وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا اور مذاکرات دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت جاری ہے، گزشتہ 2 ماہ میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے 6 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہوئے، کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے اور ہندوستان کی اسی بربریت کی وجہ سے حریت پسند کمانڈر برہان وانی نئی تحریک آزادی کی علامت بن گیا ہے اور سری نگر سے سوپور تک کرفیو کے باوجود آزادی کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں ظلم و بربریت کا سلسلہ فوری بند کیا جائے،او آئی سی
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے، ہم کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کے لیے عالمی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل اپنی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کرفیو اٹھایا جائے۔‘

انہوں نے ہندوستان کو ایک مرتبہ پھر تمام متنازع ایشوز پر بامعنی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے 100 سے زائد کشمیری ہلاک اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

وادی بھر میں 73 روز سے کرفیو بھی نافذ ہے جبکہ ہندوستانی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والی پیلیٹ گنز کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔

’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا‘
دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہے، پاکستان میں دہشتگردی کو بیرونی مدد حاصل ہے، آپریشن ’ضرب عضب‘ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب ترین آپریشن ہے جبکہ داعش کو روکنے کے لیے بھی اقدامات بھی بڑھائے جارہے ہیں لیکن انصاف کی عدم موجودگی میں عالمی سطح پر امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس سے لازماً نمٹنا ہوگا اور اس کے لیے عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردی اور شدت پسندی کی اصل وجوہات کو جانچنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ کو عوام کی پوری حمایت حاصل ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کی بنیاد کو ختم کیے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔

’افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ضروری‘
افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ضروری ہے جس کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے، جبکہ افغانستان میں مذاکراتی عمل میں پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

’پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کا حقدار‘
نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کا حقدار ہے، جبکہ ہم ایٹمی تجربات روکنے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ ہتھیار کی دوڑ نہیں چاہتا لیکن ہندوستان کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر ہمیں تشویش ہے۔

یاد رہے کہ ہندوستان کی این ایس جی رکنیت میں دلچسپی کے بعد پاکستان نے بھی اپنی رکنیت کے لیے لابنگ شروع کردی تھی اور اس حوالے سے چند ماہ قبل باضاطہ طور پر درخواست بھی جمع کروائی تھی۔

اس مقصد کے لیے پاکستانی کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی سربراہی میں ایک وفد نے سیول میں این ایس جی اجلاس میں شرکت کی تھی۔

اجلاس میں پاکستان کی رکنیت کی درخواست پر غور ہی نہیں کیا گیا تھا۔

’عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی سے ایشیا میں خطرات بڑھ گئے‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان عالمی مسابقت کا ماحول قائم ہے، جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہوا ہے، عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی سے ایشیا میں بھی خطرات بڑھ گئے ہیں، ترقی کے باوجود دنیا میں غربت موجود ہے اور آج ماضی کی نسبت زیادہ غربت ہے۔

انہوں نے مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی توجہ کا منتظر ہے، جبکہ عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ چوتھا خطاب تھا۔
…………………..
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس آج ہوگا جہاں وزیر اعظم مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے عالمی دنیا کے سامنے بھارت کے کالے کرتوتوں کا پردہ چاک کرینگے

۔وزیر اعظم نواز شریف آج جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرینگے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم وزیر اعظم کی تقریر کا اہم ایجنڈہ ہوگا جس میں وہ عالمی دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ چا ک کرینگے اور اقوام متحدہ پر زور دینگے کہ مسئلہ کشمیر کو اس کی قرارداودوں کے زریعے حل کرایا جائے

۔وزیر اعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور آپریشن ضرب کی کامیابیوں کا بھی ذکرکریں گے جبکہ پاکستان میں مہاجرین کے مسئلے سے پیدا ہونے والی معاشی نا ہمواری کو بھی اپنی تقریر کا حصہ بنائیں گے اس کے علاوہ وزیر اعظم کی امریکی صدر براک اوباماسےبھی ملاقات آج طے ہے جس میں وہ دوطرفہ تعلقات سمیت کشمیر کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی
…………….
وزیر اعظم نواز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔

نواز شریف نے اہم امور پر ترکی کی مکمل حمایت کا اعیادہ کیا اور نیوکلئیر سپلائرز گروپ میں ترکی کے تعمیری کردار کو سراہا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کے بارے میں بھی بتایا۔ ترک صدر اردوان نے کہا کہ او آئی سی کا انسانی حقوق کمیشن بھارتی مظالم کاجائزہ لینے مقبوضہ کشمیر جائے گا
……………..
وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہم دنیا کو کشمیر سے متعلق کیے گئے وعدے سے بھاگنے نہیں دیں گے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنی ٹیم کے ساتھ امریکا میں عالمی فورم پرکشمیر کا مقدمہ لڑنے میں مصروف ہیں، وزیراعظم کی برطانوی ہم منصب، امریکی وزیر خارجہ، امریکی سابق صدر کلنٹن، سعودی شہزادہ محمد بن نائف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ نیویارک میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے سے ملاقات میں انہیں مقبوضہ کشمیرمیں بگڑتی صورتحال،بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ کشمیرکاز کیلئے پاکستان کامؤقف دوٹوک اورواضح ہے،پاکستان کشمیریوں کوکسی صورت تنہانہیں چھوڑے گا ، کشمیرپرسلامتی کونسل کی قراردادوں پرفوری عمل کیاجائے،جموںو کشمیرکے عوام کواپنافیصلہ خود کرنے کااختیار دیاجائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرعالمی برادری بھارتی ریاستی دہشتگردی بندکرانے میں کامیاب نہ ہوئی تو اس میں مزیداضافہ ہوگا،اس موقع پربرطانوی وزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار اور افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردارکو سراہا۔

اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی اورسابق امریکی صدربل کلنٹن کا پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنےکا وعدہ یاد دلایا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں 107 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں،جان کیری پاک بھارت دوطرفہ مسائل حل کرنے کے لیے مدد فراہم کریں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ امن و استحکام پاکستان اور افغانستان کےباہمی مفاد میں ہے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں اور پولیس کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔

وزیر اعظم کی سعودی شہزادہ محمد بن نائف سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دو طرفہ امور،علاقائی صورتحال سمیت امت مسلمہ کے اتحاد پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف اور نیوزی لینڈ کے ہم منصب جان کی ،کے درمیان بھی ملاقات ہوئی۔دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا
……………..
وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے،مقبوضہ وادی میں 107افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں، امریکا پاکستان اور بھارت کے مسائل حل کرائے۔

وزیراعظم نوازشریف نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو خط میں لکھا ہے کہ بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں خون ریزی بند کرانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے۔

وزیراعظم نواز شریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی نیو یارک میں ملاقات ہوئی، وزیراعظم نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے مسائل حل کرائے ،امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے ۔

وزیراعظم نواز شریف نے جان کیری سے ملاقات میں یہ بھی کہا کہ سابق امریکی صدر کلنٹن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کے حل میں کردارکاوعدہ کیا تھا، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور بے گناہ کشمیری عوام پر بہیمانہ ظلم و تشدد کیا جارہا ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں 107 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں، پاک امریکا پارٹنرشپ خطے کے امن و سلامتی کے لیے بہت اہم ہے، جان کیری پاک بھارت دوطرفہ مسائل حل کرنے کے لیے مدد فراہم کریں۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ امن و استحکام پاکستان اور افغانستان کےباہمی مفاد میں ہے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں اور پولیس کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

وزیرِ خارجہ جان کیری سے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاک امریکا پارٹنرشپ خطے کے امن و سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔

جان کیری نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں اور پولیس کی کوششیں قابل تحسین ہیں،پاکستان کی معاشی ترقی قابل تعریف ہے۔

نیویارک میں مہاجرین کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مہاجرین کے حوالے سے اجلاس کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان4دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے،ہم افغان مہاجرین کی باوقار واپسی کے حامی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے لیے نیویارک اعلامیہ اہم قدم ہوگا، افغان مہاجرین کے حوالے سے ایسی منصفانہ حکمت عملی ہونی چاہیے کہ مہاجرین نفرت کا شکار نہ ہوں۔

ادھر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کوظلم وجبرکانشانہ بنایا جارہا ہے، برطانوی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر کے عوام پرظلم وستم بندکرانے میں کردار ادا کریں۔ نیویارک میں ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے مقبوضہ کشمیرمیں بگڑتی صورتحال سےبرطانوی وزیراعظم تھریسامے کوآگاہ کیا،مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی بھرپورطریقے سےجاری ہے ،مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اوربھارتی جارحیت فوری بند ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کشمیریوں کوکسی صورت تنہانہیں چھوڑیں گے،کشمیرکاز کیلئےپاکستان کامؤقف دوٹوک اورواضح ہے ،کشمیرپرسلامتی کونسل کی قراردادوں پرفوری عمل کیاجائے،جموں کشمیرکے عوام کواپنافیصلہ خود کرنے کااختیار دیاجائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرعالمی برادری بھارتی ریاستی دہشت گردی بندکرانے میں کامیاب نہ ہوئی تو بھارتی ریاستی دہشت گردی میں مزیداضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار اور افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔برطانوی وزیراعظم نے معاشی استحکام کےلیے حکومتی کوششوں کو بھی سراہا

SHARE

LEAVE A REPLY