پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کے قتل کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق نقیب اللہ نامی جس شخص پر مقدمات درج ہیں وہ راؤ انوار کے پولیس مقابلے میں مارےجانے والا نقیب اللہ نہیں ہے۔

ذرائع تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزم کا بھائی اور والد بھی مقابلے میں مارے جاچکے ہیں، جبکہ وہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتا رہا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق راؤ انوار کے پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ پر کوئی مقدمہ درج نہیں۔ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ اب تک درج نہیں ہوسکا ہے۔

اس معاملے میں تحقیقاتی کمیٹی مقدمہ درج کرانے کے لیے نقیب اللہ کے اہل خانہ کی منتظر ہے جو نقیب اللہ کی تدفین کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

ذرائع تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر نقیب اللہ کے اہل خانہ نے مقدمہ درج نہ کروایا تو پھر مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی معطلی کی سفارش بھی کی گئی ہے جبکہ ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY