے۔ دل، گردے جیسے اعضائے رئیس اگراس جسم کو صحت مند و توانا رکھنے کیلئے اپنے اپنے کیمیائی میکانکی اور اور برقی مقناطیسی افعال سرانجام دے رہے ہوتے ہیں تو سب سے اوپر پڑ ا عضوِرئیس، دماغ بھی سوچ کا وظیفہ سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ شعور، لاشعور، تحت الاشعور سبھی کے سبھی ایک ہی مجرد وظیفہ یعنی سوچ کو پیدا کرنے اور اُس کو ضرورت کے تحت کانٹ چھانٹ اور ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہوتے ہیں۔ مثلا ہر صورت حالات میں دماغ سوچ کی پیدائش کا عمل جاری رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بات کو منہ سے ادا کرناہے یا نہیں کرنا۔ موخر کرناہے،بھلا ہی دینا ہے یا لگا تار کسی بات یا سوچ کی تکرار کرنی ہے۔۔۔یہ سب شعور اور اُس کے نائبین کے ذمہ ہوتاہے۔
آج تک کی معلوم و مرتب تاریخ کے مطابق ہمیں ہرگز علم نہیں ہوتا کہ ہمارے آباء درختوں بعد ازاں کھوہوں میں لفظ سوچ یا شعور استعمال کرتے ہونگے؟ آپ سب اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ نہیں! کیونکہ علمِ لسانیات کے مطابق ہمیں اس بابت چونکہ کوئی ثبوت میسر نہیں اس لئے اصول امکانی Law of Probability کے تحت ہو سکتا ہے کہ وہ اسی اسمِ مجرد کے لئے کوئی الفاظ بولتے ہوں یا نہ بولتے ہوں!!! اچھا! ہمیں ابتداً اس بابت اشارے یونانی حکماء و داناؤں کی کتب میں ملتے ہیں۔
اب مطبہ عہ تاریخ اور ثبوتوں کی عدم موجودگی میں ہم چشمِ تصور میں دیکھ سکتے ہیں ہمارے ابتدائی آباء اپنے اردگرد مظاہرِ فطرت کیلئے صرف اور صرف خوف اور حیرت میں مبتلا رہے ہونگے۔ رابطہ کیلئے کوئی زبان نہ تھی تو لامحالہ باہمی تبادلہ خیالات بھی ناممکن رہا ہوگا۔ ایسی صورت میں لفط شعور، لاشعور یا تحت الاشعورکیابلا ہونگے۔۔۔ یہ اُن کا مسلہء ہی نا تھا۔ ہم آج ،ایسا شوچ سکتے ہیں کہ ایسی صورت حالات دس ہزارسال قبل تک رہی ہوں گی۔۔۔ کیونکہ ہمیں پچھلے دس ہزار برسوں سے انسانوں کے آپس میں بول کر مافی الضمیر بیان کرنے کے ثبوت ملتے ہیں۔ انسان کی ترقی کا براہ راست تعلق اُسکے ماحول سے ہے۔ اور ماحول کو شعور کے ذریعے سمجھ کر اُس ماحول کو بدل کر رکھ دینے میں ہے۔
ہمیں آج سے 2600 سال قبل خطہِ یونان میں سب سے شدتِ عروج پر پہنچی ہوئی شعوری کاوشیں روح، غایتِ زندگی اور طبعی اصولوں پر کائنات کی تکوین یعنی پیدائش پر ملتی ہیں۔ مادی ماحول کو اپنی ضرورت کے مطابق جدت دیناشروع ہو چکا تھا البتہ روحانی معاملات میں دو واضع مکتبہ ہائے فکر بھی پیدا ہوئے ایک مثال پسند اور دوسرے عقلیت پسند کہلوائے۔ دونوں کا اپنے پنے حق میں استدلال منطقی بنیادوں پر تھا نہ کہ الہامی ۔پارمینائدس ، ہیر اقلیطس اور دیماقریطیس جیسے اصل دانش کے توسط سے بعدازاں سائنسی روپ اختیار کرتی چلی گئی جبکہ مثال پسندی افلاطون اور ارسطوکے نظریہ امثال میں عروج کو جا پہنچی۔ اب ہم غور کریں تو معلوم ہوگا عقل اور شعور کا بھرپور استعمال کیا جا رہا تھا۔ دلائل کو زبان اور تحریر کی شکلیں عطاہو چکی تھیں۔
ہمیں افلاطون اور ارسطو اور اُس کے ہم عصر یونانی حکماء میں لفظ عقل اور شعور اپنے پور ے معنی میں مستعمل نظر آتاہے۔ اس دور سے ہی عقل اور شعور کی بنیاد انسانی حسیات کو مانا گیا جو کہ آج تک درست ہے۔ دماغ اپنے وظیفہ سوچ کیلئے جسمانی حسیات کا مکمل طور پر مرہون منت ہے۔ ایک حس کے غیر فعال ہونے پر دماغ اپنے کلی نتائج اخذ کرنے کیلئے اپاہج ہوجاتا ہے اور اگر کسی بناء پر تمام حواسِ خمسہ اپنے اپنے افعال میں Shut down ہو جائیں جبکہ دل چل رہا ہو اور پھیپھڑے عمل تنفس میں مصروف ہوں۔۔۔ اب ایسے انسان کے دماغ کے وظیفہ سوچ پر تدبر فرمائیے؟۔ اُس کی شعوری حالت پر غور کیجئے۔( یہاں آپ عظیم سٹیفن ہاکنگ کو تصور میں لائیے گا! اُن کی آنکھیں اورکان کام کرتے تھے!) حسیات کے ذریعے غور،فکر،تدبر،تجربہ،علم و دانش کا پھلناپھولنااور منطقی انداز فکر کی دعوت اہل یونان کے زوال کے بعد تمام جید مذہبی الہامی کتب کے ذریعے انسانی سوچ اور شعور کی آبیاری کرتی رہی جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں دسویں ، گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں خالص سائنسی شعور کا اظہار نظر آنا شروع ہوا۔ سقوط بغداد کے بعد ملت اسلامیہ میں علم و ادب و دانش نے اپنی سمتوں کا رخ تبدیل کرلیا، جبکہ پندرہویں سولہویں صدی عیسویں کے بعد علم و ادب یورپ میں نشاتہ الثانیہ کے تحت پادریانہ و راہبانہ خانقاہوں اور کلیسوں کی بجائے سائنسی لیبارٹریوں میں پھلنے پھولنے لگا ۔چھاپہ خانہ کی ایجادنے علم و عقل کی ترویج کیلئے اُس سمندر کے بند کھول دئیے جسے پھر زوال نہ آیا اور نہ اب کبھی آئے گا۔
اٹھارہویں صدی میں ہیوم سے لیکر انیسویں صدی میں کارل مارکس تک انسانی علوم کے ماخذات پر تشکیک ،تجربیت اور عقل استدلال پر شعور کی آبیاری ہوتی رہی۔ ہیوم کا منطقی استدلال ہمیں انیسویں صدی کے ایک فرانسیسی مفکر آگسٹ کومٹے میں بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ آگسٹ کومٹے کا نظریہ یہ ہے
’’ذہنِ انسانی تین ارتقائی مراحل سے گزراہے۔ پہلا مرحلہ مذہب کا جس میں واقعات کی توجہیہ کسی یزدانی قوت کے حوالے سے کی جاتی تھی۔ دوسرا مرحلہ مابعدالطبیات کا تھا جس میں واقعات کی توجہیہ مختلف قوتوں کی نسبت سے کی گئی۔ تیسرا اور آخری مرحلہ سائنسی یا ایجابیت Positivism کاہے کہ اب واقعات کی تشریح و توجیہہ سلسلہِ سبب ومسبب سے کی جاتی ہے۔ یہ ہی انسانی عقل و خرد کی معراج ہے۔‘‘
ہم آگسٹ کومٹے کے بعض افکار پر آج گرفت کر سکتے ہیں لیکن اس وقت وہ ہمارا علاقہ نہیں۔ انتہائی اختصار میں رہتے ہوئے آپ پر یہ واضع کر نا مقصود تھا کہ انسانی دماغ میں شوچ کے وظیفہ کے نتیجے میں جو شعور مظاہرے فطرت سے ناواقفیت کی بناء پر،ماسوائے ان آخری تین ہزار سال سے ،لگ بھگ ساٹھ لاکھ سال جس حیرت خوف میں مبتلا رہا وہ اب اپنی شعوری صلاحیت اور اُسکے نتیجے میں ماحول کیو سمجھ لینے اور بدل دینے کی فعالیت کے جس عروج پر پہنچا میرے نزدیک انسان کے لاکھوں برسوں کے سفر میں فقید المشال ترقی ہے۔
اب ہمیں بے حدتوجہ اور سنجیدگی سے واپس لاکھوں سال پیچھے جانا ہے اور چند مثالوں سے نفس مضمون کو سمجھنا ہے۔ کرہ ارض پر کسی بھی خطہ میں انسان کے لئے یہ دنیا اتنی ہی تھی جس میں وہ چل پھر سکتا تھا ۔۔۔ لا محالہ اُس کا وظیفہ سوچ اور شعوری اثاثہ محض چند افعال کے سوا کچھ اور نہ رہا ہو گا۔ اُسے خوف و حیرت کے سوا کچھ حاصل تجربہ نہ تھا۔ پھر ہمیں اس کی قوت مشاہدہ اور مختلف افعال کو سر انجام دینے کی صلاحیت اور شعوری تجربہ میں پیچیدگی تب سے معلوم پڑنی شروع ہوتی ہے۔ جب سے اس کا تصویروں، لکھائی اور پڑھائی کے ریکارڈ ملنے شروع ہوتے ہیں۔۔۔ اور آج یہ شعورموجودہ حد تک طاقتور ہوچکا ہے اور اس کی طاقت میں روز افزوں اضافہ ہوتا چلا جا رہاہے۔
ابتدائی انسان کے زمین کو ہموار سمجھنے سے لے کر زمین کو گول سمجھنے تک ۔۔۔ فلکیات میں زمین کو محورِ کائنات سمجھنے سے لے کر آج جدید دور بینوں کی مدد سے کائنات کی حدوں کو تلاش کرنے تک ۔۔۔ اُدھر ایٹم کو مادے کی بنیادی اکائی سمجھنے سے لے کر ایٹم کے اندر ایک مکمل جہان کی دریافت کے بعد ہمارا تجربہ کار شعور دوبارہ سے حیرت و خوف کی دہلیز پر کھڑا ہے!!! یہ کائنات ہمیں پیدا کرتی ہے۔۔۔ یا انفرادی ۔۔۔ اور پھر جدید دور میں اجتماعی شعور تو نہیں ۔۔۔ جو کائنات کی وسعتوں کا سبب بن رہاہے؟ یہ الگ سے بے حد دلچسپ فلفسفیانہ بحث ہے !!! آج جب میں کسی ذہین ترین انسان جیسے کی ڈاکٹر مچیو کا کو یا سٹیفن ہاکنگ یا دیگر شعبوں میں چوٹی کے انسانوں کو کسی موضع پر محو گفتگو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ مجسم دماغ ایک برق رفتار وظیفہ سوچ میں شعور کی بلندترین اشکال نظر آتے ہیں۔ ہمیں سرمایہ کار ملٹی نیشنل بزنس کارپوریشنوں کے بچھائے استحصالی webs کی شناخت کرکے ایسا بندوبست کرنا ہے جہاں سے ہم سارے کے سارے سات ارب سے زائد انسان کائنات بلکہ کثیر الکائناتی ویب کی اپنے شعور میں پیدائش اور سمجھ کا بندوبست کر سکیں۔ معزز قاریئن ! یاد رہے شعور اسم مجرد ہوتے ہوئے بھی مادی ہے۔ اور اپنے مادی ماحول کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اور اجتماعی شعور فضاء میں ارتعاش پیدا کرتا ہے ۔ جب 9/11 ہوا یا جب جب بھی سونامی آیا یا مختلف ممالک میں جب بڑے بڑے حادثات ہوئے توزمین کے فضائی ماحول میں باقاعدہ (بظاہر غیر محسوس )ارتعاش نوٹ کیا گیا۔ ہمیں یونیورسل لیول پر کہکشاؤں کی مربوط ویب کے مقابلے میں اس کرہ ارض پر اجتماعی شعور کی ایک ویب ڈیزائن کرنا ہو گی جس کے ذریعے ہم کائنات کے حیرت کدہ کو مطیع ا ور نفع بخش بنا سکیں۔۔۔ بلکل ایسے ہی جیسے انسان نے پیڑھی در پیڑھی اپنے حیرت اور خوف کو آج کے بلند شعور میں تبدیل کرکے اس کرہ ارض پر مادی ماحول کو اپنے لیے مطیع کیا اور نفع بخش بنایا۔
ہمارے اعلیٰ شعوروں کو ادراک ہو چلا ہے کہ اس لامتناہی سلسلہ ہائے کائناتوں میں ایسے لاتعداد سیاروں کو ڈھونڈنا ہمارا مقدس ترین فریضہ بن جانا چاہیے کیونکہ ربِ کائنات نے سورہ ابراہیم آیت نمبر ۳۴ میں جن بے شمار نعمتوں کا ذکر کیا ہے ( وہ نعمتیں اس سیارے پر ہم ختم کرنے کے قریب پہنچے ہوے ہیں) وہ نعمتیں لا محالہ ہمیں دوسرے سیاروں پر تلاش کرنا ان سے بقائے انسانی کے لیے مستفید ہونا ہمارا عین مذہبی فریضہ قرار پاتا ہے ۔۔۔ ورنہ اس ننھے منے چٹانی گولے پر ایک روز اپنے مذہبی، نسلی اور مالی تفاخرات کے ساتھ ساتھ تصور سے بھی پرے ہر طرح کے ہتھیاروں کے ذخائر اور کارپوریٹ ورلڈ کی نہ بھجنے والی حرص کے آگے اس کائنات کو سمجھنے والا ترقی یافتہ شعور اس لامتناہی کائنات کے غبار میں یوں معدوم ہو جائے گے جیسے کبھی ہمارا وجود تھا ہی نہیں۔۔۔ تب شاہد ہمارے بے پرواہ خالق کو تاسف ہو کہ اس نے ہمیں اپنا نائب ہونے کا خطاب کیونکر دے دیا تھا۔
وماعلینااللبلاغ المبین!

SHARE

1 COMMENT

  1. جناب ایڈیٹر!
    میرا یہ مضمون چھاپنے کا بے حد شکریہ
    رب العزت آپ کے اخبار کو تابندہ رکھے

LEAVE A REPLY