پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نگراں حکومت کی جانب سے ان کی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سیکیورٹی واپس لیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے مجرمانہ فعل قرار دے دیا۔

جاری بیان میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے نگراں حکومت سے سوال کیا کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ کس نے یوسف رضا گیلانی کی سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا اور کیا نگراں حکومت نہیں جانتی کہ سابق وزیراعظم کا خاندان ماضی میں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کی کہ ان کی پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے بیٹوں، جن میں علی حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر شامل ہیں، کو ماضی میں مجرمانہ غفلت کے باعث اغوا کرلیا گیا تھا، سیکیورٹی واپس لینے کا مطلب ہے کہ حکومت ان کی اور ان کے خاندان کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ دار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کس اجلاس میں کس عہدیدار نے سیاسی رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا یا یہ فیصلہ آنے والے حکمرانوں کی ایما پر کیا گیا ہے؟ جو دہشت گردوں کو اپنا بھائی قراردیتے ہیں اور ماضی میں حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے انہیں دے چکے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہارون بلور، سراج رئیسانی اور ان کے درجنوں ساتھیوں کی ہلاکت کے باوجود حکومت کی تشویش میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ معاملات اس کے مخالف رخ پر جاتے نظر آرہے ہیں۔

پی پی پی کے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ یوسف رضا گیلانی سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY