طارق بٹ۔سونامی آ نے سے پہلے

0
48

کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کے تقریبا پینتالیس فیصد سے زائد ہے یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے ٹائیگرز کہتے ہیں اگر تمام تر جھرلو کے الزامات کو ایک طرف رکھ کر آگے بڑھا جائے تو یہی وہ نوجوان ہیں جنہوں نے خود اور اپنے بزرگوں کو قائل کر کے عمران خان اور تحریک انصاف کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ یہی وہ نوجوان ہیں جن پر پاکستان کے مستقبل کا دارو مدار ہے ۔عمران خان گو کہ اب نوجوانی کی عمر سے کافی آگے نکل چکے مگر ان کی طلسماتی شخصیت نے ان نوجوانوں کو اپنے سحر میں لے رکھا ہے۔ اپنے قائد کے ہر خطاب میں اپنے لئے خوشنما وعدے اور روشن مستقبل کی امید ان نوجوانوں کے چہروں پر چمکتی دور سے دکھائی دیتی ہے ۔ امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کہ اسی کے سہارے آگے بڑھا جا سکتا ہے اس لحاظ سے یہ ہے تو اچھی بات مگر نوجوانوں کی توقعات اور امیدوں کے پیچھے چھپے سونامی پر بھی نظر رکھنا از حد ضروری ہے ۔

عمران خان نے 2011 کے بعد جو سہانے سپنے ان نوجوانوں کو دکھائے انہوں نے کثیر تعداد میں نوجوانوں کو اس کا گرویدہ کر دیا ۔ اب جب قافلہ اپنی منزل کو پہنچا ہی چاہتا ہے تو یہ نوجوان بھی اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کو بےتاب دکھائی دیتے ہیں ۔ سب سے پہلے تو انہیں مساوی نظام تعلیم کا خواب پورا ہوتا دکھائی دے رہا جس کی بدولت یہ اپنے آپ کو نام نہاد اشرافیہ کی اولاد کے مقابل پاتے ہیں کہ صلاحیتوں کی ان میں قطعا کوئی کمی نہیں بس مواقع نہ مل پائے ۔ ان نوجوانوں کے پاس آپ کو بیٹھنے کا اتفاق ہو تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ توقعات لگائے بیٹھے ہیں کہ اب پاکستان کی ہر تحصیل اور ضلع میں ایک ایک معیاری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں انہیں سستی اور عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جائے گی جس سے بہرہ مند ہو کر وہ ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کر سکیں گے ۔ ان میں سے ہر نوجوان پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے اس جھوٹ پر یقین کیئے بیٹھا ہے کہ انہوں نے اپنے گذشتہ پانچ سالہ دور کے دوران خیبر پختون خوا میں بیس کے قریب یونیورسٹیاں بنائی ہیں حالانکہ اس میں ذرا بھر بھی حقیقت نہیں ہے یہ نوجوان اپنے قائد عمران خان کی اس بات کو بالکل سچ پر مبنی سمجھتے ہیں کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے صرف ایک سال کے دوران میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں منتقل ہو چکے ہیں جبکہ آزاد ذرائع اور با خبر صحافی اس دعوے کی سختی کے ساتھ تردید کرتے ہیں اور چیلنج کرتے ہیں کہ ان ڈیڑھ لاکھ بچوں میں سے صرف ایک ہزار کے نام ہی سامنے لے آئیں جو کہ آج تک تو سامنے نہیں لائے جا سکے۔

عمران خان کو حکومت سنبھالنے کے بعد جہاں ملک کی معاشی صورت حال کے ساتھ ساتھ خارجہ اور داخلہ معاملات کے چیلنجز درپیش ہوں گے وہاں ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اپنے ان ٹائیگرز کو مطمئن کرنا بھی ہو گا جو اپنے قائد کے دعووں کے پیش نظر ابھی سے اپنے گھر کے گودام میں پڑے بکسوں کی نچلی تہہ سے اپنی اپنی ڈگریاں نکال کر ایک کروڑ نوکریوں کے لئے تیار بیٹھے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو اپنے بیرون ممالک ملازمت کے لئے گئے ہوئے دوستوں کو واپسی کے سگنل دے رہے ہیں کہ اب پردیس کاٹنے کی کیا ضرورت ہے جب اپنے وطن میں ملازمت کے کروڑوں مواقع ملنے والے ہیں ۔ان بے چین روحوں سے آپ ہاتھ باندھ کے التماس کیجئے کہ اللہ کے بندوں ذرا چھری تلے دم لو اپنے قائد کو دو چار سال کا موقع تو دو جواب ملتا ہے چھری تلے بھی کوئی دم لے سکتا ہے وہاں تو دم دیا جاتا ہے جہاں تک بات ہے صبر کی تو گذشتہ 70 سالوں سے پاکستان کا نوجوان صبر ہی تو کر رہا ہے اب مزید صبر کی گنجائش نہیں ہے ۔

انہی نوجوانوں میں سے اچھی خاصی تعداد کھیلوں سے والہانہ دلچسپی رکھتی ہے اور یہی دلچسپی انہیں اپنے وقت کے بڑے کھلاڑی عمران خان کے قریب لے آئی دوسری طرف خان نے بھی ان نوجوانوں سے ہر جلسہ عام میں تحصیل حتی کہ یونین کونسل کی سطح پر مختلف کھیلوں کے گراونڈ فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے نوجوان اپنے کپتان کی کامیابی کے بعد اپنے اپنے پسندیدہ کھیل کی کٹ لئے تیار بیٹھے ہیں کہ بس ادھر کپتان نے حکومت سنبھالی ادھر گراونڈ بننے شروع ہو جائیں گے اور یوں انہیں بھی اپنی من پسند کھیل کے ذریعے اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ مثال یہاں بھی خیبر پختون خوا کی دی جاتی ہے کہ وہاں یہ تبدیلی لائی جا چکی ہے جب کہ واقفان حال اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالہ دور میں جتنے گراونڈ پنجاب میں بنائے گئے خیبر پختون خوا حکومت ان کا بیس فیصد بھی بنانے میں نا کام رہی۔

گلی گلی کوچے کوچے پھیلے ان نوجوانوں کی تربیت کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ ان کے قائد محترم نے اپنے ان ٹائیگرز کو اپنا حق مانگنے کی بجائے چھیننے کا سبق پڑھایا ہے اور یہ سبق یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کو گھٹی میں دیا گیا ہو وہ فرض کی ادائیگی کو تو اہمیت دینے کو تیار نہیں لیکن حقوق کی طلب میں آپے سے باہر دکھائی دیتے ہیں ۔ جب قائد سرعام ارشاد فرما رہے ہوں کہ اے فلاں ابن فلاں ذرا مجھے اقتدار سنبھالنے دو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے پھانسی کے پھندے پر لٹکاوں گا اے فلاں ابن فلاں میں تمہیں تمہاری مونچھوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا جیل میں ڈالوں گا ۔ یاد رکھو میرے ٹائیگرز جو تمہیں تمہارا حق نہ دے اس سے چھین لو ۔ یہ ساری باتیں یاد کر کے خوف آتا ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ رب کائنات عمران خان کو وہ ہمت اور طاقت عطاء فرمائیں کہ وہ اپنے ٹائیگرز کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورے کر سکیں تاکہ نوجوانوں کی امیدوں کے سپنے ٹوٹنے نہ پائیں ورنہ وہ سونامی آئے گا کہ جس کو روکنا ناممکنات میں سے ہو گا۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY