قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے افسران کی استعدادِ کار میں اضافے اور تمام زیرِ تفتیش مقدمات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کر دی۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے آج دوسرے روز بھی لاہور آفس کا دورہ کیا جہاں انھیں ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے زیرِ تفتیش مقدمات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے چیئرمین نیب کو فیروز پور سٹی انتظامیہ کے خلاف دھوکا دہی، خواجہ سعد رفیق کیخلاف 55 ریلوے انجن کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی، ریلوے زمین کو غیر قانونی طور پر پٹے پر دینے، صدیق الفاروق کے خلاف سرکاری زمین کو غیر قانونی پٹے پر دینے، ایم این اے ریاض الحق کے خلاف ترقیاتی کاموں میں بدعنوانی، سابق سی سی پی او لاہور امین وینس اور ڈی آئی جی حیدر اشرف کے خلاف تحقیقات اور ایم این اے اظہر قیوم ناہرا کو 10 اگست کو طلب کرنے سے متعلق بتایا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ہدایت کی کہ تمام افسران زیرِ تفتیش کیسز کو 10 ماہ کے دورانیہ میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں، جس میں ملزمان کی فوری طلبی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے عام آدمی کی شکایت کے باقاعدہ ازالہ کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے جانے کے احکامات صادر فرماتے ہوئے کہا کہ نیب میں جمع کرائی گئی ہر شکایت پر نہ صرف باقاعدہ کارروائی کی جائے بلکہ متاثرین کو ٹیلی فون کے ذریعے آگاہ بھی کیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY