عمران خان اور قوم کی بڑھی ہوئی امیدیں؟ شمس جیلانی

0
130

عمران خان ا لحمد للہ اپنے مقابل شہباز شریف کو17 اگست کو شکست دیکر وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں اورجس وقت یہ مضمون آپ تک پہونچے گا انشاء اللہ وہ اپنے عہدے کاحلف بھی اٹھاچکے ہونگے کیونکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ ان کی راہ میں حائل کی جانے والی تمام مشکلات کو آسان کر چکاہے ؟ ان کی تفصیلات میں جانا بیکار ہے ؟ لیکن میرے خیال اب ان کے سامنے مشکلات بہت زیادہ ہیں جو جانے والی حکومت سے وراثت میں ملی ہیں؟ دوسری طرف عوام نے ان سے بہت زیادہ امیدیں وابسطہ کر رکھی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عرصہ کے بعد ملک کو ایک مقبول ترین وزیر اعظم ملا ہے۔اور سابقہ تجربہ کی بنا پرا ن کے بارے میں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا کہ وہ جو کہتے ہیں حتیٰ لامکان پورا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے بہت سے حکمراں جو ہو گزرےہیں، “جوکہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے“ اس کی وجہ سے عوام عمران خان سے اتنی ا میدیں واسطہ کیئے ہوئے ہیں کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ جو لوگ ان کے ساتھ منتخب ہوکر آئے ہیں وہ بھی اتنے ہی تربیت یافتہ ہونگے کہ باکل اسی طرح نظر آئیں گے جس طرح کہ مدینہ منورہ کے مہاجر اور انصار ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے پڑھنے لکھنے کا کام چھورڑدیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں اتنے محتاط ہیں کہ زمینی حقائق پر بھی نظر ڈالنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے؟ یہ بھی انہیں ادارک نہیں ہے کہ ہم صدیوں سے ایک بگڑے ہوئے معاشرے میں رہ رہے ہیں جو روز بروز رو بہ زووال تو ہے مگر اپنے اجداد کی طرح رو بہ کمال نہیں ہے اور ویسا بننے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔
جبکہ گزشتہ دور میں کئی صدیوں سے حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایک درمیانی طبقہ بنا یا گیا تھا جوکہ بدستور چل رہاہے جس کے ذریعہ وہ راج کیا کرتے تھے۔ اور انکے علاوہ اس طبقہ کو بھی سات خون معاف تھے۔ وہ تھے راجہ مہاراجہ نواب ، جا گیر دار ،زمیندار وغیرہ وغیرہ اور نوکر شاہی ۔
ہمیں اکہتر سال پہلے آزادی تو مل گئی، ا ور برائے نام جمہوریت بھی ہمارے ہاں آگئی، مگر اس نظام سے جان اس لیے نہیں چھٹ سکی کہ وہی نظام ابھی تک پاکستان میں جمہوریت کی بھی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ اس پہ ظلم یہ ہوا کہ ا فتادِ زمانہ سے آزاد میڈیا بھی چپکہ سے تمام دنیا میں کیاآیا کہ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود مسلمان ملکوں میں بھی آگیا اور اس کی برکت یہ ہے کہ وہ سب کو آئینہ دکھا تا رہتا ہے کہ رہنما ؤں نے کل کیا کہا تھا اور آج کیا کہہ رہے ہیں؟ اور وہ جمہوریت کی بات کرتا ہے تو یورپ کی مثال پیش کرتا ہے جہاں عوام کی بات چلتی ہے؟وہی میڈیا جب اسلام کی بات کرتا ہے تو حضور (ص) اور خلفائے راشدینؓ کی مثالیں پیش کرتا ہے جہاں ہر بندہ بے مثال تھااور بات صرف اللہ اور رسول (ص) کی مانتا تھا کیونکہ ان کی تربیت حضور(ص) نے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست بنا نے سے پہلے تیرہ سال میں کی تھی۔
جبکہ یہ دونوں نظام پاکستان میں با یک وقت رائج کرنا ہمارے حکمرانوں کا کمال ہے ؟ کیونکہ یہ دونوں قطعی متضاد ہیں جن میں سے جمہوریت پر اب سرمایہ دار قابض ہے اور انسانی مجبوریوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں؟ا س کے برعکس مدینہ منورہ کا دستور انسانیت کی بھلائی اور اس سلسلہ میں جانی اور مالی قربانیوں کانام ہے جوکہ عملی طور پر دنیا میں کہیں بھی نافذ نہیں ہے؟ لیکن ہمارے حکمرانوں کو آفریں ہے کہ وہ 71سال سے بہ یک وقت دونوں پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ نہ گھر کے ہیں اور نہ گھاٹ کے کیونکہ وہ س روش کی وجہ سے دنیا میں اعتبار کھوبیٹھے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاؤں دونوں کشتیوں پر رکھنے کی وجہ سے جو حکومت بھی آئی وہ جھکولے کھاتے کھاتے چلی گئی با حسرت ویاس چلی گئی۔ جبکہ ہمارے ہاں کسی کو بھی اس کا ادراک قطعی نہیں ہے کہ زمینی حقائق با لکل نہیں بدلے ہیں اورآج تک وہی ہیں جو آزادی سے پہلے تھے۔ حتیٰ کہ دیہاتوں میں اسمبلیوں کے حلقہ انتخاب تک مورثی ہیں جوکہ ان کے آبا وا جداد نے کبھی بگڑنے نہیں دیے ،اور جمہوریت کے بھی کل ، پرزے وہی ہیں جن کی اکثریت تھپڑ مارنا تو چھوٹی بات ہے ان میں سے اکثر اپنے مخالفین کو جان سے مروادینے کے عادی ہیں؟ جن میں سے صرف کچھ کو پہلی مرتبہ عمران خان کی قیادت نے للکارا اور تبدیل کیا ہے؟ مگر سب کو نہیں، یہ اتنی بڑی کا میابی ہے۔جس کے لیے عوام قابل مبارکباد ہیں۔ اگر یہ ہی رویہ عوام نے رکھا تو ایک دو انتخابات کے بعد ان زمینی بلاؤں سے ملک پاک ہوسکتا ہے اور عمران خان جیسے حکمراں رہے تو وہ ی کام کر سکتے ہیں،ورنہ وہ بھی دل براشتہ ہو کر ہمت چھوڑدیں گے۔ ابھی تو کام شروع ہی نہیں ہوا ہے آگے چل کر عمران خان کو چو طرفہ لڑائی لڑنا ہوگی؟ جہاں مفاد پرستوں سے قدم قدم پر لڑنا ہوگا اور اس کے لیے ہر قدم پرعوامی حمایت چا ہئے ہوگی؟
جبکہ قوم کی بے صبری کاعالم یہ ہے کہ جس دن نئے ارکانِ اسمبلی حلف اٹھارہے تھے اسی دن پہلا واقعہ یہ ہوگیا کہ سندھ اسمبلی کے ایک رکن نے ایک شخص کے تھپڑ ماردیا جس کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر آگئی فوراً س کا نوٹس لیا گیا عمران خان کی پارٹی نے اس کو شوکاز نوٹس جاری کردیا وہ مجبور ہوا ور اس نے اس عام آدمی کے گھر جاکر معافی بھی مانگ لی اور اس نے معاف بھی کردیا؟ معاف کرنےکی قرآن میں بڑی فضیلت بھی آئی ہےاور اس کو“ مردانگی کا کام فرمایا ہے“ مگر ہمارے ہاں جس طرح بدلہ لیا جاتا ہے وہ ہم آپ سب روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اخباروں میں پڑھتے ہیں۔ جبکہ بدلہ لینے کی بھی قرآن میں اجازت ہے مگر اتنا ہی جتنا کہ کسی کے ساتھ ظلم ہوا ہو ورنہ بدلہ لینے والے کو ظالم کہا گیا ہے؟ اب سوچیئے یہ کیا کم تھا جو چند گھنٹوں میں ہوگیا، جبکہ اس کی فائل ابھی تک بند نہیں ہوئی ہے؟
کیا ایسا کبھی پا کستان کی تاریخ میں پہلے ہوا ہے؟ جواب اعتراض کرنے والوں پر چھوڑتا ہو ں؟ جبکہ معاشرا یہ ہے جس میں کہ عمران خان بر سرِ اقتدر آئے ہیں کہ لوگوں کو زندہ جلادیا گیا، گولیوں سے بھون دیا گیا جس کی مثالیں موجود ہیں کہ کراچی میں ڈھائی سو آدمیوں کو کپڑا فیکٹری میں زندہ جلادیا گیا؟ واقعہ ماڈل ٹاؤن لاہور بھی سامنے ہے جس کو پانچ سال گزر گئے گولیوں سے بھون دیا گیا، مگرکچھ بھی نہیں ہوا؟ افسوس یہ ہے کہ یہ فرق میڈیا کو بھی جوکہ ہر قوم کی آنکھ ہوتی ہے نظر نہیں آیا؟
سیاسی ٹاک شو میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب جوکہ جانے والی صوبائی حکومتِ پنجاب کے نمائندے چند دن ماہ پہلے تک ہوا کرتے تھے؟ وہ عمران خان کو بھی بغیر پرکھے ہوئے اپنے لیڈروں پر قیاس کرکے ارشاد فرمارہے تھے کہ بہت سی باتیں سیاست میں پبلک کنزمشن کے لیے کہی جاتی ہیں، کرنے کے لیے نہیں؟ شاید اس کی وجہ انکا وہ تجربہ تھا کہ انکے لیڈر پارلیمان میں بات کہہ کر مکر جاتے تھے کہ وہ تو سیاسی بیان تھا ؟ ظلم یہ کہ اس پروگرام کے اینکر بھی یہ ہی فرماتے رہے کہ ا بھی تک کچھ نہیں ہوا کم از کم وہ تو سچ کہتے جو کہ صحافتی ایمانداری کا تقاضہ تھا کہ ابھی تو عمران خان حکومت میں آئے بھی نہیں ہیں، بلکہ حکومت تک پہنچنے کے لیے چو مکھی لڑ نے میں بری طرح مصروف ہیں۔ ایسے میں بھی اس میں سے وقت نکال جو کچھ بھی ا نہوں نے فریادی کی دادرسی وہ کم نہیں بلکہ بہت زیاہ ہے۔ وہ بھی اس شہر میں جہاں اخلاقی پستی کا یہ عالم ہو کہ مرنے والے کی بھی پہلے جیبیں ٹٹولتے ہیں، پھر کہیں جاکر کار روائی آگے بڑھتی ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرما ئے ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY