عراق میں دہشتگردی کے 10مجرموں کو پھانسی دیدی گئی

0
708

عراقی قانون کے تحت دہشت گردی اور قتل کے جرائم کی سزا موت ہے اور پھانسی کے حکمنامے پر صدر کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔

صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 10 عراقیوں کو “دہشت گردی کے جرائم کے ارتکاب اور داعش کا رکن ہونے کے جرم میں جنوبی شہر ناصریہ کی الحوت جیل میں پھانسی دی گئی ۔ “

ایک سیکورٹی کے ذریعے نے پھانسیوں کی تصدیق کی ہے۔

محکمہ صحت کے اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں انسداد دہشت گردی کے قانون کے آرٹیکل چار کے تحت پھانسی دی گئی تھی اور محکمہ صحت نے ان کی لاشیں وصول کر لی تھیں۔
ذرائع نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

الحوت ناصریہ شہر کی ایک بدنام زمانہ جیل ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ وہاں پر قید افراد کبھی زندہ باہر نہیں نکلتے۔

سزائے موت کے مقدمات پرحقوق گروپوں کی تنقید

عراق کو ان مقدما ت کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے،جن میں “دہشت گردی” کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے، قطع نظر اس کے کہ مدعا علیہ کوئی سرگرم جنگجو رہا ہو۔

SHARE

LEAVE A REPLY